Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ پر مقامی سیاسی جماعت کا غلبہ

تلنگانہ وقف بورڈ پر مقامی سیاسی جماعت کا غلبہ

حکومت کے ارکان کی اکثریت کے باوجود بے یار و مددگار ، مقامی جماعت کے اشاروں پر ملازمین شکار
حیدرآباد۔/13اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کے موقع پر حکومت نے اس بات کا خیال رکھا تھا کہ ارکان کی اکثریت حکومت کے نامزد افراد پر مشتمل ہو اور مقامی سیاسی جماعت کو اکثریت نہ رہے۔ اس فیصلہ کے تحت 11 رکنی بورڈ میں 6 ارکان کے ساتھ حکومت کو اکثریت حاصل ہے اس کے باوجود مقامی سیاسی جماعت نے بورڈ پر کسی طرح غلبہ حاصل کرلیا ہے اور مقامی جماعت کے ارکان کے اشارہ پر بعض ایسے فیصلے کئے گئے جو بورڈ کے مفاد میں نہیں ہیں۔ بورڈ نے گزشتہ دنوں اپنے اجلاس میں بعض ملازمین کی خدمات ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ افراد 70 اور 80سے زائد عمر کے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جن افراد کی خدمات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا دراصل انہیں نشانہ بنایا گیا کیونکہ انہوں نے مقامی جماعت کے مفادات کی تکمیل سے انکار کرتے ہوئے بعض اہم اوقافی جائیدادوں کی تحقیقات کی تھیں۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ میں موجود بعض ریٹائرڈ عہدیداروں اور ملازمین کی بے قاعدگیوں کو بھی ان لوگوں نے بے نقاب کیا تھا۔ مختلف محکمہ جات سے تعلق رکھنے والے یہ 5 ملازمین دراصل ایک عرصہ سے بورڈ کے ملازمین کو کھٹک رہے تھے اور منظم انداز میں بعض بااثر ارکان کے ذریعہ بورڈ میں ان کی خدمات ختم کرنے کیلئے قرارداد منظور کرلی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ جن افراد کو نشانہ بنایا گیا وہ نہ صرف دفتری اُمور اور تحقیقات کے سلسلہ میں تجربہ رکھتے تھے بلکہ فائیل لکھنے اور رپورٹ بنانے میں مہارت تھی۔ بورڈ میں فی الوقت کسی بھی سیکشن میں کوئی قابل عہدیدار موجود نہیں جو رپورٹ تو کجا فائیل کے چند الفاظ بھی انگریزی میں لکھ سکے۔ ٹولی مسجد کے تحت اوقافی اراضی کی جانچ، ایک موجودہ اور بعض سابق ارکان کے خلاف تحقیقات اور دیگر اہم جائیدادوں کا سروے اور رپورٹ کی پیشکشی ان افراد کیلئے مہنگی ثابت ہوئی۔ بورڈ میں کئی سابق عہدیدار ایسے ہیں جنہیں سنگین الزامات کے تحت معطل کیا گیا تھا لیکن آج وہ اہم عہدوں پر فائز ہیں، ان میں بعض ریٹائرڈ عہدیدار اور ملازمین وقف بورڈ کی جائیدادوں پر معمولی کرایہ کے ساتھ عملاً قابض ہیں۔ ایک ریٹائرڈ عہدیدار پر سابق میں درگاہ کی ایک ہنڈی کا سرقہ کرنے اور ایک درگاہ کے ریکارڈ میں تحریف کا الزام ہے جس کے لئے معطل کیا جاچکا ہے۔ بورڈ نے ایسے افراد کے خلاف تو کوئی کارروائی نہیں کی لیکن دیگر محکمہ جات سے آکر وقف بورڈ کیلئے دیانتداری سے کام کرنے والے ریٹائرڈ عہدیداروں کو نشانہ بنایا گیا تاکہ اندرونی بے قاعدگیاں منظر عام پر نہ آسکیں۔ بورڈ کے 11 ارکان میں 8 ارکان پہلی مرتبہ بحیثیت رکن شامل کئے گئے ہیں ان میں مقامی جماعت کے دو ارکان ایسے ہیں جنہیں بورڈ پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور ہر سیکشن میں ان کے اشارہ پر کام کرنے والے افراد موجود ہیں۔ نئے ارکان چونکہ اندرونی حالات سے ناواقف ہیں لہذا انہیں تاریکی میں رکھتے ہوئے دیانتداری سے خدمات انجام دینے والوں کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ بورڈ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صدرنشین اس قرارداد پر نظر ثانی کریں تاکہ بورڈ سے قابل افراد کو ہٹانے کی وقف مافیا کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔

TOPPOPULARRECENT