Thursday , February 22 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں ٹی آر ایس کیلئے خطرے کی گھنٹی

تلنگانہ میں ٹی آر ایس کیلئے خطرے کی گھنٹی

وظیفہ اور چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے علاوہ صرف اعلانات سے عوام ناراض

حیدرآباد۔17نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ کے دیہی علاقوں میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کی گرفت کمزور ہوچکی ہے اور عوام میں حکومت اور اپوزیشن کے خلاف ناراضگی میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہاہے۔ حکومت کی جانب سے صرف اعلانات اور ان پر عدم عمل آوری کے سبب دیہی عوام میں برسراقتدار جماعت کے خلاف ناراضگی پائی جاتی ہے اور اپوزیشن کی جانب سے حکومت کی عدم کارکردگی پر اختیار کردہ خاموشی کے سبب اپوزیشن کو بھی کمزور قرار دیا جانے لگا ہے۔دیہی عوام میں یہ احساس پیدا ہوچکا ہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے تلنگانہ عوام سے دھوکہ کیا ہے اور حصول تلنگانہ کے ثمرات اور ترقیاتی منصوبہ کے سلسلہ میں کئے گئے وعدوں سے انحراف کیا جانے لگا ہے جس کے نتیجہ میں ٹی آرایس کا موقف انتہائی کمزور ہوتا جا رہاہے ۔ ضلع ورنگل ‘ کھمم‘ کے علاوہ دیگر اضلاع میں کئے گئے مسٹر پی وی کونڈل راؤ کے سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی کارکردگی سے عوام میں ناراضگی پیدا ہوچکی ہے اور اس ناراضگی کا خمیازہ آئندہ انتخابات میں عوام کو بھگتنا پڑ سکتا ہے ۔ اقتدار حاصل کرنے سے قبل حکومت نے ملازمتوں کی فراہمی کے علاوہ دیہی علاقوں میں ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کے علاوہ دیہی علاقوں کی اراضیات کو سیرآب کرنے کے منصوبوں اور پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اعلانات کئے تھے لیکن ان میں کسی پر بھی مؤثر عمل آوری ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ ضلع ورنگل کے حلقہ اسمبلی (ورنگل ایسٹ) میں ڈبل بیڈ روم مکانات کے تعمیراتی کام نظر آرہے ہیں لیکن ان میں تیزی نہیںدیکھی جا رہی ہے لیکن یہ علاقہ شہری سلم میں شمار کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح ضلع ورنگل کے اسمبلی حلقہ جات وردھناپیٹ‘ پرکال‘ اسٹیشن گھن پور میں صرف وظائف کی اسکیمات پر عمل ٓاوری ہوتی نظر آرہی ہے جبکہ مابقی اعلانات پر عمل ندارد ہے اور کسی بھی علاقہ میں ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر کا عمل جاری نہیں ہے۔ ان حلقہ جات اسمبلی میں چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے علاوہ روایتی وظائف کی اسکیمات پر مؤثر عمل آوری دیکھی جارہی ہے لیکن چیف منسٹرریلیف فنڈ کے چیکس کی تقسیم رکن اسمبلی کی فرصت اور انہیں دستیاب وقت پر منحصر ہوتی ہے۔ ارکان اسمبلی چیف منسٹر ریلیف فنڈ میں منظورہ چیکس کی تقسیم کو اپنی کارکردگی اور ترقی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ مسٹر پی و ی کونڈل راؤ کے سروے کے مطابق رکن اسمبلی وردھنا پیٹ مسٹر اے رمیش اور رکن اسمبلی ورنگل (ویسٹ) مسٹر ڈی ونئے بھاسکر دونوں ہی چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے چیکس کی تقسیم کو ترقیاتی عمل کے طور پر پیش کر رہے ہیںجس کے سبب عوام میں ان کے خلاف شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ آبپاشی شعبہ میں حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات میں ان علاقو ںمیں گذشتہ تین برسوں سے سوائے ترقیاتی کاموں کے افتتاح کے کوئی عملی اقدامات نہ کئے جانے کے سبب بھی عوام میں یہ احساس پایا جاتاہے کہ ریاستی حکومت عوام کو دھوکہ دے رہی ہے۔ دیہی عوام میں کو یہ تاثر ملنے لگا ہے کہ ریاستی حکومت میں چند اسمبلی حلقہ جات سدی پیٹ‘ گجویل‘ سرسلہ ‘ نظام آباد کے علاوہ دیگار حلقہ جات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے کابینی وزراء کے چند علاقو ں میں ترقی نظر آرہی ہے جبکہ ریاست کے بیشتر علاقو ں میں عوام اب بھی علحدہ ریاست کی تشکیل کے بعد ترقی کے اعلانات اور وعدوں کے ثمرات سے اب بھی محروم ہی ہیں۔تلنگانہ راشٹر سمیتی اپنی اسکیمات کی تشہیر زور و شور سے کر رہی ہے لیکن ان اسکیمات کی زمینی حقائق سے دیہی عوام واقف ہیں اور وہ حکومت کے خلاف ہوتے جا رہے ہیں۔ ضلع کھمم ‘ عادل آباداور کریم نگر میں بھی چند ایک مقامات پر ہی ترقیاتی عمل نظر آرہا ہے لیکن سابق حکومت کانگریس کے دور میں شروع کردہ پراجکٹس کی تکمیل کو اپنی کارکردگی قرار دینے کی کوشش کو بھی عوام کی جانب سے نوٹ کیا جانے لگا ہے۔ ڈبل بیڈروم اسکیم کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے عدم پیشرفت اور مخصوص حلقہ جات اسمبلی کی مثالیں پیش کئے جانے سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت ان مثالوںکے ذریعہ دیہی عوام کو لبھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس قائدین کا کہناہے کہ ٹی آر ایس کی ڈبل بیڈ روم مکان کی اسکیم سے بہتر کانگریس دور حکومت کی’ اندراماں ‘ہاؤزنگ اسکیم بہتر تھی اور دیہی عوام بھی اب اس اسکیم کو ہی بہتر تصور کرنے لگے ہیں کیونکہ ڈبل بیڈ روم مکانات کی اسکیم کے سلسلہ میں عدم پیشرفت اور اندراماں ہاؤزنگ اسکیم کے بند ہوجانے کے سبب دیہی علاقوں کے عوام کو امکنہ اسکیم سے ہی محروم ہونا پڑ رہا ہے ۔ ریاست کے اضلاع ورنگل‘ کھمم‘ عادل آباد کے علاوہ کریم نگر کے چند علاقو ںمیں مشن بھگیرتا کے تحت پینے کے پانی کی پائپ لائن کی 50فیصد تک تنصیب کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے اور اس کے لئے 3سال کا عرصہ لگ چکا ہے لیکن اس کے بعد بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ریاستی حکومت اس پائپ لائن کے ذریعہ پانی کی سربراہی کا آغاز کب کرے گی؟پالاکرتی حلقہ اسمبلی جہاں کی نمائندگی رکن اسمبلی مسٹر ای دیاکر راؤ کرتے ہیں جو کہ تلگودیشم کے ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیںان کے حلقہ اسمبلی کے عوام کا احساس ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران حلقہ میں کوئی ترقیاتی کام نظر نہیں آئے ہیں۔ دیہی عوام کا کہناہے کہ ریاست میں حکومت کی عدم کارکردگی اور اسکیمات پر عدم عمل آوری کے باوجود اپوزیشن بھی مخصوص مسائل کے علاوہ دیگر امور پر خاموش ہے ۔کانگریس ہی نہیں بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور تلگودیشم کی جانب سے بھی حکومت کے خلاف احتجاج میں شدت نہ پیدا کئے جانے کے باعث حکومت کو عوامی برہمی کا احساس نہیں ہو رہا ہے جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ دیہی علاقو ںکے عوام حکومت کی کارکردگی سے نالاں ہیں اور تلنگانہ راشٹر سمیتی کو دھوکہ باز اور مخالف عوام تصور کرنے لگے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT