Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں فیس باز ادائیگی اور اسکالر شپس کا مسئلہ درپیش

تلنگانہ میں فیس باز ادائیگی اور اسکالر شپس کا مسئلہ درپیش

’فاسٹ‘ کے رہنمایانہ خطوط کی عدم تیاری، طلبہ، اولیائے طلبہ اور انتظامیہ میں تشویش

’فاسٹ‘ کے رہنمایانہ خطوط کی عدم تیاری، طلبہ، اولیائے طلبہ اور انتظامیہ میں تشویش
حیدرآباد ۔ 8 ڈسمبر (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے فیس باز ادائیگی اور اسکالر شپ کی اجرائی کیلئے تیار کردہ نئی اسکیم ’’فاسٹ‘‘ کے رہنمایانہ خطوط تاحال تیار نہیں ہوپائے ہیں اور سابق میں فیس باز ادائیگی کے جو بقایہ جات کالج انتظامیہ کو ادا شدنی ہیں ان کی ادائیگی کے سلسلہ میں حکومت کا رویہ ناقابل فہم ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی فراہمی کے اعلانات کئے تھے اور انتخابات میں کامیابی کے حصول کے بعد یہ اعلان کیا کہ کے جی تا پی جی مفت تعلیم کے منصوبہ کو قابل عمل بنانے کیلئے ایک سال کی مدت درکار ہے اور آئندہ برس سے حکومت اس منصوبہ کو قابل عمل بنائے گی۔ حکومت کی جانب سے فیس باز ادائیگی کے بقایا جات کی عدم ادائیگی کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ بتدریج انتہائی ابتر ہوتی جارہی ہے اور گذشتہ یوم ایک خانگی انجینئرنگ کالج کے پارٹنر نے سرمایہ کاری سے منافع حاصل نہ ہونے اور سرمایہ کاری کیلئے ادا کردہ 25 لاکھ روپئے کی عدم وصولی پر خود کشی کرلی ہے۔ ذرائع کے بموجب متوفی کو منافع و اصل رقم کی ادائیگی میں کالج انتظامیہ اس لئے ناکام ہوا کہ حکومت کی جانب سے فیس باز ادائیگی میں گذشتہ دو برس سے ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے۔ حکومت تلنگانہ نے فیس باز ادائیگی اسکیم میں موجود خامیوں کو دور کرنے اور بے قاعدگیوں سے پاک بنانے کیلئے اسکیم کو نئے نام ’’فاسٹ‘‘ کے ذریعہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اب جبکہ تعلیمی سال شروع ہوئے 6 ماہ سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن اس کے باوجود اسکالر شپس و فیس باز ادائیگی کیلئے درخواستوں کی ادخال تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا جس سے طلبہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی جانب سے حکومت کی تمام تر اسکیمات بہتر اور بے قاعدگیوں سے پاک بنانے کے اقدامات کے اعلانات کئے جارہے ہیں لیکن اسکیمات پر عمل آوری کا اگر جائزہ لیا جائے تو حالات انتہائی ابتر ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے خانگی انجینئرنگ کالجس کو بقایہ جات کی اجرائی کے سلسلہ میں تاحال کوئی واضح احکام موصول نہیں ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود موصولہ اطلاعات کے بموجب محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے گذشتہ دو برسوں سے ادا شدنی بقایہ جات کی رقومات میں سے 25 فیصد رقومات کی اجرائی کویقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہیکہ اسکالرشپس و فیس باز ادائیگی کی درخواستوں کے ادخال کی تاریخ کا اعلان اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حکومت کی جانب سے قطعی طور پر فاسٹ اسکیم کیلئے رہنمایانہ خطوط کی اجرائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔

TOPPOPULARRECENT