Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں ٹی آر ایس سے مفاہمت میں ناکامی پر کانگریس الجھن کا شکار

تلنگانہ میں ٹی آر ایس سے مفاہمت میں ناکامی پر کانگریس الجھن کا شکار

حیدرآباد ۔17 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ٹی آر ایس سے انتخابی مفاہمت میں ناکامی کے بعد کانگریس اعلیٰ کمان اور تلنگانہ قائدین الجھن کا شکار ہوگئے اورمفاہمت میں ناکامی کی وجوہات کا جائزہ لینے میں مصروف ہوچکے ہیں۔ کانگریس پارٹی کو یقین تھا کہ ٹی آر ایس اسمبلی اور لوک سبھا کے پرچہ نامزدگی ادخال کی تاریخ سے عین قبل کانگریس سے مفاہمت

حیدرآباد ۔17 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ٹی آر ایس سے انتخابی مفاہمت میں ناکامی کے بعد کانگریس اعلیٰ کمان اور تلنگانہ قائدین الجھن کا شکار ہوگئے اورمفاہمت میں ناکامی کی وجوہات کا جائزہ لینے میں مصروف ہوچکے ہیں۔ کانگریس پارٹی کو یقین تھا کہ ٹی آر ایس اسمبلی اور لوک سبھا کے پرچہ نامزدگی ادخال کی تاریخ سے عین قبل کانگریس سے مفاہمت پر راضی ہوجائے گی لیکن چندر شیکھر راو نے اچانک مفاہمت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تلنگانہ کانگریس قائدین کو پریشانی میں ڈال دیا۔ کانگریس ہائی کمان خود بھی اس بات پر فکرمند ہیں کہ مفاہمت سے انکار کی کیا وجوہات بن گئیں جبکہ ٹی آر ایس سربراہ نے کانگریس اعلیٰ کمان کو مفاہمت کے بارے میں واضح اشارے دیئے تھے۔

اس مسئلہ پر ٹی آر ایس نے ڈگ وجئے سنگھ اور جئے رام رمیش کو ذمہ دار قرار دیا جبکہ ہائی کمان تلنگانہ کانگریس قائدین کو قصوروار سمجھتی ہیں۔ ہائی کمان کا کہنا ہے کہ ٹی آر ایس سربراہ چندر شیکھر راؤ سے قربت رکھنے والے تلنگانہ قائدین کی ذمہ داری تھی کہ ان سے مسلسل ربط میں رہتے لیکن کانگریس قائدین پردیش کانگریس کی صدارت کی دوڑ میں مصروف رہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس ہائی کمان چندر شیکھر راو کے موقف کو سمجھنے میں ناکام ہوچکی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اہم سوال یہ ہے کہ کیا چندر شیکھر راؤ نے اچانک اپنا موقف تبدیل کیا یا پھر لمحہ آخر میں انہیں پارٹی قائدین نے موقف تبدیل کرنے پر مجبور کیا ۔ ٹی آر ایس ذرائع کے مطابق چندر شیکھر راؤ پارٹی کے پولیٹ بیورو اور اسٹیٹ کمیٹی کے اجلاس تک بھی کانگریس سے مفاہمت کے حق میں تھے اسی لئے انہوں نے ڈاکٹر کیشو راؤ کی صدارت میں پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی۔

اگرچہ اجلاس میں پارٹی قائدین نے تنہا مقابلہ پر زور دیا۔ تاہم کے سی آر مفاہمت کے مسئلہ پر نرم گوشہ رکھتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ قومی اور علاقائی میڈیا اداروں کی جانب سے تلنگانہ کے نتائج پر جو سروے سامنے آئے ہیں ان سے متاثر ہوکر کے سی آر نے تنہا مقابلہ کا فیصلہ کیا اور اس فیصلہ کیلئے کانگریس کو ذمہ دار قرار دیدیا۔ بتایا جاتا ہے کہ قومی اور علاقائی نیوز چینلس نے تلنگانہ میں اسمبلی و لوک سبھا نشستوں میں ٹی آر ایس کو واضح اکثریت کی پیش قیاسی کی۔ اسی بنیاد پر سینئر قائدین اور ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی نے کے سی آر پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاکر تلنگانہ میں تشکیل حکومت کی راہ ہموار کریں۔ تلنگانہ میں حکومت کی تشکیل کے ساتھ زائد لوک سبھا نشستوں پر کامیابی کے ذریعہ ٹی آر ایس مرکز میں حکومت سازی میں اہم رول ادا کرسکتی ہے۔ سروے رپورٹ اور اوپنین پولس پر کے سی آر نے پارٹی قائدین کے علاوہ تلنگانہ کے سینئر ایڈیٹرس اور سیاسی مبصرین سے تفصیلی مذاکرات کئے۔

اس کے بعد ہی انہوں نے کانگریس سے مفاہمت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس حقیقت کے باوجود بعض اضلاع میں ٹی آر ایس کا موقف مستحکم نہیں۔ کے سی آر نے تنہا مقابلہ کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک اہم چیلنج قبول کیا ہے۔ کانگریس کے ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کے عہدہ پر کے سی آر کی دعویداری کے سبب مفاہمت کی بات چیت آگے نہ بڑھ سکی۔ ایک مرحلہ پر چندر شیکھر راؤ کانگریس کو اسمبلی کی زائد نشستیں الاٹ کرنے تیار ہوگئے ، اس شرط پر کہ کانگریس اور ٹی آر ایس اتحاد کو اکثریت ملنے کی صورت میں چندر شیکھر راو چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کئے جائیں گے ۔ اس مسئلہ پر کانگریس تیار نہیں تھی۔ کے سی آر کو اس مطالبہ سے روکنے کیلئے کانگریس نے دلت کو چیف منسٹر بنانے کا اعلان کردیا جو کہ سابق میں کے سی آر کا اعلان تھا۔ اس مسئلہ پر بھی دونوں پارٹیوں میں صورتحال کشیدہ ہوگئی جس کا نتیجہ تنہا مقابلے کی صورت میں سامنے آیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT