Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں کانگریس کو 100 اسمبلی اور 15 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی

تلنگانہ میں کانگریس کو 100 اسمبلی اور 15 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی

تمام طبقات اور مذاہب کے ساتھ سماجی انصاف کا ادعا ، تلنگانہ صدر پی سی سی پنالہ لکشمیا کا ادعا

تمام طبقات اور مذاہب کے ساتھ سماجی انصاف کا ادعا ، تلنگانہ صدر پی سی سی پنالہ لکشمیا کا ادعا

حیدرآباد ۔ 24 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر پنالہ لکشمیا نے کہا کہ کانگریس پارٹی علاقہ تلنگانہ میں 15 لوک سبھا اور 100 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرے گی ۔ کانگریس میں ہی تمام طبقات اور مذاہب کے ساتھ سماجی انصاف ہوگا ۔ ایک خانگی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے مسٹر پی لکشمیا نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہم خیال جماعتوں سے اتحاد کرنے کے لیے تیار ہے مگر کشکول لے کر کسی کے آگے پیچھے نہیں گھومے گی ۔ کانگریس علاقہ تلنگانہ میں کافی مستحکم ہے ۔ کانگریس کی جانب سے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کے بعد کانگریس کا موقف مزید مستحکم ہوگیا ہے اور پارٹی کارکنوں میں کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے ۔ کانگریس نے کبھی ٹی آر ایس پر بھروسہ نہیں کیا ۔ بلکہ عوامی تحریک کو دیکھتے ہوئے وعدے کے مطابق علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا ہے ۔ سربراہ ٹی آر ایس نے کبھی ٹی آر ایس کو سیاسی جماعت قرار نہیں دیا بلکہ تحریک چلانے والی جماعت قرار دیا ۔ اپنی طرف سے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے پر ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کردینے کا اعلان کیا بعد میں اپنے وعدے سے منحرف کرتے ہوئے اتحاد کا جائزہ لینے کے لیے ڈاکٹر کیشو راؤ کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی اور بعد میں کانگریس سے اتحاد نہ کرنے کا بھی اعلان کیا ۔ 2004 میں کانگریس سے اتحاد کرتے ہوئے 26 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ 2009 میں تلگو دیشم اور کمیونسٹ جماعتوں سے اتحاد کرتے ہوئے صرف 10 اسمبلی حلقوں میں کامیابی حاصل کی ۔

کانگریس پارٹی نے 10 سال تک تمام جماعتوں اور کانگریس قائدین سے مشاورت کرتے ہوئے بالاخر علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا ہے ۔ چند قائدین کی جانب سے سیاسی مفاد پرستی کے لیے اشتعال انگیز بیانات دینے کی وجہ سے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے میں تاخیر ہوئی ہے ۔ سربراہ ٹی آر ایس مسٹر کے چندر شیکھر راو کی جانب سے آبپاشی پراجکٹ کی تعمیرات میں علاقہ تلنگانہ سے نا انصافی کرنے کے ان پر عائد کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر کے چندر شیکھر راو جب تلگو دیشم پارٹی میں ریاستی وزیر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر فائز تھے تب ہی ان پراجکٹس کے لیے سنگ بنیاد رکھا گیا اور 2004 میں جب اس پر کارروائی آگے بڑھی تب بھی سربراہ ٹی آر ایس مرکزی وزیر تھے اور ٹی آر ایس ریاست میں حکومت کا حصہ تھی تب خاموشی اختیار کی گئی ۔ آج سیاسی مفادات کے لیے ان پر جھوٹے الزامات عائد کرتے ہوئے تکنیکی مسائل پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT