Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی فراہمی پر حکومت عہد کی پابند

تلنگانہ میں کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی فراہمی پر حکومت عہد کی پابند

سیاسی جماعتوں و ماہرین سے مشاورت کے بعد پالیسی کو قطعیت دینے کا اعلان، اسمبلی میں کڈیم سری ہری کا بیان

سیاسی جماعتوں و ماہرین سے مشاورت کے بعد پالیسی کو قطعیت دینے کا اعلان، اسمبلی میں کڈیم سری ہری کا بیان
حیدرآباد۔/15مارچ، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کے سری ہری نے واضح کیا کہ تلنگانہ حکومت ریاست میں کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی فراہمی کے عہد پر قائم ہے اور اس سلسلہ میں ماہرین کے ساتھ مشاورت کے ذریعہ پالیسی تیار کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ تعلیمی سال سے قبل حکومت سیاسی جماعتوں اور ماہرین کے ساتھ مشاورت کے ذریعہ اس پالیسی کو قطعیت دیگی۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران کڈیم سری ہری نے کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی اسکیم کے بارے میں اپوزیشن ارکان کے اندیشوں کو غیر ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ ٹی آر ایس حکومت اور خاص طور پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اس اسکیم کے سلسلہ میں سنجیدہ ہیں کیونکہ یہ چیف منسٹر کی پیش کردہ تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے سلسلہ میں بجٹ میں رقومات منظور نہ کرنے سے یہ اندیشے پیدا ہورہے ہیں کہ حکومت اسے فراموش کردے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس اسکیم پر بہرحال عمل کرکے دکھائے گی۔ چیف منسٹر نے تمام طبقات کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے مقصد سے اس اسکیم کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں ڈی ایس سی نوٹیفکیشن کے بارے میں آئندہ تعلیمی سال کے آغاز سے قبل فیصلہ کرلیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری مدارس کے اساتذہ کی خدمات میں باقاعدگی پیدا کرنے کیلئے مساعی جاری ہے تاکہ اساتذہ کی کمی پر قابو پایا جاسکے۔ ساتھ ہی ساتھ سرکاری اسکولوں میں ٹیچر اور طلبہ کے تناسب کو قواعد کے مطابق بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی اسکیم کا آغاز کنڈر گارڈن سطح سے کیا جائے گا۔ کڈیم سری ہری کے مطابق تعلیم کے شعبہ میں سرکاری اور خانگی سطح پر علحدہ نظام تعلیم کے سبب اسکیم کی تیاری میں دشواری ہورہی ہے۔ تلنگانہ میں 43929 سرکاری مدارس ہیں جن میں طلبہ کی تعداد 53لاکھ سے زائد ہے۔ 4لاکھ سے زائد بچے ابھی بھی اسکولوں سے دور ہیں۔ 29ہزار خانگی اسکولس کام کررہے ہیں جن میں طلبہ کی تعداد 28لاکھ سے زائد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیاسی جماعتوں، ماہرین تعلیم، اساتذہ اور طلبہ کی تنظیموں سے مشاورت کے بعد پالیسی ڈاکیومنٹ تیار کیا جائے گا جسے اسمبلی میں مباحث کیلئے پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسمبلی میں اس مسئلہ پر مباحث کے بعد عمل آوری کے طریقہ کار کو قطعیت دی جائے گی۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ قانون حق تعلیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں بھی حکومت سنجیدہ ہے اور سرکاری مدارس میں اساتذہ اور طلبہ کے تناسب کو 1:30 کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اساتذہ ریشنلائزیشن جون یا جولائی تک مکمل ہوجائے گا۔ بی جے پی کے ڈاکٹر لکشمن نے ڈی ایس سی کے انعقاد کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بے روزگار طلبہ روزگار کے سلسلہ میں امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سرکاری مدارس کی ابتر صورتحال کا بھی ذکر کیا۔ کانگریس کے جیون ریڈی نے آئندہ تعلیمی سال سے کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی اسکیم پر عمل آوری کی تجویز پیش کی۔ کڈیم سری ہری نے کہا کہ تعلیمی نظام کی پیچیدگی کے سبب حکومت کو پالیسی پیپر تیار کرنے میں وسیع تر مشاورت کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT