Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم جاری رکھنے کا فیصلہ

تلنگانہ میں فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم جاری رکھنے کا فیصلہ

آندھرائی طلبہ کی فیس باز ادائیگی سے ریاستی حکومت کا انکار،چیف منسٹر کے موقف سے تمام جماعتوں کا اتفاق

آندھرائی طلبہ کی فیس باز ادائیگی سے ریاستی حکومت کا انکار،چیف منسٹر کے موقف سے تمام جماعتوں کا اتفاق

حیدرآباد ۔16 ۔ جون ۔ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی طلباء کیلئے فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے آج شام اس مسئلہ پر کل جماعتی اجلاس طلب کیا ، جس میں متفقہ طور پر اس اسکیم کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ حکومت نے فیصلہ کیا کہ وہ صرف تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے طلباء پر یہ اسکیم عمل کرے گی جبکہ سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے طلباء کی فیس حکومت آندھراپردیش کو ادا کرنی ہوگی۔ تلنگانہ حکومت نے فیصلہ کیا کہ آندھراپردیش میں زیر تعلیم تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے طلباء کی تعلیمی فیس بھی وہ ادا کرے گی ۔ چیف منسٹر نے اپوزیشن قائدین کو اسکیم پر عمل آوری کے طریقہ کار سے واقف کرایا اور کہا کہ حکومت کا مقصد تلنگانہ طلباء کا تحفظ کرنا ہے اور اس اسکیم کو جاری رکھتے ہوئے ان کے تعلیمی مستقبل کا تحفظ کیا جائے گا ۔ اجلاس میں شریک تمام جماعتوں نے حکومت کے اس موقف سے اتفاق کیا کہ تلنگانہ حکومت اور آندھراپردیش حکومت کو اپنی اپنی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کی فیس ادا کرنی چاہئے ۔ سابق میں جن قواعد کے تحت اس اسکیم پر عمل کیا جارہا تھا ، انہی کو برقرار رکھا جائے گا اور تعلیمی سرٹیفکٹ کی بنیاد پر امیدوار کے مقامی ہونے کا تعین کیا جائے گا جبکہ انکم سرٹیفکٹ کی بنیاد پر استفادہ کنندگان کا انتخاب ہوگا۔ اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر تعلیم جگدیش ریڈی نے کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کے بارے میں طلباء کو فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔

گزشتہ کی طرح یہ اسکیم برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں زیر تعلیم آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے طلباء کی تعلیمی فیس تلنگانہ حکومت ادا نہیں کرے گی بلکہ آندھراپردیش حکومت کو یہ خرچ برداشت کرنا ہوگا ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اقلیتی طلباء کیلئے بھی دیگر طبقات کی طرح اسکیم پر عمل آوری ہوگی ۔ اعداد و شمار کے مطابق 464 طلباء کا تعلق تلنگانہ سے ہے جو آندھراپردیش میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ 1125 اقلیتی طلباء کا تعلق آندھراپردیش ہے لیکن وہ تلنگانہ میں زیر تعلیم ہیں۔ اس اسکیم کے تحت جملہ 14 لاکھ 25 ہزار طلباء کا احاطہ کیا گیا ہے جن میں ایک لاکھ 23 ہزار 903 کا تعلق اقلیت سے ہے۔ اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی کیلئے اقلیتی طلباء کو 246 کروڑ 48 لاکھ کا بجٹ درکار ہے جبکہ 82 کروڑ 81 لاکھ روپئے منظور کئے گئے ۔ مینجمنٹ کوٹہ اور فاصلاتی تعلیم کے زمرہ میں آنے والے طلباء کیلئے یہ اسکیم لاگو نہیں ہوگی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صرف 9 فیصد اقلیتی طلباء اس اسکیم سے استفادہ کر رہے ہیں ۔ عہدیداروں نے پیشہ ورانہ کورسس اور ان کے کالجس کی تفصیلات بھی اجلاس میں پیش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ فیس باز ادائیگی اسکیم کیلئے آندھراپردیش حکومت کو 196 کروڑ روپئے ایسے طلباء پر خرچ کرنے ہوں گے جو تلنگانہ میں زیر تعلیم ہیں جبکہ تلنگانہ حکومت آندھرا میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کیلئے 56 کروڑ روپئے جاری کرے گی ۔ اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی ، وزیر فینانس ای راجندر ، وزیر آبپاشی ہریش راؤ ، وزیر تعلیم جگدیش ریڈی کے علاوہ بنڈارو دتاتریہ، ڈاکٹر کے لکشمن (بی جے پی) ، ڈی سرینواس ، ڈاکٹر گیتا ریڈی (کانگریس) ، آر کرشنیا (تلگو دیشم) ، سرینواس گوڑ (ٹی آر ایس ) شریک تھے۔ عہدیداروں میں چیف سکریٹری راجیو شرما کے علاوہ پرنسپل سکریٹریز جے ریمنڈ پیٹر ، ٹی رادھا اور مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور شریک تھے۔

TOPPOPULARRECENT