Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں مشن بھاگیرتا پر43 ہزار کروڑ روپئے کا خرچ

تلنگانہ میں مشن بھاگیرتا پر43 ہزار کروڑ روپئے کا خرچ

گھر گھر پینے کے پانی کی سربراہی ، مشن کی عدم تکمیل پر ٹی آر ایس انتخابات میں عوام سے رجوع نہیں ہوگی

حیدرآباد۔ 24 اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ تلنگانہ، ملک کی واحد ریاست ہے جس نے اپنے لئے خود چیلنج قبول کرئتے ہوئے ریاست کے کونے کونے تک نلوں کے ذریعہ صاف ستھرا پینے کا پانی سربراہ نہ کرنے کی صورت میں آئندہ عام انتخابات کے دوران ووٹ مانگنے کیلئے عوام سے رجوع نہ ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے حکومت نے مشن بھاگیرتا کے کاموں کا آغاز کیا ہے۔ اس منفرد اسکیم پر 43 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ ریاست کے وقار کا احترام کرنا عہدیداروں اور عوامی منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے۔ ڈسمبر کے اواخر تک تمام تعمیری کام مکمل کرتے ہوئے یکم جنوری سے نئے سال کے تحفہ کے طور پر نئے پراجیکٹ کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے آج پرگتی بھون میں مشن بھاگیرتا پراجیکٹ کے تعمیری کاموں کا اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ لیا۔ اس اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری، وزراء ایٹالہ راجندر، پوچارام سرینواس ریڈی، اندرا کرن ریڈی، ٹی ناگیشور راؤ، جگدیش ریڈی، جے کرشنا راؤ، مہیندر ریڈی ، ڈپٹی اسپیکر پدمادیویندر ریڈی، نائب صدرنشین مشن بھاگیرتا وی پرشانت ریڈی، ارکان اسمبلی ای دیاکر راؤ، منچی ریڈی کشن ریڈی، سی رام موہن ریڈی، سدھیر ریڈی، بی گوردھن ریڈی، رکن راجیہ سبھا کیپٹن لکشمی کانت راؤ، چیف سیکریٹری ایس پی سنگھ، سیکریٹری چیف منسٹر سمیتا سبھروال کے علاوہ دوسرے عہدیدار موجود تھے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست کا باوقار پراجیکٹ ہے۔ ڈسمبر کے اواخر تک ریاست کے تمام دیہاتوں کے مکانات تک نلوں کے ذریعہ صاف ستھرا پینے کا پانی پہونچ جانا چاہئے۔ مقررہ وقت سے قبل انٹیک ویلس، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تعمیرات مکمل کرتے ہوئے پانی کی سربراہی کو یقینی بنانا چاہئے۔ ماہ ستمبر سے پمپنگ کا آغاز کیا جائے اور ڈسمبر تک صدفیصد کاموں کو مکمل کرلیا جائے۔ مشن بھاگیرتا تلنگانہ کو نئی زندگی عطا کرنے والا پراجیکٹ ہے لہذا عہدیدار، عوامی منتخب نمائندے اور ورکنگ ایجنسیاں مقصد کے حصول کیلئے دن رات کام کریں۔ کبھی بھی کوئی بھی معاملہ درپیش آئے، اس کو فوری حکومت سے رجوع کیا جائے۔ ہر مسئلہ کا حل برآمد کرنے کیلئے حکومت پوری طرح تیار ہے۔ اتنا بڑا پراجیکٹ ملک کی کسی بھی ریاست میں نہیں ہے۔ اس پراجیکٹ پر 43 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ حکومت نے اپنے لئے خود بہت بڑا چیلنج قبول کیا ہے۔ وہ خود مختلف مقامات کا دورہ کرتے ہوئے پراجیکٹ کے تعمیری کاموں کا جائزہ لیں گے۔ وزراء، ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی اور دوسرے قائدین بھی دورے کرتے ہوئے تعمیری کاموں کی نگرانی کریں۔ اجلاس میں ریاست کے مختلف علاقوں میں جاری تعمیری کاموں، انٹیک ویلس، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، برقی کی سربراہی، ورکنگ ایجنسیوں کی کارکردگی کے علاوہ دوسرے اُمور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ 19 کے منجملہ 16 انٹیک ویلس کی تعمیرات مکمل ہوگئی۔ عنقریب ماہانہ تعمیرات کی تکمیل کی جائے گی۔ 50 کے منجملہ 15 ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تعمیرات مکمل ہوگئی۔ بہت جلد مزید 27 کی تعمیرات مکمل ہوجائیں گی۔ ماباقی 8 ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تعمیرات تیزی سے جاری ہے۔ 49,238 کیلومیٹر کے منجملہ 43,427، 88% پائپ لائن تیار ہوچکی ہیں۔ 421 کے منجملہ 247 سمپس کی تعمیرات ہوچکی ہیں۔ 143 کے منجملہ 73 جی ایل بی آر کی تکمیل ہوگئی۔ 562 کے منجملہ 192 او ایچ بی آر مکمل ہوگئے۔ 248 کے منجملہ 51 پمپ ہاؤز کی تعمیرات ہوگئی۔ ماباقی بہت جلد تعمیرہوجائیں گے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ محکمہ برقی کی جانب سے سب اسٹیشن، برقی لائن، ٹرانسفارمرس کے کام شیڈول کے مطابق جاری ہیں۔ پراجیکٹ کے تمام کام ڈسمبر کے اواخر تک مکمل ہوجائیں گے۔ چیف منسٹر نے یکم جنوری سے دیہی عوام کو نئے سال کے تحفہ طور پر نلوں سے صاف پانی سربراہ کرنے کے اقدامات کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ہے۔ اس کے بعد اندرون چھ ماہ دیہاتوں میں ٹینکس کی تعمیرات پائپ لائن کے انتظامات، نلوں کی تنصیب جیسے کاموں کو انجام دینے پر زور دیا۔ آئندہ ماہ سے انٹیک ویلس کے ذریعہ ڈبلیو ٹی پی کے تحت پینے کا پانی پمپنگ کے کاموں کا آغاز کرنے کا مشورہ دیا۔ چیف منسٹر کے سی آر نے عہدیداروں کو بتایا کہ تلنگانہ حکومت نے تین پروگرامس کو باوقار کے طور پر قبول کیا ہے۔ جن میں پہلا بلاوقفہ برقی کی سربراہی، دوسرا کسانوں کی زرعی اراضی کو سیراب کرنے کیلئے پانی، تیسرا صاف ستھرا پانی نلوں کے ذریعہ سربراہ کرنا۔ برقی بحران پر حکومت قابو پاچکی ہے۔ بلاوقفہ معیاری برقی کی سربراہی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ 45% زرعی پمپ سیٹس کو چوبیس گھنٹے برقی سربراہ کی جارہی ہے۔ عنقریب صدفیصد سربراہ کی جائیں گی۔ برقی شعبہ میں بڑی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ زرعی اراضی کو سیراب کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر آبپاشی پراجیکٹس تعمیر کئے جارہے ہیں۔ آبپاشی پراجیکٹس کی تعمیرات کیلئے بجٹ میں 25 ہزار کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کرتے ہوئے دوسرے مالیاتی اداروں سے بھی فنڈز حاصل کئے جارہے ہیں۔ جاریہ سال 58 ہزار کروڑ آبپاشی پراجیکٹس پر خرچ کئے جارہے ہیں۔ کالیشورم پراجیکٹ کے ذریعہ آئندہ سال سے دریائے گوداوری کا پانی دستیاب رہے گا۔ مخالفین کی جانب سے رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کرنے کے باوجود بڑی تیزی سے تعمیری کام جاری ہیں۔

TOPPOPULARRECENT