Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں مزید 131 اقامتی اسکولوں کا جاریہ تعلیمی سال سے آغاز

تلنگانہ میں مزید 131 اقامتی اسکولوں کا جاریہ تعلیمی سال سے آغاز

ریاست میں کارپوریٹ طرز کی معیار تعلیم فراہم کرنے ٹی آر ایس حکومت کا عزم
حیدرآباد ۔ 6۔ جون (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کیلئے 201 اقامتی اسکولوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جن میں 70 اقامتی اسکول گزشتہ سال قائم کئے گئے  جبکہ 131 اسکولوں کا جاریہ تعلیمی سال سے آغاز ہوگا۔ حکومت نے کارپوریٹ طرز کی معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے اسکولوں کے قیام کا اعلان کیا لیکن ان میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات کے سلسلہ میں بڑے پیمانہ پر بے قاعدگیوں کی شکایات ملی ہیں۔ شہر اور اضلاع میں تقررات کے سلسلہ میں باقاعدہ منظم گروہ سرگرم دکھائی دے رہے ہیں جو اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی میں شامل بعض افراد سے ملی بھگت رکھتے ہیں۔ سوسائٹی میں شامل بعض افراد کی سرپرستی کے ذریعہ تقررات کے سلسلہ  میں دھاندلیاں کی جارہی ہیں اور اطلاعات کے مطابق قابل اور اہل درخواست گزاروں کو مسترد کرتے ہوئے غیر اہل امیدواروں سے بھاری رقومات حاصل کرتے ہوئے تقررات عمل میں لائے جارہے ہیں۔ حکومت نے ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ عمل میں لانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں کمیشن نے اعلامیہ بھی جاری کردیا۔ ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات میں تاخیر کو دیکھتے ہوئے نئے 130 اسکولوں کے آغاز کو یقینی بنانے کیلئے جز وقتی ٹیچنگ اسٹاف کے تقرر کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن ان تقررات میں دھاندلیوں کے سبب اہل امیدوار محروم ہے جس کا اثر اسکولوں کے معیار تعلیم پر پڑ سکتا ہے ۔ مختلف اضلاع  میں تلگو میڈیا نے اقلیتی اقامتی اسکولوں کے تقررات میں جاری بے قاعدگیوں کو بے نقاب کیا لیکن افسوس کہ حکومت نے ملوث افراد کے خلاف ابھی تک کارروائی نہیں کی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ عوامی نمائندے اور مختلف سرکاری اداروں کے صدور نشین تقررات کے سلسلہ میں اثرانداز ہورہے ہیںاور وہ متعلقہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کے ذریعہ اپنی پسند کے امیدواروں کے نام ضلع کلکٹر کو روانہ کر رہے ہیں۔ کئی امیدواروں نے شکایت کی کہ ان سے تقررات کے نام پر بھاری رقومات حاصل کی گئیں۔ گزشتہ سال تقررات کیلئے ایک رکروٹنگ ایجنسی کا انتخاب کیا گیا تھا اور بتایا جاتا ہے کہ سوسائٹی سے وابستہ ایک عہدیدار کے قریبی شخص کی یہ ایجنسی تھی ۔ گزشتہ سال بھی تقررات کے سلسلہ میں بڑے پیمانہ پر دھاندلیاں کی گئیں۔ لہذا جاریہ سال رکروٹنگ ایجنسی کے بجائے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر اور ضلع کلکٹر کے ذریعہ ناموں کے حصول کا فیصلہ کیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس معاملہ میں بھی کئی بے قاعدگیاں کی جارہی ہیں اور قابل اور مستحق امیدواروں کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ امیدواروں نے شکایت کی کہ دھاندلیوں میں ملوث افراد کی اقامتی اسکول سوسائٹی کے بعض افراد سے ملی بھگت ہے ، جن کا عہدیداروں کے پاس خاصہ اثر ہے جس کے نتیجہ میں کوئی بھی ان کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کریم نگر ، جگتیال اور بعض دیگر علاقوں میں کی گئی دھاندلیوں کی شکایات چیف منسٹر کے دفتر کو موصول ہوئی ہیں اور حکومت کے مشیر اے کے خاں کو اس معاملہ کی جانچ کی ہدایت دی گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ کریم نگر اور جگتیال میں مقامی ٹی آر ایس قائدین نے بعض اہل امیدواروں کے تقرر کو کالعدم کردیا تھا ۔ تاہم بعد میں کلکٹر کی مداخلت پر بحال کرنا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق بعض افراد اپنی پسند کے امیدواروں کے تقررات کیلئے چیف منسٹر اور ان کے رشتہ داروں کے نام کا استعمال کر رہے ہیں۔ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی عملاً ایک خود مختار ادارہ کی طرح کام کر رہی ہے اور اس کی سرگرمیوں پر حکومت کی کوئی خاص نگرانی نہیں ۔ بجٹ کے استعمال کے سلسلہ میں بھی سوسائٹی پر من مانی رقومات کے استعمال کی شکایات ملی ہیں۔ عہدیداروں کیلئے چیمبرس کی تیاری اور گاڑیوں کی فراہمی پر بھاری رقومات خرچ کی جارہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن سے وابستہ ایک ملازم کو سوسائٹی کے خرچ پر کار فراہم کی گئی جبکہ کارپوریشن میں عہدہ کے اعتبار سے اس ملازم کو کار کے استعمال کا حق نہیں ہے ۔ نئے قائم ہونے والے 130 اقامتی اسکولوں میں مختلف انفراسٹرکچر اور ضروری سامان کی سربراہی کے معاملہ میں بھی مختلف شکایات منظر عام پر آئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اسکولوں کے درکار اشیاء بشمول کمپیوٹرس ، فرنیچرس ، الیکٹرانک ایٹمس اور دیگر سامان کی خریدی کے سلسلہ میں ایک مخصوص ایجنسی کو ذمہ داری دی جارہی ہے جس میں خود سوسائٹی سے وابستہ افراد بے نامی طور پر اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ اس طرح لاکھوں روپیوں کی خریداری کمیشن کی بنیاد پر کی جارہی ہے ۔ اس طرح اقامتی اسکول سوسائٹی کے بجٹ کا غلط استعمال ہورہا ہے اور کوئی جوابدہی طلب کرنے والا نہیں۔

TOPPOPULARRECENT