Wednesday , December 19 2018

تلنگانہ میں ٹی آر ایس کو دو تہائی اکثریت ملنے کا یقین : چندر شیکھر راؤ

حیدرآباد۔/21مارچ، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی دو تہائی اکثریت کے ساتھ تلنگانہ میں برسر اقتدار آئے گی۔ انہوں نے تلنگانہ کی 16لوک سبھا نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ تلنگانہ بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چندرشیکھر راؤ نے کانگریس تلنگانہ قائدین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا

حیدرآباد۔/21مارچ، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی دو تہائی اکثریت کے ساتھ تلنگانہ میں برسر اقتدار آئے گی۔ انہوں نے تلنگانہ کی 16لوک سبھا نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ تلنگانہ بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چندرشیکھر راؤ نے کانگریس تلنگانہ قائدین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تلنگانہ تحریک میں حصہ نہ لینے والے ان قائدین کو ٹی آر ایس پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولاورم پراجکٹ اور ملازمین کی تقسیم کے بارے میں ان کے بیان کے بعد صدر تلنگانہ پردیش کانگریس پنالہ لکشمیا اور سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودر راج نرسمہا کے علاوہ سیما آندھرا قائدین کرن کمار ریڈی اور چرنجیوی نے ان پر تنقید کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن مسائل کو انہوں نے پیش کیا اس پر وہ ابھی بھی قائم ہیں اور تلنگانہ سکریٹریٹ میں سیما آندھرا ملازمین کی اکثریت کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ تلنگانہ حقوق کے بارے میں بات کرنا کس طرح اشتعال انگیزی ہوگا۔ تلنگانہ قائدین کو چاہیئے تھا کہ وہ یا تو ان کے مطالبے کی تائید کرتے یا پھر خاموشی اختیار کرتے۔ انہوں نے کہا کہ 2005 سے ہی وہ پولارم پراجکٹ کے ڈیزائن کی تبدیلی کی مانگ کررہے ہیں۔ ٹی آر ایس پراجکٹ کے خلاف نہیں بلکہ اس کے ڈیزائن کے خلاف ہے اور اس مسئلہ پر سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی گئی ہے۔ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ٹی آر ایس نے جو نمائندگی کی اس میں تلنگانہ اور سیما آندھرا ملازمین کو متعلقہ ریاستوں کیلئے الاٹ کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ تلنگانہ کیلئے خصوصی موقف کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بل میں ان میں سے کسی بھی مطالبہ کو شامل نہیں کیا گیا اور تلنگانہ کے کانگریس قائدین خاموش رہے۔ کے سی آر نے الزام عائد کیا کہ پنالہ لکشمیا، دامودرراج نرسمہا اور دیگر قائدین اپنی وزارتوں اور عہدے بچانے خاموش رہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران کانگریس قائدین کے رول سے عوام اچھی طرح واقف ہیں۔

انہوں نے ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی دور حکومت میں جلایگنم پروگرام کو دھنا یگنم میں تبدیل کرنے پنالہ لکشمیا کو وزیر آبپاشی کی حیثیت سے برابر کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جلا یگنم کو دھنا یگنم میں تبدیل کرنے والے گروپ کے پنالہ لکشمیا بھی ایک رکن تھے۔ انہوں نے وزیر کی حیثیت سے تلنگانہ کے حقوق کیلئے جدوجہد نہیں کی، جب تحریک شدت اختیار کرتی یا تو وہ امریکہ میں ہوتے یا پھر دواخانہ میں۔ اب جبکہ تلنگانہ حاصل ہوچکا ہے کانگریس قائدین خون لگاکر شہیدوں میں شامل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ قائدین کو چیلنج کیا کہ وہ آرڈیننس میں تلنگانہ کے مفادات کو شامل کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ اندرون ایک ماہ تلنگانہ کے عوام خود فیصلہ کردیں گے کہ ان کا حقیقی ہمدرد کون ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ سکریٹریٹ میں 80فیصد سے زائد سیما آندھرا کے ملازمین کی تعیناتی کے خلاف ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں کانگریس 41برس جبکہ تلگودیشم نے 16 برس تک حکومت کی پھر بھی اقتدار کی خواہش باقی ہے۔ عوام دونوں پارٹیوں کی حکومتوں سے عاجزآچکے ہیں اور انہوں نے ٹی آر ایس کو برسراقتدار لانے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بہت جلد ٹی آر ایس کا انتخابی منشور جاری کیا جائیگا جس میں تمام وعدوں پر عمل آوری کے منصوبہ کو شامل کیا جائیگا۔

انہوں نے بتایا کہ ملازمین کو دیئے جانے والے آپشن اور نئی دہلی کے آندھرا پردیش بھون کے حصول کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع ہونگے۔ آندھرا پردیش بھون نظام حیدرآباد کی جائیداد ہے جس پر تلنگانہ کا حق ہے۔ انہوں نے کانگریس قائدین کو خبردار کیا کہ وہ ان کے خلاف بیان بازی سے گریز کریں ورنہ ٹی آر ایس اس کا سخت جواب دینا جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں آئندہ حکومت کسی ایک پارٹی کی نہیں بلکہ مخلوط ہوگی اور زائد لوک سبھا نشستوں پر کامیابی کے ذریعہ ٹی آر ایس تلنگانہ کے مفادات کی تکمیل کو یقینی بنائے گی۔انہوں نے چندرا بابو نائیڈو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ٹی آر ایس حکومت چندرا بابو نائیڈو کی بے قاعدگیوں کی جانچ کرے گی اور انہیں عوام میں بے نقاب کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT