Thursday , April 26 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں 2019 انتخابات کے لیے کانگریس کی تیاریاں

تلنگانہ میں 2019 انتخابات کے لیے کانگریس کی تیاریاں

پنجاب کے طرز پر قسمت آزمائی ، پسماندہ طبقات کے لیے مختص نشستوں پر حکمت عملی
حیدرآباد ۔ 22 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے 2019 کی انتخابی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے ۔ پنجاب کے کامیاب فارمولے کو تلنگانہ میں آزماتے ہوئے ایس سی اور ایس ٹی طبقات کے لیے مختص 31 اسمبلی و 5 لوک سبھا حلقوں پر تجربہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے ۔ اے آئی سی سی اور راہول گاندھی کی ٹیم نے پنجاب میں کانگریس کی کامیابی کے لیے جو منصوبہ تیار کیا تھا ۔ وہ بے حد کامیاب ہوا ہے ۔ اے آئی سی سی کی جانب سے کرائے گئے سروے میں کانگریس کو تلنگانہ میں کامیابی کے روشن امکانات نظر آئے ہیں اور جو خامیاں اور کوتاہیاں اور غفلت وغیرہ پائی جاتی ہیں ۔ اس کو دور کرنے کے لیے بھی تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ میں ایس سی طبقہ کے لیے 19 اور ایس ٹی طبقات کے لیے 12 اسمبلی حلقہ جات محفوظ کئے گئے ہیں ۔ اس طرح جملہ 5 لوک سبھا حلقوں میں 3 ایس سی اور 2 ایس ٹی طبقات کے لیے مختص کئے ہیں ۔ ایس سی ایس ٹی طبقات کے لیے مختص جملہ 31 اسمبلی حلقوں میں کانگریس نے 2014 کے عام انتخابات میں صرف 6 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ ریاست تلنگانہ میں جملہ اسمبلی حلقوں کی تعداد 119 ہے ۔ 60 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرنے والی سیاسی جماعت کو حکومت تشکیل دینے کی گورنر کی جانب سے دعوت دی جاتی ہے ۔ پنجاب میں کانگریس کے فارمولے اور تلنگانہ کی تازہ سیاسی صورتحال و تمام پہلووں کا جائزہ لینے کے بعد کانگریس پارٹی نے ان 31 اسمبلی حلقوں پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ دو دن قبل اس کا جائزہ لینے کے لیے کانگریس پارٹی کے سینئیر قائدین کا ایک اہم اجلاس گاندھی بھون میں منعقد ہوا ہے ۔ جس میں راہول گاندھی کے سیاسی مشیر و اے آئی سی سی ایس سی سیل کے صدر نشین کے راجو ، انچارج سکریٹری تلنگانہ کانگریس امور آر سی کنٹیا صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی ورکنگ پریسیڈنٹ ملو بٹی وکرامارک کے علاوہ دوسرے سینئیر قائدین نے شرکت کی ۔ ریاست کی تازہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے پسماندہ طبقات کے لیے مختص اسمبلی و پارلیمانی حلقوں پر پارٹی کی کامیابی کا جائزہ لیا گیا ۔ کانگریس کی جانب سے بیشتر حلقوں میں اجلاس منعقد کرتے ہوئے ہر اسمبلی کے لیے ایک کنوینر منتخب کرنے کے ساتھ فی کس 10 ہزار پارٹی کارکنوں کا سرگرم گروپ تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ انہیں خصوصی تربیت فراہم کرتے ہوئے 31 اسمبلی اور 5 لوک سبھا حلقوں میں گھر گھر مہم چلاتے ہوئے عوام میں شعور بیدار کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں ایس سی طبقہ کے ہر خاندان کو 3 ایکڑ اراضی دینے اور ایس ٹی طبقہ کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ جس پر کوئی عمل آوری نہیں کی گئی ۔ گذشتہ 4 بجٹ میں ایس ٹی اور ایس سی طبقات کے لیے مختص 50 فیصد بجٹ بھی خرچ نہیں کیا گیا ۔ ایس سی ایس ٹی طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے اسپیشل ڈیولپمنٹ پلان کا اعلان کیا گیا اس پر کوئی عمل آوری نہیں ۔ اضلاع کریم نگر ، کھمم اور سرسلہ میں ایس سی ایس ٹی طبقات پر پولیس کی ظلم و زیادتیوں کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ دوسرے مقامی مسائل کو موضوع بحث بناتے ہوئے آئندہ 6 ماہ تک مہم چلانے کو قطعیت دی گئی ہے ۔ ان حلقوں میں پسماندہ طبقات کے قائدین میں اتحاد پیدا کرنے ان طبقات سے ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف جدوجہد کرنے والی رضاکارانہ اور سماجی تنظیموں کو بھی اعتماد میں لے کر کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT