Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ سے جناب سید اکبر نظام الدین حسینی صابری کے معاشی اختیارات بحال

تلنگانہ وقف بورڈ سے جناب سید اکبر نظام الدین حسینی صابری کے معاشی اختیارات بحال

وقف فنڈ اور حق انتظامیہ منہا ، چیف ایگزیکٹیو آفیسر بورڈ کے باقاعدہ احکامات
حیدرآباد۔ 9 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے درگاہ حضرت شاہ خاموشؒ نامپلی، درگاہ حضرت پیراں حسینیؒ اور احاطہ امیر علی شاہؒ مہاراج گنج کے متولی جناب سید اکبر نظام الدین حسینی صابری کے معاشی اختیارات کو بحال کردیا ہے۔ اس سلسلہ میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے باقاعدہ احکامات جاری کئے۔ وقف بورڈ کے انتخابات سے قبل اس وقت کے عہدیدار مجاز نے جناب اکبر نظام الدین کو بحیثیت متولی بحال کرتے ہوئے معاشی اختیارات سلب کردیئے تھے۔ تلنگانہ وقف بورڈ نے 23 مئی کو اپنے اجلاس میں قرارداد منظور کی اور فینانشیل پاورس بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔ وقف بورڈ نے 6 مئی 2014ء سے آج تک ان اوقافی اداروں کی جائیدادوں سے جو کرایہ حاصل کیا ہے اسے بھی متولی کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے اپنے احکامات میں 6 مئی 2014ء سے آج تک وصول کردہ کرایہ جات میں سے وقف فنڈ اور حق انتظامیہ منہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ فینانشیل پاورس کی بحالی اور کرایہ جات کی ادائیگی کے احکامات جاری کردیئے گئے لیکن جناب اکبر نظام الدین وقف بورڈ اور حق انتظامیہ کو منہا کرنے کی مخالفت کررہے ہیں۔ احکامات میں بتایا گیا ہے کہ 17 نومبر 2016ء کو جوائنٹ کلکٹر رنگاریڈی ضلع کی جانب سے تحقیقات کے پیش نظر فینانشیل پاورس کے بغیر جناب اکبر نظام الدین کو بحیثیت متولی بحال کیا گیا تھا۔ جناب اکبر نظام الدین نے 11 اپریل 2017ء کو تحریری طور پر نمائندگی کی جس میں بتایا کہ عدالت نے وقف بورڈ کو تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر اندرون ایک ہفتہ کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں ان کے خلاف عائد کردہ الزامات ثابت نہیں ہوئے اور رپورٹ ان کے حق میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہائی کورٹ نے وقف بورڈ کو ہدایت دی کہ وجہ نمائی نوٹس کی میرٹ کی بنیاد پر یکسوئی کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ معاشی اختیارات نہ دیئے جانے کے سبب اوقافی جائیدادوں کے کرائے دار انہیں کرایہ ادا نہیں کررہے ہیں، خاص طور پر درگاہ حضرت پیراں حسینی احاطہ امیر علی شاہ مہاراج گنج کے کرایہ دار ادائیگی سے بچ رہے ہیں جس سے اوقافی جائیداد کو نقصان ہورہا ہے۔ لہٰذا انہوں نے فینانشیل پاور دیئے جانے کی خواہش کی۔ صدرنشین وقف بورڈ نے اس معاملہ کو 23 مئی کے وقف بورڈ اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں اس مسئلہ کا جائزہ لیتے ہوئے فینانشیل پاور بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جوائنٹ کلکٹر رنگاریڈی کے ذریعہ جو تحقیقات کی جانی تھی وہ مقررہ تین ماہ کی مدت میں مکمل نہیں ہوئی ہے۔ وقف ایکٹ کے مطابق متولی کے فینانشیل پاورس سلب کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ بورڈ نے دونوں اوقافی اداروں کے سلسلہ میں فینانشیل پاورس کی بحالی اور تین سال کی مدت کے دوران اصول کردہ کرایہ ادا کرنے کی قرارداد منظور کی۔ تاہم چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے وقف فنڈ اور حق انتظامیہ منہا کرتے ہوئے کرایہ جات واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ معاملہ تنازعہ کا سبب بن چکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT