Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں مسلم ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ بھی بے فیض!

تلنگانہ میں مسلم ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ بھی بے فیض!

سروے فارم میں اردو ندارد، وعدوں پر عمل غیریقینی، سروے پر سیاست کی شعوربیداری مہم

سروے فارم میں اردو ندارد، وعدوں پر عمل غیریقینی، سروے پر سیاست کی شعوربیداری مہم
حیدرآباد ۔ 9 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سرکاری طور پر عمل میں لائے جانے والا سب سے بڑا کام 19 اگست کے دن ہونے والا ’’گھر گھر سروے‘‘ ہے جوکافی اہمیت اور مسلم اقلیت کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد اور قبل مسلم اقلیت سے کئے گئے وعدوں پر سرکاری اسکیمات، طبی تعلیم ترقیاتی ترغیبی ترجیح اسکیمات، تقررات، مراعات ان سب پر عمل کیلئے اہل افراد اور ان کا اہم موقوف مستحق ہونا ضروری ہے اور اس کیلئے مجوزہ سروے سے جانچ کی جائے گی۔ تاہم دوسری طرف دیگر حکومتوں کی طرح موجود تلنگانہ کی حکومت نے بھی اردو کو نظرانداز کردیا ہے حالانکہ اردو زبان والوں کی کثرت حیدرآباد کے علاوہ تلنگانہ کے دیگر اضلاع میں بھی پائی جاتی ہے۔ اب تک متحدہ ریاست میں آندھرا اور رائلسیما کے قائدین کے تسلط کے سبب اردو کو موقع نہ ملنے کی دہائی دی گئی لیکن اب تلنگانہ کے پہلے بڑے اور انتہائی اہمیت کے حامل سروے کے فارمس میں اردو زبان کو عملاً نظرانداز کردیا گیا۔ تلنگانہ کے عوام کو ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمود علی سے کافی توقعات وابستہ ہیں کہ آیا ایک مسلم نمائندہ کو چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے اہم عہدہ دیکر مسلم اقلیت کو قریب کرلیا لیکن یہ عہدہ بھی بے فیض ثابت ہوتا نظر آرہا ہے۔ مسلم اقلیت کے ساتھ سوتیلا سلوک اور اردو کو نظرانداز کرنے کا سلسلہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ سروے ایک انتہائی اہم کام ہے اور سرکاری طور پر اس دن 19 اگست کو تعطیل کا اعلان بھی ہوچکا ہے اور اب صرف 10 دن باقی رہ گئے ہیں۔ قارئین سیاست کی خدمت میں اور مسلم سماج کے لئے اہم اس مسئلہ پر سیاست اخبار نے اشتہار بھی جاری کیا ہے تاکہ 19 اگست کے دن کی تیاری اردو داں طبقہ کے علاوہ ہر وہ مسلم خاندان کرلیں تاکہ وہ ہر طرح سے تیار رہیں ۔ سیاست ہر موڑ پر مسلم اقلیت کی نمائندگی میں ہمیشہ آگے رہا ہے۔ حیدرآباد کے بیشتر سلم علاقوں میں مسلم اقلیت کی اکثریت پائی جاتی ہے اور تعلیم کا ذوق رکھنے والے بیروزگار نوجوان سرکاری ملازمتوں میں شراکت داری کے خواہشمند، خودروزگار اسکیمات سے مستفید ہونے، خواتین کے گروپس ان گروپ کے ذریعہ خواتین کی بہبود کیلئے کروڑہا روپئے مختص کئے جارہے ہیں لیکن مسلم اکثریتی علاقوں کی خواتین اس سے غیرمستفید ہیں اس کے علاوہ راشن کارڈز، طبی اور تعلیم سہولیات، پاسپورٹ کے لئے سروے سے مستفید ہونا انتہائی ضروری ہے۔ جس دن 19 اگست کو سروے ہوگا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے مکانات میں موجود رہنے کے علاوہ ہر ایک تفصیل کو بغور درج کروائیں اور مکمل تفصیلات اور فارم مکمل ہونے تک عہدیدار کی مدد کریں۔ اکثر مقامات پر عہدیدار کام کے بوجھ اور وقت کی کمی و دیگر بہانے بنا کر یہ شرط رکھتے ہیں کہ وہ صرف فارم پر دستخط کریں باقی کا کام وہ خود کرلیں گے۔ ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہئے چونکہ سروے کہ فارم میں جو اس کے متعلق درج ہوگا وہ قطعی ہوگا جس کے بعد آپ مستقبل میں اس سے ہٹ کر کچھ بھی نہیں کرسکتے لہٰذا وقت آپ کے پاس ہے اور آپ خود اس سے فائدہ حاصل کریں تاکہ بعد میں پچھتاوا نہ ہو۔ لہٰذا آپ اور آپ کے بچوں کے مستقبل کیلئے سروے کو کامیاب بنائیں۔

TOPPOPULARRECENT