Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو عوام کی غیر معمولی تائید

تلنگانہ میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو عوام کی غیر معمولی تائید

راج شیکھر ریڈی کی اسکیمات آج بھی مثالی ، حلقہ پارلیمنٹ سکندرآباد سے حیرت انگیز نتیجہ برآمد ہونے کا امکان ، عوام اور رائے دہندے پر عزم

راج شیکھر ریڈی کی اسکیمات آج بھی مثالی ، حلقہ پارلیمنٹ سکندرآباد سے حیرت انگیز نتیجہ برآمد ہونے کا امکان ، عوام اور رائے دہندے پر عزم
حیدرآباد۔/3اپریل، ( سیاست نیوز) سیما آندھرا میں پارٹی کی عوامی مقبولیت کو ثابت کرنے کے بعد وائی ایس آر کانگریس پارٹی قیادت نے تلنگانہ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ آندھرا پردیش کی تقسیم کے فیصلہ کے بعد اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی سیما آندھرا تک محدود ہوجائے گی اور تلنگانہ میں اسے اپنے وجود کا احساس دلانے جدوجہد کرنی پڑے گی۔ لیکن غیر متوقع طور پر تلنگانہ میں بھی وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو عوام کی زبردست تائید حاصل ہورہی ہے۔ آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے دورِ حکومت میں مختلف طبقات کی تعلیمی اور معاشی ترقی اور غریب خاندانوں کیلئے شروع کردہ منفرد اسکیمات کا اثر آج بھی تلنگانہ عوام میں دیکھا جارہا ہے۔ ریاست کی تقسیم کے ساتھ ہی تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے جن قائدین نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی سے علحدگی اختیار کی، اب انہیں پارٹی کے حق میں عوامی تائید دیکھتے ہوئے اپنے فیصلہ پر افسوس ہورہا ہے۔ تلنگانہ کے وہ علاقے جہاں سرکاری ملازمین اور سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے رائے دہندے موجود ہیں وہاں بتدریج پارٹی کے حق میں تائید میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کسانوں اور غریب طبقات میں بھی راج شیکھر ریڈی کی فلاحی اسکیمات کے سبب پارٹی کے بہتر مظاہرے کی امید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے اپنی اہم قائد شرمیلا کو تلنگانہ مہم کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ بہت جلد تلنگانہ میں شرمیلا کے روڈ شو اور عام جلسوں کے پروگرام کو قطعیت دی جائے گی۔ پارٹی فی الوقت تلنگانہ کی لوک سبھا اور اسمبلی نشستوں کیلئے موزوں امیدواروں کے انتخاب میں مصروف ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سیما آندھرا میں طوفانی انتخابی مہم میں مصروف وائی ایس جگن موہن ریڈی جمعہ کو حیدرآباد پہنچیں گے اور تلنگانہ کی انتخابی حکمت عملی، امیدواروں کے انتخاب اور انتخابی منشور پر غور کیا جائے گا۔بتایا جاتا ہے کہ پارٹی اندرون دو یوم تلنگانہ کے امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دے گی۔ اس سلسلہ میں ضلع کمیٹیوں اور لوک سبھا و اسمبلی کے کوآرڈینیٹرس سے رپورٹس طلب کی گئی ہیں۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں واقع لوک سبھا اور اسمبلی حلقوں سے پارٹی ٹکٹ کیلئے بڑی تعداد میں درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے کئی نامور شخصیتیں رجوع ہورہی ہیں۔حلقہ لوک سبھا سکندرآباد اور اس کے تحت آنے والے 7اسمبلی حلقوں میں پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اقلیتوں کے علاوہ دلت، عیسائی طبقات اور سرکاری ملازمین وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی تائید میں ہیں اور انہیں امیدواروں کے اعلان کا انتظار ہے۔ اسمبلی حلقہ جات نامپلی، مشیرآباد، عنبرپیٹ اور خیریت آباد میں مسلم اقلیتی رائے دہندوں نے مجوزہ انتخابات میں وائی ایس آر کانگریس کی تائید کا عزم کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق حلقہ لوک سبھا سکندرآباد اور اس کے تحت اسمبلی حلقوں میں اقلیت، عیسائی اور سیما آندھرا رائے دہندوں کے سبب حیرت انگیز نتائج برآمد ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT