Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ تنازعہ کا شکار

تلنگانہ وقف بورڈ تنازعہ کا شکار

درگاہ کمیٹی کی تشکیل میں سرکاری احکامات کی خلاف ورزی، مقامی سیاسی جماعت کا دباؤ

حیدرآباد۔/14جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے اُمور میں سیاسی مداخلت کے بارے میں اگرچہ حالیہ عرصہ میں کئی مثالیں منظر عام پر آچکی ہیں تاہم تازہ ترین معاملہ میں وقف بورڈ خود تنازعہ میں گِھر چکا ہے۔ وقف بورڈ کو ایک درگاہ کی کمیٹی کی تشکیل کے سلسلہ میں اس قدر استعمال کیا گیا کہ بورڈ نے وقف ایکٹ اور سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نئی کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی۔ درگاہ حضرت برہنہ شاہ  ؒ  ریاست نگر کی کمیٹی کو وقف بورڈ نے مختلف بے قاعدگیوں کے الزامات ثابت ہونے پر معطل کردیا لیکن مقامی سیاسی جماعت کے دباؤ کے تحت نئی تشکیل شدہ کمیٹی میں معطل شدہ کمیٹی کے بعض ارکان کو دوبارہ شامل کیا گیا جو وقف ایکٹ اور جی او 74 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ وقف بورڈ کے عہدیدار بھی اس بات کو تسلیم کررہے ہیں کہ معطل شدہ کمیٹی کے ارکان کو نئی کمیٹی میں ہرگز شامل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی سابق میں اس طرح کی کوئی مثال موجود ہے۔ تاہم وہ اس معاملہ میں کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں کیونکہ وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز نے اس کمیٹی کو منظوری دی ہے جوکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری بھی ہیں۔ حکومت نے جلال الدین اکبر کے سیاسی دباؤ کے تحت تبادلہ کے بعد سید عمر جلیل کو عہدیدار مجاز کی زائد ذمہ داری دی ہے جو کہ مقامی جماعت کی سفارش پر ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی اہم وقف معاملات میں عہدیدار مجاز اپنے ماتحت عہدیداروں بشمول چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ کی رائے کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہوئے مقامی جماعت کے حق میں فیصلے کئے ہیں۔ درگاہ حضرت برہنہ شاہ ؒ کے معاملہ میں وقف بورڈ نے تحقیقات کے بعد کمیٹی کو مختلف بے قاعدگیوں کا مرتکب پایا اور معطل کرتے ہوئے اسے اپنی راست تحویل میں لیا۔ کاغذی طور پر درگاہ کے انتظامات راست تحویل میں لینے کا معاملہ کیا گیا لیکن وہاں معطل شدہ کمیٹی ہی انتظام کی نگرانی کررہی تھی۔ بعد میں ایک نئی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں 5 ارکان ایسے ہیں جو معطل شدہ کمیٹی میں شامل تھے جن پر بے قاعدگیوں کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کے عہدیداروں نے ان ارکان کی شمولیت پر اعتراض بھی کیا لیکن عہدیدار مجاز نے اسے مسترد کردیا حالانکہ عہدیداروں کی رائے وقف ایکٹ کے مطابق تھی۔ اتنا ہی نہیں کمیٹی میں صدر کے بشمول 4 غیر مقامی افراد کی شمولیت کی بھی اطلاعات ہیں ان میں بعض ایسے ہیں جن پر مجرمانہ سرگرمیوں کے الزامات ہیں۔ اس معاملہ میں مقامی افراد کے وفد نے نہ صرف حج ہاوز میں دھرنا منظم کیا بلکہ عہدیدار مجاز اور سی ای او سے نمائندگی کی۔ قواعد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو وقف بورڈ کے پاس معطل شدہ ارکان کی علحدگی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے تاہم عہدیدار خود کو بے بس تصور کررہے ہیں کیونکہ ان پر عہدیدار مجاز کا دباؤ ہے اور وہ ان کے فیصلہ کو قبول کرنے کے پابند ہیں۔ وقف بورڈ کے عہدیدار مقامی افراد کی نمائندگی پر تذبذب کا شکار ہیں کہ آخر اس تنازعہ کا حل کس طرح نکالا جائے۔ وقف بورڈ کے لیگل ڈپارٹمنٹ نے بھی معطل شدہ ارکان کی دوبارہ شمولیت کے خلاف اپنی رائے دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کمیٹی کے خلاف وقف ٹریبونل سے رجوع کیا جائے تو باآسانی نئی کمیٹی برخواست ہوجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT