Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں ’یوگی ‘آئے گا ،ٹی آر ایس حکومت سدھر جائے

تلنگانہ میں ’یوگی ‘آئے گا ،ٹی آر ایس حکومت سدھر جائے

اسمبلی میں بی جے پی رکن پربھاکر کی دھمکی، حکمراں جماعت کے ارکان کی مداخلت اور ڈپٹی اسپیکر کی ہدایت نظرانداز
حیدرآباد۔21 مارچ (سیاست نیوز) ’’تلنگانہ حکومت سدھر جائے ورنہ یوگی آئے گا‘‘ بی جے پی کے رکن این وی ایس ایس پربھاکر نے آج تلنگانہ اسمبلی میں یہ ریمارک کرتے ہوئے سنسنی دوڑا دی۔ اُن کا اشارہ دراصل اُترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کی طرف تھا۔ پربھاکر جو جاریہ بجٹ سیشن میں مرکزی حکومت اور نریندر مودی کے حوالے سے ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے میں پیش پیش تھے، آج پھر ایک بار انہوں نے مختلف شعبوں میں نریندر مودی حکومت کے تعاون کا حوالہ دیا اور الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت ، مرکزی امداد کا استعمال کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ بی جے پی اور نریندر مودی کا تذکرہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت کو نشانہ بنانے پر وزیر برقی جگدیشور ریڈی نے اعتراض کیا جس پر پربھاکر نے یہ کہتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنایا کہ اگر حکومت اپنے رویہ میں تبدیلی نہیں لائے گی تو جان لے کہ تلنگانہ میں بھی یوگی آئے گا۔ ان کے اس ریمارک پر ٹی آر ایس ارکان حیرت میں پڑ گئے اور ریمارکس کرنے لگے کہ تلنگانہ میں کے سی آر ہی رہیں گے۔ جب ارکان نے بی جے پی رکن سے استفسار کیا کہ تلنگانہ کیلئے یوگی آدتیہ ناتھ کون ہوگا تو انہوں نے جواب دیا یہ تو وقت پر ہی پتہ چلے گا۔ پربھاکر نے کہا کہ مرکزی حکومت برقی، آبپاشی، سڑکوں کی تعمیر اور دیگر شعبوں میں ریاست کو امداد فراہم کررہی ہے اور بی جے پی مرکز سے امداد کے حصول میں مکمل تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکز سے امداد دلانے میں ریاستی بی جے پی ناکام ہوتی ہے تو وہ آئندہ انتخابات میں عوام سے ووٹ سے اپیل نہیں کرے گی۔ بی جے پی رکن پربھاکر مختلف محکمہ جات کے مطالباتِ زر پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے پالمور لفٹ اریگیشن اور کالیشورم پراجکٹ کے ٹنڈرس میں بے قاعدگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان پراجکٹس پر ایوان کی کمیٹی تشکیل دی جائے تو الزامات ثابت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ بی جے پی رکن کی تقریر کے دوران ٹی آر ایس ارکان نے بار بار مداخلت کی کوشش کی اور ڈپٹی اسپیکر پدمادیویندر ریڈی نے بھی کئی بار انہیں تقریر ختم کرنے کی ہدایت دی لیکن پربھاکر نے سلسلہ تقریر جاری رکھا۔ ایک مرحلہ پر ڈپٹی اسپیکر نے پربھاکر کا مائیک کٹ کردیا جس پر فلور لیڈر کشن ریڈی نے مداخلت کرتے ہوئے مزید کچھ دیر کیلئے وقت دلایا۔ تقریر کے آخری حصہ میں جب پربھاکر حکومت پر سخت تنقیدیں کررہے تھے تو ڈپٹی اسپیکر نے مباحث میں حصہ لینے کیلئے کانگریس کے کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کا نام پکارا۔ بحث کے دوران پربھاکر نے الزام عائد کیا کہ شہری علاقوں میں غیرمعلنہ برقی کٹوتی کے سبب طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت ایک طرف برقی کٹوتی نہ ہونے کا دعویٰ کررہی ہے لیکن عین امتحانات کے موقع پر طلبہ مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کا بجٹ عوام کی ضروریات کی تکمیل کیلئے کافی نہیں ہے۔ انہوں نے پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ کی مخالفت کی اور کہا کہ عہدیدار سونامی سروے کے نام پر باہر سے گھر کو دیکھ کر من مانی ٹیکس عائد کررہے ہیں۔ بلدی انتخابات کے وقت سلم علاقوں میں ٹیکس کی معافی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن انتخابات کے بعد جبراً ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ انہوں نے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں تالابوں اور جھیلوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT