Friday , July 20 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ میںجزوی عوامی خدمات بحال

تلنگانہ وقف بورڈ میںجزوی عوامی خدمات بحال

قضاۃ کی کارکردگی کا آغاز، لیگل سیکشن، آر ٹی آئی سیکشن اور روزمرہ کی امور کی انجام دہی کی اجازت
حیدرآباد ۔ 16 ۔ نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں ایک ہفتہ کے بعد جزوی عوامی خدمات کو بحال کیا گیا اور محکمہ قضاۃ کی کارکردگی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس کے علاوہ لیگل سیکشن، آر ٹی آئی سیکشن اور روز مرہ سے متعلق دیگر اُمور کی انجام دہی کی اجازت دی گئی ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے ان خدمات کی بحالی کے سلسلہ میں چیف منسٹر سے نمائندگی کی تھی۔ وقف بورڈ میں آج قضاۃ سیکشن میں کافی ہجوم دیکھا گیا جس پر صدرنشین وقف بورڈ نے اسٹاف کو ہدایت دی کہ وہ رات تک کام کریں تاکہ تمام ضرورت مندوں کو سرٹیفکٹ جاری ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز کے علاقوں اور اضلاع سے لوگ حیدرآباد پہنچتے ہیں لہذا انہیں واپس نہ کیا جائے۔ محمد سلیم نے بتایا کہ تمام سیکشنوں کی فائلوں کی جانچ اور ہر سیکشن کو حوالہ کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ عہدیداروں نے تمام سیکشنوں کی فائلوں کو ایک ہی مقام پر مہربند کردیا جس کے سبب تمام فائلیںیکجا ہوچکی ہیں۔ حکومت نے عوام کو دشواریوں سے بچانے کیلئے بورڈ کے روزمرہ اور ضروری کاموں کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے جبکہ فائیلوں کی ترتیب اور اُن کی انونٹری کی تیاری کا کام جاری ہے۔ اس کام میں محکمہ مال کے 10 سے زائد عہدیدار شامل ہیں جن کی اعانت کیلئے اقلیتی بہبود ڈائرکٹوریٹ کے 6 عہدیداروں کو مامور کیا گیا۔ یہ عہدیدار وقف بورڈ کے تمام دفاتر کی یکجا کی گئی فائیلوں کو ترتیب دیں گے جن میں اوقافی جائیدادوں، اراضی، غیر مجاز قبضوں اور دیگر فائیلوں کو علحدہ کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کام کی تکمیل کیلئے کم سے کم 10 دن کا وقت لگ سکتا ہے لہذا اس قدر طویل مدت تک وقف بورڈ کو غیر کارکرد رکھنے کے بجائے ضروری اُمور کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے بتایا کہ فائیلوں کی ترتیب کے بعد حکومت اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل ٹیم تشکیل دے گی جو اس کی جانچ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بتدریج بورڈ کے تمام سیکشن کارکرد ہوجائیں گے۔ بورڈ کے قضاۃ سیکشن کے ذریعہ میریج اور دیگر سرٹیفکیٹس کی اجرائی کا آج سے آغاز ہوا اور اکاؤنٹ سیکشن کو ہدایت دی گئی کہ وہ روزانہ کا کلکشن حاصل کرلے۔ اسی دوران وقف بورڈ کے دیگر سیکشنوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین اُن کے سیکشن مُہر بند ہونے کے سبب کسی بھی کام سے قاصر ہیں وہ دفتری اوقات میں حج ہاوز میں موجود رہ کر گھر واپس ہورہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں صدرنشین وقف بورڈ بھی دفتر کو نہیں آرہے ہیں جبکہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی اپنی والدہ کے انتقال کے باعث رخصت پر ہیں۔ ایسے میں ملازمین پر کوئی نگرانی نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ نے اراضی سروے کے سلسلہ میں جن عہدیداروں کو اضلاع کی ڈیوٹی پر مامور کیا تھا ان میں سے بعض مختلف بہانوں کے ذریعہ ڈیوٹی پر رجوع نہیں ہوئے۔ بورڈ نے منڈل کی سطح پر ریکارڈ تیار کرتے ہوئے اسے ضلع کلکٹرس کے حوالے کیا ہے تاکہ سروے کے دوران وقف اراضیات کی نشاندہی میں مدد ملے۔ اسی دوران وقف بورڈ کے عہدیداروں اور ملازمین نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہیں افسوس اس بات کا ہے کہ کسی بھی سطح سے ان کی تائید نہیں کی جارہی ہے بلکہ صدرنشین سمیت تمام اعلیٰ عہدیداروں اور عوامی نمائندوں نے وقف بورڈ کے ریکارڈ کو مُہر بند کرنے کی تائید کرتے ہوئے بے قاعدگیوں کیلئے ملازمین کو ذمہ دار قرار دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ فائیلوں کی جانچ کا کام مکمل ہونے کے بعد قصور وار پائے جانے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے اور خاص طور پر عارضی ملازمین جن میں ریٹائرڈ ملازمین بھی شامل ہیں‘ کارروائی کی زد میں آسکتے ہیں۔ حکومت کو مختلف ذرائع سے رپورٹ حاصل ہوئی کہ وقف بورڈ کی اہم فائیلوں اور ریکارڈ کو غائب کرنے میں ملازمین اور سابق عہدیداروں کا ہاتھ ہے۔

TOPPOPULARRECENT