Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں نئی تعلیمی پالیسی تدوین کرنے عنقریب کل جماعتی اجلاس

تلنگانہ میں نئی تعلیمی پالیسی تدوین کرنے عنقریب کل جماعتی اجلاس

سرکاری سطح پر ایل کے جی ویو کے جی تعلیم کی تجویز، وزیرتعلیم جگدیش ریڈی کا کونسل میں بیان

سرکاری سطح پر ایل کے جی ویو کے جی تعلیم کی تجویز، وزیرتعلیم جگدیش ریڈی کا کونسل میں بیان
حیدرآباد۔/15نومبر، ( سیاست نیوز) وزیر تعلیم جگدیش ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں نئی تعلیمی پالیسی تیار کرنے کیلئے بہت جلد کُل جماعتی اجلاس طلب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی کی تدوین کا مقصد تلنگانہ میں تعلیم کو عام کرنا اور اسکولس میں معیار تعلیم بہتر بنانا ہے۔ حکومت اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ ماہرین تعلیم سے مشاورت کے ذریعہ نئی پالیسی کو طئے کرے گی۔ قانون ساز کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر تعلیم نے بتایا کہ حکومت سرکاری مدارس میں انگریزی میڈیم اور ایل کے جی و یو کے جی کلاسیس کے آغاز کی تجویز رکھتی ہے تاکہ تین سال کی عمر والے بچوں کے سرکاری اسکولوں میں داخلے کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انگلش میڈیم میں تعلیم کے رجحان میں اضافہ کے سبب سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد کم ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ خانگی مدارس میں تین سال کی عمر میں داخلہ دیا جاتا ہے اور ایل کے جی و یو کے جی کلاسیس میں ابتدائی تعلیم کا انتظام ہے۔ حکومت سرکاری مدارس میں بھی انگلش میڈیم کے آغاز کے ذریعہ غریب خاندانوں کے بچوں کو انگریزی تعلیم سے ہم آہنگ کرسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف گوشوں سے حکومت کو تجویز پیش کی گئی کہ سرکاری اسکولوں میں تین سال کی عمر میں داخلے اور اس کے مطابق ابتدائی کلاسیس کا انتظام کیا جائے۔ جگدیش ریڈی نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی کے ذریعہ کے جی تا پی جی مفت تعلیم سے متعلق حکومت کے وعدے پر عمل آوری کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ حکومت معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ہر غریب بچے کو اسکول سے وابستہ کرنے اور پوسٹ گریجویشن تک مستحق طلبہ کو مفت تعلیم کے وعدہ پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وعدہ پر مرحلہ وار طور پر عمل آوری کی جائے گی۔ تلنگانہ میں غیر مسلمہ مدارس کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے جگدیش ریڈی نے کہا کہ عہدیداروں نے اس طرح کے 306 اسکولس کی نشاندہی کی ہے اور انہیں نوٹس جاری کی گئی۔ 152اسکولس نے بنیادی سہولتوں کا انتظام کرتے ہوئے مسلمہ حیثیت کیلئے درخواست داخل کی جنہیں محکمہ تعلیم نے مسلمہ حیثیت دی ہے۔ 154اسکولس نے جواب داخل کرنے کیلئے وقت مانگا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اساتذہ کی خدمات میں معقولیت پیدا کرتے ہوئے سرکاری مدارس کے معیار میں بہتری کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریشنلائزیشن کے سلسلہ میں جو شبہات پائے جاتے ہیں وہ غیر ضروری ہیں، اس کا مقصد مدارس کو بند کرنا نہیں بلکہ اساتذہ کو ایسے مدارس سے جوڑنا ہے جہاں اساتذہ کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سرکاری مدارس میں داخلہ کی عمر 5سال مقرر کرنے اور انگلش میڈیم کی کمی سے طلبہ کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال اگسٹ تک تمام سرکاری اسکولس میں بیت الخلاء کی تعمیر مکمل کرلی جائے گی اس سلسلہ میں بعض کارپوریٹ اداروں نے تعاون سے اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے غیر مسلمہ اسکولس کی فہرست ارکان کو پیش کرنے سے اتفاق کیا۔ کانگریس، تلگودیشم اور دیگر جماعتوں کے ارکان نے سرکاری مدارس میں بنیادی سہولتوں کی کمی کا تذکرہ کیا اور قانون سازی کی سفارش کی۔ ارکان کا کہنا تھا کہ غیر مسلمہ مدارس میں کوالیفائیڈ ٹیچرس کی کمی ہے اور معیار تعلیم بھی توقع کے مطابق نہیں۔ ٹی آر ایس رکن کے پربھاکر نے کہا کہ حیدرآباد کی ہر گلی میں ایک غیر مسلمہ اسکول موجود ہے۔ انہوں نے حکومت سے سفارش کی کہ وہ ٹاسک فورس تشکیل دے کر ان مدارس پر نظر رکھے اور بنیادی سہولتوں سے محروم مدارس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ ادارے عوام سے دھوکہ کررہے ہیں اور ایک نام کی اجازت لے کر کئی ادارے چلائے جاتے ہیں۔ کانگریس کے رکن فاروق حسین نے اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی محرومی اور لڑکیوں کیلئے بیت الخلاء کی عدم موجودگی کا مسئلہ اٹھایا۔ ٹیچرس زمرے کے رکن سدھاکر ریڈی نے اسکولوں کو مسلمہ حیثیت دینے کے طریقہ کار میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں حکومت کو واضح پالیسی اختیار کرنی چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT