Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ میں نیا بحران ، مختلف گوشوں سے دباؤ

تلنگانہ وقف بورڈ میں نیا بحران ، مختلف گوشوں سے دباؤ

سیاسی مداخلت اور وقف مافیا کی سرگرمیوں میں اضافہ ، سی ای او محمد اسد اللہ محکمہ مال واپس جانے کے خواہش مند
حیدرآباد۔ 8۔ جون  ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں اس وقت ایک نیا بحران پیدا ہوگیا جب مختلف گوشوں سے زبردست دباؤ کا سامنا کرنے والے چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے ان کی خدمات محکمہ مال کو واپس کرنے کیلئے حکومت سے درخواست کی ہے۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ نے سکریٹری اقلیتی بہبود اور سکریٹری محکمہ مال کو علحدہ علحدہ مکتوب روانہ کرتے ہوئے وقف بورڈ کی ذمہ داری سے فوری سبکدوش کرنے کی خواہش کی ہے ۔ انہوں نے اپنے متعلقہ محکمہ کے سکریٹری سے خواہش کی کہ انہیں دوبارہ محکمہ میں واپس طلب کرلیا جائے ۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ کی ذمہ داری سنبھالنے سے قبل محمد اسد اللہ، چیف کمشنر لینڈ ایڈمنسٹریشن کے دفتر میں اہم عہدوں پر فائز تھے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے مسلسل اصرار کے بعد اسد اللہ نے وقف بورڈ میں بحیثیت چیف اگزیکیٹیو آفیسر فرائض انجام دینے سے اتفاق کیا تھا ۔ انہیں ایک سال کی مدت کیلئے اس عہدہ پر فائز کیا گیا اور یہ مدت جاریہ سال اکتوبر میں ختم ہوگی۔ تاہم وہ مدت کی تکمیل سے قبل ہی اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ میں دیانتدار اور فرض شناس عہدیداروں کیلئے کام کرنا آسان نہیں ہے۔ ان سے قبل اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے جلال الدین اکبر کو فرائض کی انجام دہی میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا اور آخر کار انہیں ذمہ داری سے سبکدوش کردیا گیا تھا۔ وقف بورڈ کے امور میں سیاسی مداخلت کے علاوہ وقف مافیا کی سرگرمیاں کافی شدت اختیار کرچکی ہے۔ کسی بھی معاملہ میں عہدیدار کو وقف ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے

 

اور ہر معاملہ میں منشائے وقف کی خلاف ورزی اور وقف بورڈ کے قابضین اور متولیوں کے حق میں فیصلوں کیلئے دباؤ بنایا جاتا ہے ۔ گزشتہ چار ماہ سے موجودہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو بعض اہم معاملات میں دباؤ کا سامنا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض گوشوں کی جانب سے انہیں سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی گئی۔ اس طرح کی صورتحال سے عاجز آکر محمد اسد اللہ نے اپنے متعلقہ محکمہ کو واپس چلے جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنے کے بعد وقف بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے کئی اہم قدم اٹھائے تھے جس کے مثبت نتائج بھی برآمد ہوئے۔ انہوں نے کئی اہم اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے کامیاب مساعی کی۔  اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی درخواست پر حکومت کیا فیصلہ کرے گی۔ اسد اللہ نے اپنی درخواست شخصی طور پر سکریٹری اقلیتی بہبود کے حوالے کی ہے ۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود نے بھی چیف سکریٹری سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں اقلیتی بہبود سے کسی اور محکمہ میں تبادلہ کرنے کی خواہش کی ہے۔ اس طرح اقلیتی بہبود کے دو اہم عہدیدار محکمہ میں کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT