Sunday , May 27 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ میں تیسرے دن بھی غیر یقینی صورتحال

تلنگانہ وقف بورڈ میں تیسرے دن بھی غیر یقینی صورتحال

بورڈ کے تمام سیکشن غیر کارکرد ، ملازمین پریشان حال ، 18 نومبر کو بورڈ کا اجلاس مقرر
حیدرآباد ۔10۔ نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں آج مسلسل تیسرے دن بھی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی اور کام کاج مکمل ٹھپ رہا۔ وقف بورڈ کے تمام سیکشن غیر کارکرد ہوچکے ہیں، حتیٰ کہ قضاۃ سیکشن بھی تین دن سے بند ہے۔ وقف بورڈ میں جاریہ صورتحال سے ایک طرف ملازمین پریشان ہیں تو دوسری طرف مسائل کے سلسلہ میں رجوع ہونے والے افراد کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ قضاۃ سیکشن سے روزانہ مختلف سرٹیفکٹ حاصل کرنے سینکڑوں افراد رجوع ہوتے ہیں لیکن تین دن سے یہ سیکشن بند ہے کیونکہ چیف منسٹر کی ہدایت کے بعد ریونیو عہدیداروں نے اس شعبہ کو مہربند کردیا۔ اگرچہ اس سیکشن کا وقف ریکارڈ سے کوئی تعلق نہیں ، اس کے باوجود چیف منسٹر کے احکامات کے زد میں آچکا ہے۔ وقف بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار اور صدرنشین اس سیکشن کی بحالی کے اقدامات میں ناکام ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر سے کل اس سلسلہ میں نمائندگی کی گئی لیکن انہوں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ۔ چیف منسٹر کا ماننا ہے کہ سرٹیفکٹس کیلئے لوگ بعد میں آئیں گے۔ کئی ایسے افراد جنہیں ہنگامی حالات میں سرٹیفکٹ کی ضرورت ہوتی ہے وہ مایوس واپس ہورہے ہیں۔ حکومت کی کارروائی کے بعد سے حج ہاؤز کے باب الداخلہ کو بند کردیا گیا اور صرف ملازمین کو شناختی کارڈ کی بنیاد پر داخلہ کی اجازت دی جارہی ہے۔ وقف بورڈ کے ملازمین گزشتہ تین دن سے دفتری اوقات میں حج ہاؤز میں اسی طرح وقت گزارکر گھر واپس ہورہے ہیں۔ کسی بھی درخواست کو قبول کرنے والا کوئی نہیں۔ ملازمین نے کہاکہ انہیں صورتحال سے واقف کرانے کیلئے صدرنشین اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر دستیاب نہیں ہے۔ ملازمین اس بات پر ناراض ہیں کہ بورڈ نے ملازمین کو بے قاعدگیوں کیلئے ذمہ دار قرار دے دیا اور حکومت کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ وقف بورڈ کا اجلاس 18 نومبر کو طلب کیا گیا ہے اور یہ تاریخ حکومت کی کارروائی سے قبل طئے کی گئی تھی ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا وقف بورڈ کا اجلاس منعقد ہوگا یا نہیں۔ اگر اجلاس ہوتاہے تو حکومت کی اس کارروائی پر بورڈ کا کیا ردعمل ہوگا۔وقف ایکٹ کے مطابق وقف بورڈ خود مختار ادارہ ہے اور حکومت اس طرح کارروائی نہیں کرسکتی۔ یہ معاملہ ہائیکورٹ تک پہنچ چکا ہے اور مفاد عامہ کی درخواست داخل کرتے ہوئے حکومت کے اس اقدام کو چیلنج کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT