Wednesday , July 18 2018
Home / Top Stories / تلنگانہ وقف بورڈ میں فائیلوں کی ضبطی کا کام مکمل ، بورڈ کے ارکان حیرت کا شکار

تلنگانہ وقف بورڈ میں فائیلوں کی ضبطی کا کام مکمل ، بورڈ کے ارکان حیرت کا شکار

تمام دستاویز مہر بند ، چیف منسٹر کی کارروائی پر ملازمین میں چہ میگوئیاں ، وقف کے دفاتر میں آج سے کام کا آغاز
حیدرآباد ۔ 8۔ نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں فائلوں کی ضبطی کا کام آج شام مکمل ہوگیا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی ہدایت پر ریونیو عہدیداروں نے پولیس کی نگرانی میں کل رات سے اس کام کا آغاز کیا تھا ۔ آر ڈی او اور کئی ایم آر اوز کی نگرانی میں 20 تا 25 اسٹاف پر مشتمل ٹیم نے کل رات وقف بورڈ کے تمام دفاتر کو اپنی تحویل میں لیتے ہوئے انہیں مہربند کردیا۔ صدرنشین اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے چیمبرس کو چھوڑ کر دیگر تمام سیکشنوں اور چیمبرس کو مہربند کرتے ہوئے متعلقہ فائلوں کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا ۔ ریونیو عہدیداروں نے رات بھر حج ہاؤز میں قیام کیا اور پولیس نے مین گیٹ کو بند کردیا۔ کسی بھی غیر متعلقہ شخص حتیٰ کہ میڈیا کو بھی داخلہ کی اجازت نہیں دی گئی ۔ ریونیو عہدیداروں نے حج ہاؤز کے تین فلورس پر تین بڑے ہال منتخب کئے، جہاں ہر فلور میں موجود سیکشنوں کا مکمل ریکارڈ جمع کرتے ہوئے اسے مہربند کیا گیا۔ اس طرح آج شام یہ کام مکمل ہوا اور وقف بورڈ کے دیگر سیکشن کھول دیئے گئے۔ تین فلور پر مکمل ریکارڈ اور فائلوں کو تحویل میں لینے کے علاوہ ریکارڈ روم کو بھی سیل کردیا گیا ہے۔ چیف منسٹر کے اس اقدام پر وقف بورڈ کے عہدیدار و ملازمین حیرت اور خوف کا شکار ہیں تو دوسری طرف عام مسلمانوں کی جانب سے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ وقف بورڈ کے دفاتر میں آج کوئی کام نہیں ہوسکا۔ حتیٰ کہ قضاۃ سیکشن بھی آج بند رہا۔ وقف بورڈ کے ملازمین حج ہاؤز تو پہنچے لیکن وہ اپنے متعلقہ سیکشن نہیں پہنچ سکے کیونکہ وہ مہربند تھے۔ پولیس نے ملازمین کو دفاتر کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی جس کے باعث ملازمین دن بھر حج ہاؤز کے مختلف حصوں میں دیکھے گئے۔ ملازمین میں چیف منسٹر کی اس کارروائی کے تعلق سے مختلف چہ میگوئیاں دیکھی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کے دفاتر کل جمعرات سے کام کا آغاز کردیں گے کیونکہ ریونیو حکام نے سیکشنوں کو کھول دیا ہے۔ کل رات جیسے ہی ریونیو عہدیدار پولیس کے ساتھ وقف بورڈ پہنچے تو انہوں نے وہاں موجود عہدیداروں اور ملازمین کے سیل فون کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کا فون بھی حاصل کرلیا گیا جو رات 12 بجے واپس کیا گیا۔ اس طرح وقف بورڈ میں اس کارروائی کے دوران کافی خوف و دہشت کا ماحول تھا ۔ ایسے ملازمین جن کے تقررات میں بے قاعدگیاں یا پھر وہ تعلیمی اہلیت کے بغیر اہم عہدوں پر فائز ہیں، وہ اس کارروائی کو لیکر کافی پریشان ہیں۔ وقف بورڈ میں بعض ایسے ریٹائرڈ ملازمین دوبارہ سرگرم ہیں جنہیں سابق میں مختلف بے قاعدگیوں کے تحت معطل کیا گیا تھا۔ ایسے ملازمین میں اس بات کا خوف ہے کہ کہیں ان کی خدمات برخواست نہ کردی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کے ارکان بھی اس کارروائی سے حیرت میں ہے اور قانونی رائے حاصل کی جارہی ہے ۔ ارکان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس طرح کی کارروائی کا اختیار نہیں۔ کیونکہ یہ ایک خود مختار ادارہ ہے ۔ اسی دوران فائلوں کو محفوظ کرنے کا کام مکمل ہونے کے بعد حج ہاؤز میں عوام کے داخلہ پر پابندی کو ختم کردیا گیا جبکہ دن بھر میڈیا کو بھی عمارت میں داخلہ کی اجازت نہیں تھی۔ حج ہاؤز کے احاطہ میں موجود دیگر دفاتر کے ملازمین کو شناختی کارڈ کی بنیاد پر داخلہ کی اجازت دی گئی۔ وقف جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں جدوجہد کرنے والے مختلف جہدکار اور تنظیموں کے ذمہ دار کل رات سے حج ہاؤز پہنچ کر میڈیا کے روبرو اس کارروائی کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کرتے رہے۔

TOPPOPULARRECENT