تلنگانہ میں مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے تحفظات از حد ضروری

پرانا شہر تلنگانہ کی اصل پہچان ۔ حیدرآبادی تہذیب اور ورثہ کا احیاء عمل میں لانے پر زور : شریمتی سندھیا کا اظہار خیال

پرانا شہر تلنگانہ کی اصل پہچان ۔ حیدرآبادی تہذیب اور ورثہ کا احیاء عمل میں لانے پر زور : شریمتی سندھیا کا اظہار خیال

حیدرآباد۔11مارچ(سیاست نیوز) ریاست حیدرآباد کو انڈین یونین میںشامل کرنے کے بعد تلنگانہ میںمسلمانوں کے ساتھ ناانصافیوں کے خاتمے کیلئے نئی ریاست میں مسلمانو ں کو آبادی کے تناسب سے تمام شعبہ حیات میں بارہ فیصد تحفظات فراہم کرنے کی حمایت کرتے ہوئے صدر پی اوڈبیلو و ٹی جے اے سی اسٹرینگ کمیٹی رکن شریمتی سندھیا نے کہاکہ حیدرآباد کے انڈین یونین میں شامل ہونے اور مابعد متحدہ ریاست کے قیام کے سب سے بڑا نقصان مسلمانوں کو ہوا۔انہوں نے علیحدہ تلنگانہ کی جدوجہد کو جل ‘ جنگل اور زمین کو آندھرائی قائدین اور سرمایہ داروں سے آزاد کرانے کی جنگ قراردیتے ہوئے کہاکہ لاکھوں ایکڑ قیمتی وقف اور صرفخاص کی اراضیات پر غاصبانہ قابض حکمرانوں اور سرمایہ داروں نے تلنگانہ کے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔شریمتی سندھیانے کہاکہ متحدہ ریاست کے قیام سے قبل سرکاری محکموں میںمسلمانوں کا تناسب چالیس فیصد کے قریب تھا جو اب ایک فیصد سے بھی کم ہوکر رہ گیا ہے۔ شریمتی سندھیا نے علیحدہ تلنگانہ تحریک کے مقاصد کو پورا کرنے ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی اور مسلم اکثریت والے علاقوں کا جائز ہ ضروری ہے۔

انہوں نے کہاکہ مذکورہ علاقوں کی عوام کو درپیش مسائل سے اگاہی اور حل کو یقینی بنانے پسماندگی کا شکار طبقات کے بشمول مسلمانوں کو جمہوری حقوق فراہمی ضروری ہے ۔ انہو ںنے کہاکہ سیاسی شعبوں میں مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی کے مواقع دئے جانے چاہئیں۔ انہوں نے قدیم شہر حیدرآباد کو تلنگانہ کی پہچان قراردیتے ہوئے کہاکہ 60 سال میں تاریخی شہر حیدرآباد کی تہذیب اور ثقافت کو تباہ کرنے نے کاکام آندھرائی حکمرانوں نے انجام دیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حیدرآباد کی قدیم تہذیبی ثقافت کو بچانے آندھرائی حکمرانوں نے ٹھوس اقدامات نہیں کئے جبکہ تلنگانہ کی چارکروڑ عوام کے دلوں قدیم شہر حیدرآباد دھڑکن بن کردھڑکتا ہے۔ انہوںنے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے ساتھ ہی قدیم شہر حیدرآباد کی تہذیبی وثقافتی ورثہ کے احیا کو لازمی قرار دیا۔ سندھیا نے غربت کاشکار مسلم خواتین پر مظالم‘ معاشی پریشانیوں کے سبب بیرونی ممالک میںاپنی لڑکیوں کی شادی کیلئے مجبورو لاچار سرپرستوںکی معاشی پریشانیوں کو دور کرکے غربت کا شکار مسلم خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ انصاف کو بھی مستقبل کے تلنگانہ ایجنڈے میںشامل کرنے پر زوردیا۔

سندھیا نے کہاکہ ریاست کے سالانہ بجٹ میں مسلمانوں کیلئے علیحدہ سب پلان اور قدیم شہر حیدرآباد میں چھوٹی صنعتوں کے قیام کے ذریعہ معاشی پسماندگی کاشکار طبقات بالخصوص مسلمانوں کو روزگار کی فراہم کرنے سے مسلمانوں کی حالت زار میں تبدیلی آئیگی۔سندھیا نے کہاکہ خواتین تحفظات بل میں ترمیمات کے ذریعہ اوبی سی خواتین کو آبادی کے تناسب سے تحفظات اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کابھی مطالبہ کیا۔ سندھیا نے مجوزہ ریاست تلنگانہ میں پسماندگی کا شکار طبقات کو آبادی کے تناسب سے تحفظات کی فراہمی کوسنہری تلنگانہ ریاست کی تشکیل میں معاون قراردیا

TOPPOPULARRECENT