Wednesday , December 12 2018

!تلنگانہ میں ٹی آر ایس کو اقتدار،کے سی آر چیف منسٹر ہوں گے

کانگریس کوانتخابات ہزیمت کے اندیشے ،دو مرکزی وزراء ،متعدد سابق ریاستی وزراء کی ناکامی کا قیاس

کانگریس کوانتخابات ہزیمت کے اندیشے ،دو مرکزی وزراء ،متعدد سابق ریاستی وزراء کی ناکامی کا قیاس

حیدرآباد 4 مئی ( این ایس ایس ) تلنگانہ میں 30 اپریل لوک سبھا کے 17 اور اسمبلی کے 119 حلقوں میں منعقدہ انتخابات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رائے دہندوں نے ٹی آر ایس کے حق میں واضح فیصلہ دیا ہے اور اندیشہ ہے کہ دونوں مرکزی ایس جئے پال ریڈی اور سرے ستیہ نارائنا کے علاوہ متعدد ریاستی وزراء اور کانگریس کے دیگر کئی اہم قائدین کو شکست ہوجائے گی۔ باور کیا جاتا ہے کہ مرکزی و ریاستی انٹلیجنس اداروں نے پولنگ بوتھ سطح پر جمع شدہ تفصیلات اور عوامی رجحانات کی بنیاد پر مبنی تخمینی رپورٹوں میں یہ اشارہ دیا گیا ہے ۔ جس کے مطابق انٹلیجنس رپورٹوں پیش قیاسی کی گئی ہے کہ ٹی آر ایس 70 تا 75 اسمبلی نشستیں حاصل ہوں گی اور وہ نئی ریاست تلنگانہ میں اپنے بل بوتے پر حکومت تشکیل دے گی ۔ کانگریس کو زیادہ سے زیادہ 25 تا 30 نشستوں پر کامیابی کی توقع ظاہر کی گئی ہے جہاں تک لوک سبھا انتخابات کا تعلق ہے انٹلیجنس رپورٹس نے اشارہ دیا ہے کہ ٹی آر ایس کو چھ نشستیں یا اس سے زائد نشستیں مل سکتی ہیں۔ مجلس اتحاد المسلمین حلقہ حیدرآباد پر اپنا قبضہ بدستور برقرار رکھے گی۔ مابقی 10پارلیمانی نشستیں تلگودیشم ، بی جے پی اتحاد اور کانگریس کو جائیں گی بلکہ ان میں بھی ٹی آر ایس کو ایک آدھ نشست مل سکتی ہے ۔ اسی طرح اس کی عددی قوت میں مزید اضافہ خارج از امکان بھی نہیں ہے ۔ محکمہ انٹلیجنس میں باخبر ذرائع نے کہا کہ تلنگانہ میں رائے دہی کا فیصد اب 70.85 فیصد مقرر کیا جارہا ہے نہ کہ 73 تا 75 فیصد جیسا پہلے سمجھا جارہا تھا ۔ رائے دہی کے اس فیصد سے بھی تلنگانہ میں ٹی آر ایس کسی طرح کی ٹی آر ایس لہر کو مدد ملی ہے ۔ تلنگانہ جذبات کے علاوہ کانگریس کو دوبارہ اقتدار دینے کے خلاف عوامی رجحان نے ٹی آر ایس کو اپنی موجودگی کا مہر ثبت کرنے اور رائے دہندوں کا اتحاد حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ ضلع رنگا ریڈی اور حیدرآباد میں رائے دہی کے 52.99 اقل ترین فیصد نے گلابی جماعت کو شہری و نیم شہری علاقوں میں اپنا اثر بڑھانے کا موقع فراہم کیا ہے ۔ شہر میں رائے دہی کے کم فیصد نے نہ صرف کانگریس بلکہ تلگودیشم ۔ بی جے پی اتحاد کے امکانات کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے حتی کہ تلگودیشم ۔ بی جے پی اتحاد کو تعلیمیافتہ اور نئی نسل کے رائے دہندوں میں نریندر مودی کی لہر کا فائدہ اٹھانے کا موقع بھی نہیں مل سکا ۔ چنانچہ شہری افراد گھروں میں بیٹھے رہے مسلم بستیوں میں رہنے والوں نے پولنگ بوتھ پہونچ کر ٹی آر ایس کو ووٹ دیا۔ انٹلیجنس ذرائع نے اس نظریہ کا اظہار کیا کہ ٹی آر ایس کے صدر کے چندر شیکھر نے اپنی طوفانی انتخابی مہم اور شعلہ بیانی کے منفرد انداز میں کانگریس، بی جے پی ، ٹی ڈی پی اور وائی ایس آر سی پی کو نشانہ بناتے ہوئے رائے دہندوں کے ذہنوں پر زبردست اثر کیا اور ٹی آر ایس کے حق میں جیسے لہر چلادی ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ تلنگانہ لب و لہجہ میں پرکشش فن خطابت کے ذریعہ کے سی آر نے سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور حتی کہ نریندر مودی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔ انٹلیجنس رپورٹس کے مطابق دو مرکزی وزراء سودنی جئے پال ریڈی ( محبوب نگر ) اور سروے ستیہ نارئنا ( ملکاجگری) کو ان کے بی جے پی حریفوں بالترتیب ناگم جناردھن ریڈی اور ماہر تعلیم ملا ریڈی کے ہاتھوں شکست ہوگی ۔ یہ توقع بھی ظاہر کی گئی ہے کہ بی جے پی حلقہ لوک سبھا سکندرآباد کو دوبارہ چھین لیگی جس پر 2004 اور 2009 کے انتخابات میں کانگریس کے انجن کمار یادو کا قبضہ ہوگیا تھا لیکن اس مرتبہ بنڈارو دتاتریہ کو کامیابی حاصل ہوسکتی ہے ۔ ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ پدا پلی ، نظام آباد کریم نگر اور میدک لوک سبھا حلقہ ٹی آر ایس کے کھاتے میں جائیں گے ۔ تلنگانہ جاگروتی کی صدر نشین اور کے سی آر کی دختر کے کویتا جو سارے علاقہ تلنگانہ سے واحد خاتون امیدوار ہیں جو توقع ہے کہ حلقہ نظام آباد سے لوک سبھا میں داخل ہونگی ۔ ذرائع کے مطابق سابق ڈپٹی چیف منسٹر سی دامودر راج نرسمہا ،سابق وزراء جے گیتا ریڈی ، ڈی کے ارونا، دانم ناگیندر ،مکیش گوڑ بھی ان امیدواروں کی فہرست میں ہیں جنہیں شکست ہوسکتی ہے ۔ میڑچل، ایل بی نگر ، صنعت نگر حلقوں سے کانگریس کی کامیابی کا امکان ہے ۔ تاہم مہیشورم سے کانگریس کے باغی امیدوار اور ابراہیم پٹنم سے ایک آزاد امیدوار کی کامیابی متوقع ہے ۔کوکٹ پلی ،سری لنگم پلی اور قطب اللہ پور توقع ہے کہ تلگودیشم کے کھاتے میں جائیں گے ۔ مشیر آباد سے کانگریس یا بی جے پی کے منجملہ کوئی بھی امیدوار کم و بیش 1000 ووٹ کی معمولی اکثریت سے کامیاب ہوسکتا ہے ۔ توقع ہے کہ حلقہ یاقوت پورہ سے مجلس بچاؤ تحریک (ایم بی ٹی ) اسمبلی میں پہونچ جائے گی ۔ البتہ راجندر نگر حلقہ سے مجلس کی کامیابی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ کانگریس کے سینئر لیڈر و سابق رکن اسمبلی آنجہانی پی جناردھن ریڈی کے فرزند اور کانگریس کے امیدوار حلقہ جوبلی ہلز پر اپنا قبضہ برقرار رکھیں گے ان کی بہن پی وجیہ ریڈی حلقہ اسمبلی خیریت آباد سے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر اسمبلی میں داخل ہونگی جہاں سے کانگریس امیدوار و سابق وزیر دانم ناگیندر کو شکست کا اندیشہ ہے ۔محکمہ انٹلیجنس نے اپنے تخمینہ کے اختتام پر لکھا ہے کہ نئی ریاست تلنگانہ میں پہلی حکومت ٹی آر ایس کی ہوگی اور اس کے صدر کے چندر شیکھر راو ملک کی 29ویں ریاست کے پہلے چیف منسٹر کی حیثیت سے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔

TOPPOPULARRECENT