Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں 80 سال کے طویل وقفہ بعد اراضی سروے

تلنگانہ میں 80 سال کے طویل وقفہ بعد اراضی سروے

SRI K.CHANDRASHEKAR RAO

ریاستی وزراء ، ارکان پارلیمنٹ اور دیگر عوامی نمائندوں کو سرگرم حصہ لینے کی ہدایت : چیف منسٹر
حیدرآباد۔/26 اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاستی وزراء، ارکان پارلیمنٹ اور عوامی نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ تلنگانہ میں 80 سال کے طویل وقفہ کے بعد ہونے والے اراضی سروے میں سرگرمی سے حصہ لیں تاکہ اراضیات کے صحیح موقف کا اندازہ ہوسکے۔ چیف منسٹر نے آج تلنگانہ بھون میں عوامی نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جس میں 15 ستمبر سے شروع ہونے والے سروے کی تفصیلات بیان کی گئیں۔ حکومت نے 1934 کے بعد پہلی مرتبہ اراضیات کے تمام ریکارڈ کو اَپ ڈیٹ کرنے کیلئے جامع سروے کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ مواضعات کی سطح سے اس سروے کا آغاز ہوگا اور گاؤں و منڈل سطح پر سروے میں تعاون کیلئے کسانوں کی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹرس، ریاستی وزراء، ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی و کونسل اور حکومت کے مشیروں نے شرکت کی۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر مال محمد محمود علی نے کہا کہ حکومت آئندہ سال سے دو فصلوں کیلئے کسانوں کو فی ایکر 8000 روپئے ادا کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے لہذا کسانوں کی اراضیات کے ریکارڈ کو اَپ ڈیٹ کرتے ہوئے اس اسکیم سے استفادہ کی راہ ہموار کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ریونیو ولیج میں کسانوں اور ریونیو عہدیداروں پر مشتمل 15 رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ ریونیو ولیجس کمیٹیوں کے ارکان کی تعداد ایک لاکھ 62ہزار ہوگی۔ اس کے علاوہ منڈل کی سطح پر 24 رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ ریاستی سطح پر علحدہ کمیٹی ہوگی جو لینڈ سروے کے کام کی نگرانی کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تین مراحل میں ریونیو ریکارڈ کے سروے کا کام مکمل کیا جائے گا۔ محمود علی نے کہا کہ اس سروے کی تکمیل سے وقف، انڈومنٹ، جنگلات، بودھان اور اسائینڈ اراضیات کا موقف بھی واضح ہوجائے گا۔ ریونیو ریکارڈ کے تحت ریاست میں موجود اوقافی اراضیات کی حقیقی صورتحال سامنے آئے گی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اس سروے کے ذریعہ اراضیات کا حقیقی موقف جاننا چاہتے ہیں اور انہوں نے عوامی نمائندوں کو ہدایت دی کہ وہ اس کام میں خصوصی دلچسپی لیں۔ انہوں نے کہا کہ یکم تا 9 ستمبر کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں آئے گی جبکہ 10تا 14 ستمبر کمیٹیوں کیلئے ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے گا۔ 15 ستمبر سے سروے کا آغاز ہوگا۔ ایک گاؤں میں سروے کی تکمیل کیلئے ایک ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ 3600 سے زائد کمیٹیاں ریاست میں اس کام میں شامل رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سروے کی تکمیل کے بعد تلنگانہ پاس بک جاری کی جائے گی جو پاسپورٹ کی طرز پر ہوگی۔ اس پاس بک میں کوئی ترمیم یا تحریف کی گنجائش نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں 80فیصد اراضیات کا کوئی تنازعہ نہیں ہے لہذا ان کے سروے کا کام پہلے مرحلہ میں مکمل ہوگا۔ تنازعات کی یکسوئی کیلئے ڈسمبر میں یہ کمیٹیاں کام کریں گی۔ محمود علی نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا یہ اقدام تاریخی ہے اور تلنگانہ تحریک کی طرح اس پروگرام میں عوامی نمائندوں کی شمولیت ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT