Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں 77538 ایکڑ اور رائلسیما میں 40929 ایکڑ موقوفہ اراضی

تلنگانہ میں 77538 ایکڑ اور رائلسیما میں 40929 ایکڑ موقوفہ اراضی

آندھرا، تلنگانہ اور رائلسیما میں 8632 درج وقف مساجد، عنقریب ریکارڈس کی علحدگی

آندھرا، تلنگانہ اور رائلسیما میں 8632 درج وقف مساجد، عنقریب ریکارڈس کی علحدگی

حیدرآباد ۔ 12 اپریل ۔ آندھراپردیش میں موقوفہ اداروں، مساجد، درگاہوں۔ قبرستانوں، عیدگاہوں، عاشورخانوں، چلوں وغیرہ کی جملہ تعداد 35703 ہے اور یہ ایسی تعداد ہے جو پہلے وقف سروے کے بعد بتائی گئی ہے لیکن اب جبکہ 2 جون 2014ء کو تلنگانہ کا یوم تاسیس ہوگا۔ مسلمان بے چین ہیں کہ تلنگانہ میں اور آندھرا اور رائلسیما میں موقوفہ جائیدادوں کی تعداد کتنی ہے اس سلسلہ میں اوقافی ریکارڈس سے پتہ چلا کہ تلنگانہ آندھرا اور رائلسیما میں 35703 موقوفہ ادارے ہیں جو 1,45,55.94 ایکر اراضی پر محیط ہیں۔ اس میں سے 81,591.40 ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضے کرلئے گئے ہیں اور وقف بورڈ کے کنٹرول میں صروف 63,920.54 ایکڑ اراضی باقی رہ گئی ہے۔ تلنگانہ میں 77538.70 ایکڑ آندھرا میں 27044 موقوفہ جائیدادوں کی تباہی کیلئے ریاستی حکومتیں مفاد پرست عناصر اور سودے باز سیاستداں ذمہ دار ہیں۔ تلنگانہ، آندھرا اور رائلسیما میں جملہ 8632 مساجد ہیں ان میں سب سے زیادہ 3521 مساجد تلنگانہ میں ہیں، جس میں حیدرآباد میں 772 میدک کی 469 اور ضلع رنگاریڈی 454 درج اوقاف مساجد شامل ہیں جبکہ وجیانگرم میں درج وقف مساجد کی تعداد 8 بتائی جاتی ہے۔ قیمتی موقوفہ جائیدادوں، اداروں اور مساجد و درگاہوں کے علاوہ عاشورخانوں کی حفاظت کیلئے وقف بورڈ میں صرف 229 ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اوقافی جائیدادوں کی تعداد کے لحاظ سے ملک میں ریاست آندھراپردیش سرفہرست ہے۔ ایسے میں ملازمین کی اس قدر کم تعداد دراصل ایک ایسی سازش کا حصہ ہے جو موقوفہ جائیدادوں کی تباہی کیلئے رچی گئی۔ سقوط حیدرآباد کے ساتھ ہی اوقافی جائیدادوں کو مفاد پرست اور فرقہ پرست لوٹ لیا۔ چونکہ 2 جون کو تلنگانہ کا یوم تاسیس قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے اسپیشل آفیسر ریاستی وقف بورڈ جناب شیخ محمد اقبال تلنگانہ اور آندھرا کی موقوفہ جائیدادوں کیلئے الگ الگ ریکارڈس بنانے کا آغاز کردیا ہے۔ تلنگانہ اور آندھرا میں نئی حکومتیں بنانے والی جماعتیں موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کیلئے کیا اقدامات کرتی ہیں یا سیاستداں ماضی کی طرح قیمتی اوقافی جائیدادوں کو مردوں کا مال سمجھ کر آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ [email protected]

TOPPOPULARRECENT