Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں غریب افراد کو بنیادی طبی سہولتوں کی فراہمی کا عہد

تلنگانہ میں غریب افراد کو بنیادی طبی سہولتوں کی فراہمی کا عہد

تلنگانہ میں غریب افراد کو بنیادی طبی سہولتوں کی فراہمی کا عہد سرکاری دواخانوں میں علاج معالجہ کی ابتر حالت سے کارپوریٹ ہاسپٹلس سے رجوع ہونے پر مجبور رشیدالدین

تلنگانہ میں غریب افراد کو بنیادی طبی سہولتوں کی فراہمی کا عہد
سرکاری دواخانوں میں علاج معالجہ کی ابتر حالت سے کارپوریٹ ہاسپٹلس سے رجوع ہونے پر مجبور
رشیدالدین
حیدرآباد۔ 10 جون ۔ ڈپٹی چیف منسٹر اور وزیر صحت ڈاکٹر ٹی راجیا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تلنگانہ ریاست میں کوئی بھی غریب شخص بنیادی طبی سہولتوں سے محروم نہیں رہے گا اور ان کی حکومت ہر گاؤں میں عصری طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائے گی تاکہ غریب عوام کو علاج کے لئے شہری علاقوں کا سفر کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ ڈاکٹر ٹی راجیا جو پیشہ کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں، تلنگانہ ریاست کے پہلے ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کئے گئے ہیں۔ ڈاکٹر راجیا کا تعلق ایس سی طبقہ سے ہے اور ٹی آر ایس سربراہ چندر شیکھر راؤ نے انتخابات سے قبل ایس سی طبقہ کے فرد کو تلنگانہ کا چیف منسٹر بنانے کا اعلان کیا تھا، تاہم پارٹی کے برسراقتدار آنے پر انہوں نے اس طبقہ کو ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ دیا۔ ڈاکٹر راجیا ضلع ورنگل سے تعلق رکھتے ہیں اور پیشہ طب سے وابستگی کے باعث عوام بالخصوص غریب طبقہ میں کافی مقبول ہیں۔ ڈاکٹر راجیا ورنگل میں ’کرانتی چلڈرن اینڈ جنرل ہاسپٹل‘ چلاتے ہیں، ان کی اہلیہ شریمتی ایس فاطمہ میری سینئر لائبریرین ہیں جبکہ ان کے دونوں فرزند ایم بی بی ایس اور ایم ایس ڈگری کے حامل ہیں۔ بڑے فرزند کرانتی راج ای این ٹی اور دوسرے فرزند ویراج جنرل سرجن ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ پر تقرر کے بعد سیاست کو خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر راجیا نے اعتراف کیا کہ سرکاری دواخانوں میں طبی سہولتوں کی کمی کے باعث عوام خانگی اور کارپوریٹ دواخانوں سے رجوع ہونے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ حکومتوں نے غریبوں کو طبی خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں کئی وعدے کئے، لیکن ان پر مناسب عمل آوری نہیں کی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کارپوریٹ دواخانوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوچکا ہے اور عوام کا اعتماد سرکاری دواخانوں پر سے اُٹھنے لگا ہے۔ ڈاکٹر راجیا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تلنگانہ کے تمام اضلاع میں عصری طبی سہولتوں کو سرکاری سطح پر فراہم کرتے ہوئے سرکاری دواخانوں کے معیار کو بلند کریں گے۔ ان کی اولین ترجیح دیہی اور سَلم علاقوں میں غریب خاندانوں کو بہتر خدمات کی فراہمی اور پرائمری ہیلتھ سنٹرس میں ڈاکٹرس اور طبی اسٹاف کی موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سرکاری دواخانوں کی حالت ِزار کو درست کرنے کے لئے مختلف دواخانوں کے اچانک دورے کررہے ہیں اور اس سلسلے میں حیدرآباد کے گاندھی ہاسپٹل کا پہلے ہی دن دورہ کیا جس میں انہوں نے اس عہدہ کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ 54 سالہ ڈاکٹر راجیا دوسری مرتبہ اسٹیشن گھن پور اسمبلی حلقہ سے منتخب ہوئے ہیں۔ 1999ء میں انہوں نے پہلی مرتبہ کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کیا تھا لیکن انہوں نے شکست ہوئی، 2009ء میں انہوں نے تلگو دیشم پارٹی کے سینئر قائد کڈیم سری ہری کو شکست دی۔ تلنگانہ تحریک سے متاثر ہوکر 2011ء میں انہوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی اور ضمنی چناؤ میں کامیاب ہوئے۔ 2014ء عام انتخابات میں وہ بھاری اکثریت سے منتخب ہوئے ہیں۔ وہ ایم بی بی ایس، DCH ڈگری یافتہ ہیں۔ ٹی آر ایس کے ورنگل ضلع میں استحکام کے سلسلے میں ڈاکٹر راجیا نے اہم رول ادا کیا تھا۔ ڈاکٹر راجیا جو اپنی ملنساری کے باعث نہ صرف ورنگل بلکہ دیگر علاقوں میں بھی مقبول ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سیکریٹریٹ میں جتنے وزراء نے ابھی تک اپنے عہدوں کا جائزہ لیا، اُن میں سب سے زیادہ حامی ڈاکٹر راجیا کی ذمہ داری سنبھالنے کے وقت موجود تھے۔ انہیں ہزاروں کی تعداد میں حامیوں کی آمد کے سبب چیمبر کے باہر کھلے عام ذمہ داری سنبھالنی پڑی۔ ڈاکٹر راجیا نے کہا کہ وہ حیدرآباد کے تاریخی عثمانیہ اور گاندھی جنرل ہاسپٹلس میں عوامی خدمات کو بہتر بنانے پر توجہ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ طبی سہولتوں کی فراہمی اور سرکاری دواخانوں کو عصری بنانے کے لئے فنڈس کی کوئی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے پرانے شہر میں واقع سرکاری دواخانوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کا وعدہ کیا اور کہا کہ وہ اس سلسلے میں اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جلد جائزہ اجلاس طلب کریں گے۔ ڈاکٹر راجیا نے کہا کہ وہ علاقہ اور شہر کے نظریہ پر یقین نہیں رکھتے ہیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تلنگانہ کا کوئی بھی گاؤں طبی سہولتوں سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ ہاسپٹلس کی من مانیوں اور بھاری چارجیس کی وصولی کی روک تھام کیلئے بھی اقدامات کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خانگی میڈیکل کالیجس کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری میڈیکل کالیجس میں انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کی نشستوں میں اضافہ کے ذریعہ میرٹ پر آنے والے غریب اور متوسط طبقات کے نوجوانوں کی تعلیم کو یقینی بنایا جائے گا۔ ڈاکٹر راجیا نے کہا کہ ٹی آر ایس نے انتخابی منشور میں عوام سے جو وعدے کئے ہیں، ان پر مکمل عمل آوری کی جائے گی۔ ہر ضلع ہیڈکوارٹر پر سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل قائم کئے جائیں گے اور ہر منڈل سطح پر 4 ڈاکٹروں کے ساتھ 30 بستروں کا دواخانہ قائم کیا جائے گا۔ ہر اسمبلی حلقہ میں 100 بستروں پر مشتمل اِیریا ہاسپٹل قائم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سے نمائندگی کرتے ہوئے تلنگانہ میں ’ایمس‘ کی طرز سوپر اسپیشالیٹی ادارے قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 108 اور 104 ایمبولینس خدمات کو مزید موثر بناتے ہوئے زیادہ سے زیادہ علاقوں تک ان کی رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو ہیلتھ کارڈ کی فراہمی سے متعلق چندر شیکھر راؤ کے وعدہ پر عمل آوری کیلئے جلد ہی پالیسی فیصلہ کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT