Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا دور اقتدار تاریخ کا سیاہ باب

تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا دور اقتدار تاریخ کا سیاہ باب

یکم اپریل سے کانگریس ریالی کا دوبارہ آغاز ، صدر پی سی سی اتم کمار ریڈی
حیدرآباد ۔ 28 ۔ مارچ : ( پریس نوٹ ) : تلنگانہ کانگریس کے صدر اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ملک کی 29 ریاستوں میں تلنگانہ ہی وہ پہلی ریاست ہے جہاں ریاست کی اہم اپوزیشن کانگریس کے تمام ارکان اسمبلی کو معطل کرتے ہوئے بجٹ کو منظور کیا گیا ہے ۔ کانگریس کارکنوں کے ساتھ فیس بک پر فون ان پروگرام منعقد کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ پارلیمنٹ ہو یا ریاستی اسمبلیوں میں اہم اپوزیشن کے تمام ارکان کو چھوٹے سے مسئلہ پر سیشن بھر کے لیے معطل کردینے اور دو ارکان اسمبلی کی رکنیت کو ختم کرنے کا واقعہ ملک کی تاریخ میں کبھی پیش نہیں آیا۔ جس طرح 12 مارچ کے دن تلنگانہ اسمبلی میں پیش آیا تھا ۔ پی سی سی صدر نے کہا کہ گورنر کا خطبہ شروع ہونے کے 10 منٹ تک کانگریس کے ارکان خاموشی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ سوامی گوڑ پر حملہ کرنے کا بہانہ بناتے ہوئے دو ارکان کومٹ ریڈی اور سمپت کمار کی رکنیت ختم کردی گئی اور سی ایل پی لیڈر جانا ریڈی کے ساتھ دیگر تمام ارکان کو سیشن بھر کے لیے معطل کردیا گیا جو غیر دستوری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت اسمبلی میں کانگریس کے ارکان گورنر کے خطبہ کے خلاف احتجاج کررہے تھے ۔ عین اسی وقت پارلیمنٹ میں ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ بھی تحفظات کے مسئلہ پر ایوان کے وسط میں پہنچ کر احتجاج کررہے تھے ۔ رکن پارلیمنٹ کویتا پلے کارڈ تھام کر لوک سبھا اسپیکر کو پیش کررہے تھے ۔ لیکن لوک سبھا اسپیکر نے احتجاجی ارکان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔ لیکن تلنگانہ اسمبلی اسی طرح کا احتجاج کرنے والے کانگریس ارکان کو معطل کردیا گیا ۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ایک سازش کے تحت کانگریس کو ایوان سے معطل کردیا گیا تاکہ عوامی مسائل ایوان میں پیش نہ ہوسکیں ۔ حکومت کو اس بات کا خوف تھاکہ کانگریس پارٹی اس آخری بجٹ میں انتخابی وعدوں پر عمل آوری کا مطالبہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالنے والی تھی ۔ انہوں نے کہا اس بجٹ اجلاس میں حکومت کی ناکامیوں اور وعدہ خلافیوں پر کانگریس آواز اٹھانے والی تھی اس کے لیے کانگریس نے بس یاترا کو بھی روک دیا تھا ۔ اتم کمار نے کہا کہ وعدوں کو پورا نہ کرتے ہوئے عوام کو بے وقوف بناتے ہوئے وقت گزاری کرنے والے چیف منسٹر سے عوام کو چوکس رکھنے کے لیے کانگریس نے بس یاترا کا آغاز کیا تھا ۔ یکم اپریل سے دوسرے مرحلے کے تحت راما گنڈز سے بس یاترا شام 6 بجے شروع ہوگی ۔ 2 اپریل کو منتہنی ، 3 اپریل کو بھوپال پلی ، 4 کو اسٹیشن گھن پور اس طرح 10 اپریل تک نرسم پیٹ ، ورنگل ، پرکال ، محبوب آباد ، بھدرا چلم اور دیگر اسمبلی حلقوں میں نکالی جائے گی ۔ پروگرام کے دوران اتم کمار ریڈی نے بس یاترا کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل یہاں کے لاکھوں بے روزگاروں کو ملازمتیں فراہم کرنے کے لیے عمل میں آئی لیکن کے سی آر اپنے خاندان کے ارکان کی بے روزگاری دور کررہے ہیں ۔ پی پی سی صدر نے کہا کہ چار سال کی کارکردگی پر پردہ پوشی کرنے کے لیے تیسرے محاذ کی تشکیل کا نیا ڈرامہ شروع کیا گیا ہے تاکہ عوام کی توجہ حکومت کی کارکردگی سے ہٹا دیا جائے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بھروسہ نہ کریں ۔ آبپاشی پراجکٹ سے چیف منسٹر کے خاندان کو 6 فیصد کمیشن حاصل ہوتا ہے ۔ ریاست میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہورہی ہے انہوں نے کہا کہ گریجنوں اور مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کے سی آر 4 سال سے دھوکہ دے رہے ہیں ۔ چار سال تک خاموشی اختیار کرنے کے بعد ٹی آر ایس پارٹی کو عین انتخابات سے قبل تحفظات کا مسئلہ یاد آرہا ہے ۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ گذشتہ انتخابات میں 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس پارٹی نے مسلمانوں اور گریجنوں سے ووٹ حاصل کئے اور چار ماہ میں تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کرتے چار سال میں بھی پورا نہیں کیا ۔ اب انتخابات قریب آرہے ہیں تو ٹی آر ایس کو تحفظات کا مسئلہ یاد آرہا ہے ۔ اتم کمار نے کہا کہ ٹی آر ایس کو مسلمانوں اور گریجنوں سے ووٹ مانگنے کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT