Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں کئی چیالنجس کے باوجود بہتر مظاہرہ میں کامیابی، ہر شہری کیساتھ یکساں سلوک کا عزم

تلنگانہ میں کئی چیالنجس کے باوجود بہتر مظاہرہ میں کامیابی، ہر شہری کیساتھ یکساں سلوک کا عزم

حیدرآباد۔/7مارچ، (سیاست نیوز) گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے یہ دعویٰ کیا کہ نئی ریاست تلنگانہ مختلف چیلنجس درپیش ہونے کے باوجود تمام محاذوں پر بہتر مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ گورنر نے کہا کہ تمام طبقات کی یکساں ترقی کو یقینی بنانا حکومت کا عہد ہے اور دستور ہند کے مطابق ہر شہری کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا۔ گورنر نے آج تلنگانہ قانو

حیدرآباد۔/7مارچ، (سیاست نیوز) گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے یہ دعویٰ کیا کہ نئی ریاست تلنگانہ مختلف چیلنجس درپیش ہونے کے باوجود تمام محاذوں پر بہتر مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ گورنر نے کہا کہ تمام طبقات کی یکساں ترقی کو یقینی بنانا حکومت کا عہد ہے اور دستور ہند کے مطابق ہر شہری کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا۔ گورنر نے آج تلنگانہ قانون ساز اسمبلی اور کونسل کے بجٹ سیشن کے آغاز کے پہلے دن مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت کی مختلف شعبوں میں کامیابیوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ مالیاتی سال 2014-15 میں ریاست کی ترقی شرح 5.3 فیصد ہوسکتی ہے جبکہ یہ 2013-14میں 4.8فیصد تھی۔ گورنر نے کمزور طبقات، اقلیتوں، خواتین اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کیلئے مختلف ترقیاتی پروگراموں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کی بھلائی حکومت کی اولین ترجیح ہے جن کیلئے کئی اسکیمات بشمول آسرا وظیفہ اسکیم متعارف کی گئی جس کے تحت بیواؤں، بنکروں، معمر افراد، تاڑی تاسندوں کا احاطہ کرتے ہوئے ماہانہ 1000 روپئے دیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درج فہرست اقوام، قبائل، پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور غریبوں کی بہبود کے ساتھ سماج کے تمام طبقات کی مجموعی ترقی حکومت کے پیش نظر ہے۔ حکومت نے بے زمین غریب دلت خاندان کی خاتون کے نام پر 3ایکر قابل کاشت اراضی فراہم کرنے کی اسکیم بنائی ہے۔ آئندہ پانچ برسوں میں درج فہرست اقوام کی ترقی کیلئے 50ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ اقلیتوں کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ تلنگانہ کا محل وقوع مختلف ثقافتوں، مذاہب اور زبانوں کے مرکز کی طرح ہے اور ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتیں جو کئی مسائل و مشکلات سے دوچار ہیں حکومت ان کی بہبودی کے عہد کی پابند ہے۔ اقلیتوں کی بھلائی کیلئے ہر سال 1000 کروڑ روپئے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ شادیوں کے سبب غریب خاندانوں پر عائد ہونے والے بوجھ کو کم کرنے کیلئے شادی مبارک اسکیم کا آغاز کیا گیا جس کے تحت شادی سے قبل 51ہزار روپئے دیئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اقلیتوں کو اسکالر شپ، سیول سرویسس امتحانات کی کوچنگ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ زائد اقلیتی آبادی والے علاقوں میں ہمہ شعبہ جاتی ترقیاتی پروگرام کے تحت مختلف اسکیمات کا نظام آباد اور میدک میں آغاز کیا گیا۔ گورنر نے درج فہرست قبائل کیلئے تعلیم اور روزگار میں 12فیصد تحفظات کی فراہمی کے لئے حکومت کے اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ ایس ٹی طبقہ کی لڑکیوں کی شادی کے موقع پر 51ہزار روپئے کی مالی امداد دی جارہی ہے۔ کلیان لکشمی اسکیم ایس سی اور ایس ٹی طبقہ سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی شادی کے موقع پر امداد فراہم کرنے کیلئے ہے۔ گورنر نے کہا کہ پسماندہ طبقات کی ترقی کیلئے آئندہ پانچ برسوں میں 25000 کروڑ روپئے کی فراہمی کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے امکنہ اسکیم پر عمل آوری کیلئے زائد فنڈز کا اشارہ دیا اور کہا کہ اس اسکیم میں بے قاعدگیوں کی سی آئی ڈی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ شہریوں کو تعلیم اور ہنرمند بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کے جی تا پی جی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور مستحق طلبہ کی مالی امداد کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے تلنگانہ کے حصول میں سرکاری ملازمین کے رول کی ستائش کی اور کہا کہ حکومت ان کے اس تعاون کی قدر کرتے ہوئے پے ریویژن میں 43فیصد فٹمنٹ کا اضافہ کیا ہے۔ سرکاری ملازمین کیلئے ہیلت کارڈ اور خصوصی تلنگانہ انکریمنٹ بھی فراہم کیا گیا۔ گورنر نے صحافیوں اور وکلاء کی بھلائی کیلئے کارپس فنڈ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ اس کے علاوہ آٹو رکشا ڈرائیورس کو ٹیکس سے مستثنیٰ اور حادثاتی انشورنس کے تحت لانے کا اعلان کیا۔ گورنر نے کہا کہ وطن واپس ہونے والے تارکین کی بہبودی اور روزگار کی فراہمی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ خواتین کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ جہیز ہراسانی، گھریلو تشدد، ایسیڈ حملے جیسے واقعات کے تدارک کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ خواتین کے تحفظ اور سلامتی کیلئے خصوصی ٹاسک فورس ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ خواتین کو بااختیار بنانا اور ریاست کی سماجی اور معاشی ترقی میں انہیں سرگرم رول ادا کرنے کے قابل بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ حیدرآباد کو ایک محفوظ شہر اور سرمایہ کاری کا پُرکشش مرکز بنانے کیلئے حکومت نے امن و ضبط کی صورتحال کو اولین ترجیح دی ہے۔ شہر میں سی سی کیمروں کے نیٹ ورک اور دیگر عصری آلات کے ذریعہ مکمل چوکسی اختیار کی گئی۔ حیدرآباد کو میٹرو پولس کے عالمی مرکز میں تبدیل کرنے کیلئے کئی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ گورنر نے امید ظاہر کی کہ حیدرآباد مخصوص محل وقوع کے سبب بہت جلد دنیا کے اہم مرکز میں تبدیل ہوجائے گا۔ انہوں نے زرعی شعبہ اور کسانوں کی بھلائی کے اقدامات، راجندر نگر میں ہارٹیکلچر یونیورسٹی کے قیام، پولٹری صنعت کی ترقی، دریائے گوداوری۔ کرشنا کے پانی کے استعمال کے ذریعہ دو آبپاشی اسکیمات کے آغاز، مشن کاکتیہ کے ذریعہ چھوٹے تالابوں کے تحفظ کا بھی حوالہ دیا۔ گورنر نے کہا کہ آئندہ پانچ برسوں میں مشن کاکتیہ کے تحت 20ہزار کروڑ کے صرفہ سے 46447 چھوٹے تالابوں کا تحفظ کیا جائے گا۔ برقی کی قلت پر قابو پانے اور صارفین کو مناسب برقی کی سربراہی کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے برقی پراجکٹس کے قیام اور پڑوسی ریاستوں سے برقی کی خریدی کے ذریعہ برقی کی قلت کو دور کیا جارہا ہے۔ برقی کے شعبہ میں تلنگانہ کو خود مکتفی بنانے آئندہ تین برسوں میں 6000میگا واٹ پیداوار کی تجویز ہے۔ صنعتی ترقی کیلئے حکومت نے نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے اور صنعتوں کی منظوری کے سلسلہ میں سنگل ونڈو کلیرنس قائم کیا گیا۔ اس پالیسی کے ذریعہ 14ایسے علاقوں کی نشاندہی کی گئی جہاں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔ گورنر نے انفارمیشن ٹکنالوجی کی ترقی اور مرکز کی جانب سے تلنگانہ میں 2.19 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری پر مشتمل آئی ٹی آئی آر کی منظوری کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس سے 15لاکھ نئے روزگار فراہم ہوں گے۔ ارکان اسمبلی اور کونسل کے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کیلئے دیڑھ کروڑ روپئے منظور کئے جائیں گے۔ حکومت ہر منتخب عوامی نمائندہ کیلئے ضلع مستقروں پر مستقل دفاتر قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ گورنر نے تلنگانہ کی تہذیب و ثقافتی ورثے کے تحفظ کا حوالہ دیا اور کہا کہ حکومت نے بتکماں اور بونال تہواروں کو ریاستی تہواروں کا موقف دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT