Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں 3 لاکھ کروڑ روپئے کی اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ضروری

تلنگانہ میں 3 لاکھ کروڑ روپئے کی اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ضروری

سروے کی ہدایت پر زور ، لینکو ہلز مقدمہ میں ہنوز کوئی پیش رفت نہیں ، ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کا چیف منسٹر کو مکتوب
حیدرآباد۔23ستمبر(سیاست نیوز) ریاستی حکومت تلنگانہ میں موجود 3لاکھ کروڑ سے زائد مالیاتی اوقافی اراضیات کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کرتے ہوئے اراضیات کا سروے کرنے والے عہدیداروں کو ہدایت جاری کرے تاکہ ریاست میں موجود اوقافی اراضیات کو قابضین کی ملکیت قرار دیئے جانے سے بچایا جا سکے۔ جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت محکمہ مال کے سروے کے دوران اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے عصری سہولتوں سے استفادہ کرے تاکہ ریاست میں موجود اوقافی جائیدادوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ انہو ںنے مکتوب میں چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر کو یاددہانی کروائی کہ بحیثیت صدر تلنگانہ راشٹر سمیتی انہوں نے لینکو ہلز کو واپس حاصل کرنے کے علاوہ اس مقام پر مسلمانوں کو اراضیات و مکانات کی حوالگی کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ٹی آر ایس کو اقتدار حاصل ہونے کی صورت میں اندرون 100یوم اس عمل کا آغاز کیا جائے گا لیکن 3سال گذر جانے کے بعد بھی لینکو ہلز مقدمہ میں کوئی پیشرفت نظر نہیں آرہی ہے اور خود حکومت کے اداروں کے درمیان جاری قانونی رسہ کشی کو ختم کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں سرکاری اراضیات اور کھلی اراضیات کا مکمل سروے خوش آئند بات ہے لیکن اس سروے کے دوران وقف جائیدادوں پر موجود ناجائز قابضین یا کاشت کاری کیلئے حوالہ کی گئی اوقافی اراضیات کو کسانوں کے حوالہ کردیئے جانے کے خدشات پیدا ہو چکے ہیں اور ان خدشات کو دور کرنے کے لئے حکومت کو فوری احکام جاری کرتے ہوئے تمام ضلع کلکٹرس کو اس بات کا پابند بنایا جانا چاہئے کہ ریاست تلنگانہ میں موجود 58ہزار اوقافی اداروں کے تحت موجود ملکیت کی نشاندہی کرتے ہوئے ان جائیدادوں کو درج اوقاف کرنے کے اقدامات کئے جائیں کیونکہ ان کا اندراج وقف بورڈ میں پہلے سے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں موجود لاکھوں کروڑ کی اوقافی ملکیت کو تباہی سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ سروے کے دوران محکمہ مال اور ریاستی وقف بورڈ کے درمیان موجود عدم تال میل کو دور کرتے ہوئے ریاست آندھرا پردیش کی طرز پر اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے اقدامات کئے جائیں۔ جناب زاہد علی خان نے بتایا کہ ریاست آندھرا پردیش میں اورقافی جائیدادوں کی رجسٹری کو نا ممکن بنا دیا گیا ہے اور محکمہ مال کی جانب سے ضلع کرنول کی کسی بھی موقوفہ جائیداد کو فروخت یا رجسٹر ی نہیں کی جاسکتی ۔ اسی لئے حکومت تلنگانہ کو بھی چاہئے کہ حکومت اسی طرح کے اقدامات کے ذریعہ ریاست کے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کی مثال قائم کرے۔ جناب زاہد علی خان نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں حکمراں طبقہ کو چاہئے کہ وہ فوری طورپر اراضیات کے سروے کے دوران ضلع واری سروے نمبرات جو وقف بورڈ کے ریکارڈس میں درج ہیں ان کی فہرست جاری کرے اور ان جائیدادوں کو نئے سروے کے دوران بھی موقوفہ برقرار رکھنے کے لئے جی پی ایس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سٹلائٹ میپنگ کے ذریعہ ان کی نشاندہی مکمل کی جائے۔ انہو ں نے بتایا کہ حکومت سروے کو معیاری اور بہتر بنانا چاہتی ہے تو اس سروے میں وقف اراضیات کے تحفظ کیلئے دیانتداری کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے کیونکہ سابق حکومتوں کے دوران اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو ممکن بنانے کے لئے کوئی سخت اقدامات نہیں کئے گئے تھے لیکن موجودہ تلنگانہ حکومت نے اقتدار حاصل کرنے سے قبل ریاست کی اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا اسی لئے توقع کی جا رہی ہے کہ محکمہ مال اور ریاستی وقف بورڈ کے عہدیداروں کے ساتھ مشاورت کو ممکن بنایا جائے گا اور اوقافی اراضیات کے معاملات میں مداخلت نہ کرتے ہوئے انہیں محفوظ بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT