Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ میں آئندہ ہفتہ بحران کی صورتحال ممکن

تلنگانہ وقف بورڈ میں آئندہ ہفتہ بحران کی صورتحال ممکن

عہدیدار مجاز اور سی ای او کی میعاد ختم ، متبادل انتظام پر حکومت کا ہنوز عدم فیصلہ
حیدرآباد۔/14اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں آئندہ ہفتہ بحران کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ عہدیدار مجاز اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی میعاد ختم ہورہی ہے اور حکومت نے ابھی تک متبادل انتظامات کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ حیدرآباد ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ اندرون 3 ماہ وقف بورڈ کے انتخابات کا عمل مکمل کرلیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی مہلت جنوری کے اوائل میں ختم ہوگئی۔ ایسے میں تلنگانہ حکومت یہ طئے نہیں کرپارہی ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے احکامات پر کیا موقف اختیار کرے۔ آیا وقف بورڈ کی تشکیل کا عمل شروع کیا جائے یا پھر سنگل جج کے احکامات کے خلاف اپیل دائر کی جائے۔ بعض ماہرین قانون نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ مہلت کے اختتام سے قبل سنگل جج سے رجوع ہوتے ہوئے مزید وقت دینے کی درخواست داخل کی جائے تاہم حکومت نے قطعی طور پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اگر حکومت الیکشن آفیسر کا تقرر کرتے ہوئے انتخابی عمل کا آغاز کرے ایسی صورت میں بھی بورڈ کی تشکیل کو 4 ماہ سے زائد کا عرصہ لگ جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت بورڈ کی فوری تشکیل کے حق میں نہیں ہے اور عہدیدار مجاز اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے ذریعہ بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے حق میں ہے۔ مذکورہ دونوں عہدیداروں نے حالیہ عرصہ میں بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے کئی قدم اٹھائے خاص طور پر چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور بورڈ کے ملازمین کی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ مسلمانوں کے ہر طبقہ کی جانب سے محمد اسداللہ کے اقدامات کی ستائش کی جارہی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے شیخ محمد اقبال اور جلال الدین اکبر نے جن کاموں کا آغاز کیا تھا انہیں اسد اللہ نے جاری رکھا ہے۔ واضح رہے کہ عہدیدار مجاز سید عمر جلیل کی میعاد 18اکٹوبر کو ختم ہوجائے گی۔ قواعد کے مطابق عہدیدار مجاز 6 ماہ کی میعاد کے حساب سے صرف دو میعاد کیلئے مقرر کیا جاسکتا ہے تیسری مرتبہ عہدیدار مجاز کا تقرر نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے میں حکومت کو عہدیدار مجاز کے عہدہ پر کسی موزوں عہدیدار کی تلاش ہے۔ اس عہدہ سے سبکدوشی کے باوجود سید عمر جلیل سکریٹری اقلیتی بہبود اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔ وہ بھی وقف بورڈ میں فرائض انجام دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ دوسری طرف چیف ایکزیکیٹو آفیسر اسد اللہ کی میعاد 24اکٹوبر کو ختم ہوجائے گی۔ حکومت کے پاس ان کے متبادل کے طور پر عہدیدار دستیاب نہیں ہیں اور اس رینک کے موجود عہدیدار وقف بورڈ میں کام کرنے تیار نہیں۔ ایسے میں حکومت کے پاس ان کی میعاد میں توسیع کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کی موجودہ صورتحال پر چیف منسٹر کے دفتر نے رپورٹ طلب کی ہے۔ توقع ہے کہ چیف منسٹر اندرون دو یوم کوئی فیصلہ کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT