Friday , August 17 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ پر چیف منسٹر کو غصہ کیوں آیا ؟

تلنگانہ وقف بورڈ پر چیف منسٹر کو غصہ کیوں آیا ؟

جائیدادوں کے کمپیوٹرائزڈ کروانے کے استفسار پر غیر اطمینان بخش جواب پر کارروائی
فائیلوں کی ضبطی کے بعد سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا اشارہ ، بڑا اسکام منظر عام پر آنے کا امکان
حیدرآباد ۔ 8۔ نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو تلنگانہ وقف بورڈ پر غصہ کیوں آیا؟ اطلاعات کے مطابق کل رات منعقدہ جائزہ اجلاس میں وقف بورڈ عہدیداروں کے رویہ پر چیف منسٹر اس قدر برہم تھے کہ انہوں نے سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا فیصلہ کرلیا تھا ۔ تاہم لمحہ آخر میں انہوں نے کلکٹر حیدرآباد کے ذریعہ ریکارڈ کو تحویل میں لینے اور دفاتر مہربند کرنے کا حکم جاری کیا۔ چیف منسٹر کی ہدایت کے فوری بعد ہنگامی طور پر محکمہ اقلیتی بہبود سے باقاعدہ کلکٹر حیدرآباد کے نام احکامات جاری کئے گئے تاکہ وہ فوری وقف بورڈ کے ریکارڈ کو اپنی تحویل میں لے لیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے جب اجلاس میں موجود چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ اور دیگر عہدیداروں سے اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈ کے بارے میں استفسار کیا تو انہیں تشفی بخش جواب نہیں دیا گیا۔ چیف منسٹر نے پوچھا کہ کیا وقف بورڈ کی فائلوں کو کمپیوٹرائزڈ کیا گیا ہے ، اس پر عہدیدار خاموش رہے۔ کے سی آر نے کہا کہ اس قدر قیمتی جائیدادوں کی فائلوں کو غیر محفوظ کس طرح رکھا جاسکتا ہے۔ اس مرحلہ پر سکریٹری اقلیتی بہبود نے چیف منسٹر کے سامنے سابق چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو فون کیا اور یہ گفتگو چیف منسٹر اسپیکر پر سن رہے تھے۔ سابق عہدیدار نے بتایا کہ انہوں نے 60,000 قیمتی فائلوں کی اسکیاننگ کا کام مکمل کرتے ہوئے ان فائلوں کو کمپیوٹرائزڈ کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ انتہائی قدیم فائلوں کی نمبرنگ اور ان کی تفصیلات کے ساتھ اسکیاننگ کی گئی تاکہ بآسانی کسی بھی جائیداد کے ریکارڈ کا پتہ چلایا جاسکے۔ چیف منسٹر نے جب یہ سنا کہ کمپیوٹر میں محفوظ ریکارڈ کے باوجود عہدیدار انہیں گمراہ کر رہے ہیں تو وہ بھڑک اٹھے اور سی بی سی آئی ڈی سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔ اجلاس میں مو جود اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے ہوش اڑگئے اور وہ ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے۔ اس مرحلہ پر چیف منسٹر کے سکریٹری نے سی بی سی آئی ڈی کے بجائے کلکٹر حیدرآباد کے ذریعہ ریکارڈ کی جانچ کرنے کا مشورہ دیا تاکہ ریونیو عہدیداروں کے ذریعہ حقائق کا پتہ چل سکے۔ بعد میں اس رپورٹ کی بنیاد پر سی بی سی آئی ڈی سے جانچ کرائی جاسکتی ہے ۔ چیف منسٹر نے اس تجویز کو قبول کیا اور سکریٹری اقلیتی بہبود کو ہدایت دی کہ یہیں سے کلکٹر حیدرآباد کو احکامات جاری کردیں ۔ چیف منسٹر کے دفتر سے سکریٹری نے احکامات تیار کئے اور انہیں کلکٹر کے پاس روانہ کیا گیا۔ احکامات کی اجرائی کے ساتھ ہی آپریشن وقف بورڈ کا آغاز ہوا اور بھاری تعداد میں پولیس فورس کے ذریعہ کلکٹر حیدرآباد نے وقف بورڈ پر عملاً چھاپہ مارا۔ عہدیداروں کے شان و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چیف منسٹر اس طرح کی کارروائی کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے یہاں تک کہا کہ تحقیقات کے بعد ایک بڑا وقف اسکام منظر عام پر آسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT