Thursday , July 19 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں کانگریس کا اقتدار محض ایک خواب

تلنگانہ میں کانگریس کا اقتدار محض ایک خواب

حکومت پر الزام تراشی افسوسناک، ٹی آر ایس قائدین کی کانفرنس
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے ریاست میں کانگریس پارٹی کو اقتدار کے حصول کے امکانات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ کانگریس قائدین حکومت کی تشکیل کے بارے میں خواب دیکھ رہے ہیں۔ رکن قانون ساز کونسل راملو نائک اور سابق رکن اسمبلی این نرسمہیا نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بس یاترا میں حکومت کے خلاف الزام تراشی کے ذریعہ کانگریس قائدین اقتدار کی امید کر رہے ہیں۔ بس یاترا کو عوامی تائید حاصل نہیں ہے اور کانگریس پارٹی کے الزامات پر عوام کو بھروسہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین یاترا کے دوران آپس میں رسہ کشی کا شکار ہیں۔ جو پارٹی خود متحد نہ ہو، وہ کس طرح عوامی تائید حاصل کرسکتی ہے۔ راملو نائک نے کہا کہ کانگریس نے دلت اور گریجن طبقات کے ساتھ ہمیشہ ناانصافی کی ہے۔ کانگریس کے 10 سالہ دور اقتدار میں دلتوں کی ترقی پر توجہ نہیں دی گئی لیکن آج دلتوں سے جھوٹی ہمدردی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ نائک نے کہا کہ کے سی آر کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت میں دلت محفوظ ہیں۔ انہوں نے کانگریس قائدین سے مطالبہ کیا کہ وہ رکن اسمبلی ریڈیا نائک سے معذرت خواہی کریں، ان پر گانجہ اور ریت مافیا سے ملی بھگت کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی کسی بھی ریاست میں دلتوں اور پسماندہ طبقات کیلئے اس قدر اسکیمات شروع نہیں کی گئیں جو تلنگانہ میں موجود ہیں۔ فلاحی اور ترقیاتی اقدامات میں تلنگانہ ملک میں سر فہرست ہیں۔ سابق رکن اسمبلی این نرسمہیا نے کانگریس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ بے بنیاد الزامات سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ الزام تراشی کے نتیجہ میں کانگریس کو عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے۔ ایک اور ایم ایل سی کے پربھاکر نے کانگریس کی بس یاترا کو فلاپ شو قرار دیا اور کہا کہ اپنی شناخت کیلئے کانگریس قائدین نے یاترا کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کلکٹر میڑچل پر سابق وزیر سروے ست نارائنا کے الزامات پر برہمی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو عہدیدار پر سابق مرکزی وزیر کی جانب سے حملہ افسوسناک ہے۔ پولیس کو قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT