Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں 153 متوقع اسمبلی حلقے

تلنگانہ میں 153 متوقع اسمبلی حلقے

حیدرآباد۔ 21 ۔ جنوری (سیاست نیوز) نو تشکیل شدہ ریاست تلنگانہ میں اسمبلی حلقہ جات کی از سر نو حدبندی کا کام تیزی سے جاری ہے اور توقع ہے کہ تلنگانہ میں اسمبلی حلقوں کی موجودہ تعداد 119 سے بڑھ کر 153 ہوجائے گی۔ ہر ضلع میں اسمبلی حلقوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور موجودہ لوک سبھا حلقوں کی از سر نو حد بندی کی جائے گی ۔ اسمبلی حلقوں کی تعداد میں ا

حیدرآباد۔ 21 ۔ جنوری (سیاست نیوز) نو تشکیل شدہ ریاست تلنگانہ میں اسمبلی حلقہ جات کی از سر نو حدبندی کا کام تیزی سے جاری ہے اور توقع ہے کہ تلنگانہ میں اسمبلی حلقوں کی موجودہ تعداد 119 سے بڑھ کر 153 ہوجائے گی۔ ہر ضلع میں اسمبلی حلقوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور موجودہ لوک سبھا حلقوں کی از سر نو حد بندی کی جائے گی ۔ اسمبلی حلقوں کی تعداد میں اضافہ کے سلسلہ میں سب سے زیادہ فائدہ ضلع رنگا ریڈی کو ہوگا جہاں اسمبلی حلقوں کی تعداد 14 سے بڑھ کر 23 تک پہنچ جائے گی جبکہ دیگر اضلاع میں 2 تا 4 اسمبلی حلقوں کا اضافہ ممکن ہے۔ ضلع رنگار یڈی سے تعلق رکھنے والے قائدین میں اسمبلی حلقوں کی تعداد میں بھاری اضافہ کے سبب کافی جوش و خروش دیکھا جارہا ہے کیونکہ کئی قائدین کو جو گزشتہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی ٹکٹ سے محروم ہوگئے تھے، انہیں آئندہ انتخابات میں کسی حلقہ سے بآسانی ٹکٹ مل سکتا ہے۔ اسمبلی حلقوں کا تعین کرنے والی کمیٹی کی عبوری رپورٹ سے متعلق عادل آباد میں اسمبلی حلقوں کی تعداد 10 سے بڑھ کر 12 ہوسکتی ہے جبکہ نظام آباد میں دو، کریم نگر میں 4 ، میدک 3 ، حیدرآباد 2 ، محبوب نگر 4 ، نلگنڈہ 3 ، ورنگل 3 اور کھمم ضلع میں دو نئے اسمبلی حلقوں کا اضافہ ہوگا۔ تلنگانہ کے 10 اضلاع میں سب سے زیادہ فائدہ ضلع رنگا ریڈی کا ہوگا جہاں 9 اسمبلی حلقوں کا اضافہ ہونے جارہا ہے۔ سابق میں اضلاع کی آبادی کی بنیاد پر حلقوں کی تشکیل عمل میں لائی گئی تھی۔ 2001 ء مردم شماری کے مطابق 2009 ء میں اسمبلی حلقوں کی حدبندی کی گئی تھی، جس کے باعث دیہی علاقوں کے مقابلہ شہری علاقوں کے حلقوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا۔

ریاست کی تنظیم جدید قانون کے متعلق تشکیل دیئے گئے کمیشن نے اسمبلی حلقوں کے تعین کے سلسلہ میں آبادی کو بنیاد بنایا ہے۔ 2001 ء مردم شماری کے مطابق تلنگانہ کی آبادی 3 کروڑ 52 لاکھ 86 ہزار 757 ہے۔ اس آبادی کو اگر 153 اسمبلی حلقوں میں تقسیم کیا جائے تو ہر اسمبلی حلقے میں رائے دہندوں کی تعداد تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار 632 ہوگی۔ اضلاع میں سب سے زیادہ آبادی ضلع رنگا ریڈی کی ہے جہاں 52 لاکھ 96 ہزار 396 کی آبادی ریکارڈ کی گئی جبکہ سب سے کم آبادی نظام آباد میں ریکارڈ کی گئی جو 25 لاکھ 52 ہزار 73 ہے جس کے مطابق وہاں موجودہ 9 اسمبلی حلقوں میں صرف دو حلقوں کا اضافہ ہوگا ۔ ضلع کریم نگر کی آبادی 38 لاکھ 11 ہزار 738 ریکارڈ کی گئی اور وہاں موجودہ 13 اسمبلی حلقوں میں 4 کا اضافہ ہوگا۔ ضلع محبوب نگر کی آبادی 40 لاکھ 42 ہزار 191 ہے۔ لہذا وہاں موجودہ 14 اسمبلی حلقوں میں مزید چار کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ حیدرآباد کی آبادی 40 لاکھ 10 ہزار 232 ریکارڈ کی گئی ۔ اس اہتمام سے اسمبلی حلقوں کی موجودہ تعداد 15 میں 3 کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایک لوک سبھا حلقہ کے تحت 9 اسمبلی حلقوں کو شامل کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT