تلنگانہ میں مسلمانوں کو تحفظات اور مراعات، کانگریس کے منشور میں شامل : محمد علی شبیر

فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف سیکولر ووٹ کے اتحاد پر گول میز کانفرنس، محمد مشتاق ملک اور دیگر کا خطاب

فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف سیکولر ووٹ کے اتحاد پر گول میز کانفرنس، محمد مشتاق ملک اور دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔12اپریل(سیاست نیوز) آزاد ہندوستا ن کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انتخابات نظریاتی جنگ کی شکل اختیار کرچکے ہیں جس سے مقابلہ کے لئے قومی سطح پر سکیولر طاقتوں کا اتحاد ناگزیر ہے۔ تحریک مسلم شبان کے زیر اہتمام فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف سکیولر ووٹ کا اتحاد کے عنوان پر منعقدہ گول میز کانفرنس سے صدراتی خطاب کے دوران جناب مشتاق ملک ان خیالا ت کا اظہار کررہے تھے۔اس کانفرنس میں کانگریس اور ٹی آر ایس کی نمائندہ شخصیتو ں کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاہم صرف کانگریس سے رکن قانون ساز کونسل وسابق ریاستی وزیر محمد علی شبیر نے شرکت کی ۔ اس کے علاوہ کارگذار صدر سنی علماء بورڈمولانا حامد حسین شطاری‘ صدر ایچ اے ایس انڈیا مولانا سید طار ق قادری ‘ مفتی نعیم الدین‘ڈاکٹر انیس صدیقی‘ ولی الرحمن ایڈوکیٹ‘ ایم اے فاروق‘ عبدالحمید شوکت‘محمدفرید‘نواب عبدالصمد کے علاوہ تلنگانہ کے دس اضلاع کے مذہبی‘ سماجی ‘ فلاحی تنظیموں سے وابستہ نمائندہ اشخاص نے بھی کانفرنس میںشرکت کی۔ اپنی تقریر کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے جناب محمد مشتاق ملک نے کہاکہ مجوزہ انتخابات آر ایس ایس بمقابلہ سکیولرازم ہے اور اس مقابلہ میں سکیولرازم کی کامیابی قومی سالمیت کی حفاظت ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میںقومی سالمیت کو سب سے زیادہ خطرہ ہے فرقہ پرستوں کے ناپاک منصوبوں سے متعلق تحریک مسلم شبان اور تلنگانہ مسلم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کانگریس اور ٹی آر ایس سے متواتر مشاورت کی مگر ٹی آرایس سے مشاورت کے بعد ہمیں اندازہ ہوگیا کہ ٹی آر ایس سربراہ ریاست ِ تلنگانہ میںاقتدار حاصل کرنے کے لئے مرکز میں این ڈی کی تائید بھی کرسکتی ہے جو سکیولر ازم کے عین خلاف فیصلہ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی بھی کوئی دودھ کی دھلی سیاسی جماعت نہیں ہے مگر اس وقت فرقہ پرستوں کو اقتدار سے محروم کرنے کے لئے کانگریس پارٹی کو اقتدار پر فائز کرنا ضروری ہے۔انہوں نے مسلمانوں کو متحدہوجانے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ مسلکی اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلمانو ںکو ایک پلیٹ فارم پر آنے کی ضرورت ہے اور مسلمانو ںکو متحدکرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم کی تکمیل بھی کانفرنس کا اصل مقصد ہے۔ جناب مشتاق ملک نے کہاکہ فرقہ پرست طاقتوں کے ناپاک منصوبو ں سے عوام کو واقف کروانے بالخصوص سکیولر ووٹرس کو متحد کرنے کے لئے تلنگانہ مسلم متحدہ فرنٹ کا قیام عمل میں لانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے

جس میں تمام کی اتفاق رائے کے ذریعہ منظور کئے جانے کے بعدعملی جامعہ پہنایا جائے گا۔مولانا سید طار ق قادری نے کہاکہ کانگریس اور بی جے پی ایک سکے کے دور خ ہیں اور کانگریس تو پچھلے ساٹھ سالوں سے مسلمانوں کو فرقے پرست طاقتوں کے نام سے خوف دلاتے ہوئے ووٹ بینک کی طرح استعمال کرتے آرہی ہے تو دوسری طرف ریاستی سطح پر تلنگانہ کے مسلمانو ں کے ساتھ دھوکے بازی کرنے کا ٹی آر ایس سربراہ مسٹر کے چندرشیکھر رائو پر الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ تحریک میں ہر محاذ پر مسلمانوں نے ٹی آر ایس سربراہ کا بھر پور ساتھ دیا مگر تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے فوری بعد عام انتخابات کا اعلان ہوا تو ٹی آر ایس سربراہ کے چندرشیکھر رائو کا حقیقی چہرہ آشکار ہوگیا۔ انہوں نے کہاکہ ٹی آر ایس کے سکیولر ذہن کے حامی امیدوار وں کو چھوڑ کر ٹی آر ایس سربراہ اور ان کے ارکان خاندان کے خلاف مسلمانوں کے اندر شعور بیداری مہم چلانے کا بھی اس موقع پر اعلان کرتے ہوئے کہاکہ ٹی آر ایس سربراہ اور ان کے ارکان خاندان کو اقتدار سے روکنا ہی تلنگانہ میںمسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔ اس دوران رکن قانون سازکونسل وکانگریس قائد جناب محمد علی شبیر نے کانگریس پارٹی کی جانب سے اپنی نمائندگی پیش کرتے ہوئے کانگریس کے انتخابی منشور 2014کا حوالہ دیا اور کہاکہ کانگریس تلنگانہ میں مسلمانوں کو موثر انداز میں تحفظات اور مراعات پیش کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کے حساس مسائل اور ان کے حل کے متعلق کانگریس پارٹی نے اپنے انتخابی منشور2014میںچار صفحات پر مشتمل تجاویز کو شامل کیا ہے اور اگر کانگریس تلنگانہ میں اقتدار پر ْآتی ہے تومذکورہ تمام تجاویز پر عمل کیا جائے گا۔ بعد ازاں گول میز کانفرنس کے شرکاء نے صدر اجلاس کی تجویز برائے تشکیلِ تلنگانہ مسلم متحدہ فرنٹ کو منظوری دیتے ہوئے فرنٹ کے کنونیر صدر تحریک مسلم شبان جناب مشتاق ملک کو مقرر کیا اور مستقبل قریب میں فرنٹ کی کمیٹی اور ضلعی سطح پر کنونیرز کے ناموں کو قطعیت دینے کی اعلان بھی کیا ۔ اور فرنٹ کے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے کہاکہ فرنٹ تلنگانہ کے تمام اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار سے روکنے کاکام کرے گا اور مسلمانوں کے علاوہ سکیولر ووٹوں کو متحد کرتے ہوئے مخالف مسلم طاقتوں کے خلاف منظم انداز کی تحریک چلائی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT