Friday , September 21 2018
Home / اضلاع کی خبریں / تلنگانہ میں کانگریس کی ناکامی پر رپورٹ طلبی

تلنگانہ میں کانگریس کی ناکامی پر رپورٹ طلبی

کریم نگر 23مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)عام انتخابات برائے اسمبلی و پارلیمنٹ کے نتائج نے کانگریس کو بستر مرگ تک پہنچادیا ہے ۔ کانگریس کی یہ حالت تلنگاہ ریاست کے قیام کے دوران بھی سمجھ کے باہر ہے ۔ کانگریس پارٹی ہزار رکاوٹوں کے باوجود سونیا گاندھی نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ آندھرا میں کانگریس کو نقصان ہوگا، تلنگانہ کے قیام کا تاریخی فیصلہ کیا

کریم نگر 23مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)عام انتخابات برائے اسمبلی و پارلیمنٹ کے نتائج نے کانگریس کو بستر مرگ تک پہنچادیا ہے ۔ کانگریس کی یہ حالت تلنگاہ ریاست کے قیام کے دوران بھی سمجھ کے باہر ہے ۔ کانگریس پارٹی ہزار رکاوٹوں کے باوجود سونیا گاندھی نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ آندھرا میں کانگریس کو نقصان ہوگا، تلنگانہ کے قیام کا تاریخی فیصلہ کیا اس کے باوجود اس طرح کی شکست کا وہم و گمان بھی نہیں تھا ۔ اس سلسلہ میں حقائق کیا ہیں اس کی رپورٹ دینے کیلئے کل ہند کانگریس کمیٹی کی اعلی قیادت کی جانب سے ٹی پی سی سی ،ڈی سی سی کو رپورٹ دینے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اب ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی اس سلسلہ میںحقائق کی جانکاری کی چھان بین شروع کردی ہے ۔ تلنگانہ دینے کے باوجود ناکامی کیوں ہوئی ۔ ٹی آر ایس کو کامیابی ملنے کی وجہ کیا ہے؟ کریم نگر میں بارہ اسمبلی اور تین پارلیمانی حلقوں میں کانگریس کو ناکامی کیوں ہوئی ۔ کہا جارہا ہے کہ امیدواروں کے انتخاب، ٹیک کی فراہمی میں بہت کچھ اختیارات ایم پی کو دیئے گئے تھے جہاں انصاف نہیں ہوپایا ۔ ویملواڑہ ،چپہ ڈنڈی،سرسلہ ،کورٹلہ ،حضور آباد،پدا پلی ،رام گنڈم کی نشستوں کے ٹکٹ کی تقسیم ارکان پارلیمنٹ کی مرضی میں غلطی ہوئی ہے ۔ بعدازاں کانگریس کے تشہیری پروگرام میں تساہلی ،بدعنوانی و دیگر ترغیب میں صحیح طریقہ ،طرز عمل نہیں ہوپایا جس کے نتیجہ میں کافی نقصانات اٹھانا پڑا ہے ۔ کانگریس کمیٹی کے صدر پنالا لکشمیا کے طرز عمل مسلسل تنقیدیں ہورہی ہیں۔ نفع نقصان کا خیال نہ کرتے ہوئے کانگریس اعلی قیاد تلنگانہ دے دینے پر اس فیصلہ کی افادیت اور عوام کی تائید کس طرح حاصل کی جانی چاہئے تھی، ٹی پی سی سی بری طرح سے ناکام ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ کانگریس میں آپسی اختلافات گروپ بندی کیوجہ سے مخالفین ،سیاسی پارٹیوں کو کافی حوصلہ ملا۔ ایم پی ٹی سی ،زیڈ پی ٹی سی میونسپل کے ٹکٹ کی تقسیم میں ایم ایل اے اور ایم پی کی بے جا مداخلت بھی چناو پر بری طرح اثر انداز ہوئی ۔ عام چناو میں ناراض کانگریسی جنہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا صحیح طریقہ سے انہیں اعتماد میں نہ لینے کا برا اثر پڑا ۔ سریدھر بابو مقامی طور پر عوام کو دستیاب رہے ۔ ان کے گھر عوام اتنی زیادہ تعداد میں آئے کہ انہیں ٹھیک سے کھانے پینے کا بھی موقع نہیں ملا ۔ سبھی کام کروالئے، ہزاروں افراد نے جو چاہا حاصل کرلیا لیکن تائید نہیں ۔ اداکار پون کلیان کے جلسہ کے بعد عوام نے اپنا ارادہ بدل دیا۔

TOPPOPULARRECENT