Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ کا کل اجلاس، اوقافی جائیدادوں کی لیز اور درگاہوں کے انتظامات کے ہراج پر فیصلے

تلنگانہ وقف بورڈ کا کل اجلاس، اوقافی جائیدادوں کی لیز اور درگاہوں کے انتظامات کے ہراج پر فیصلے

ارکان کو ایجنڈہ کی روانگی، متنازعہ فیصلوں سے گریز کی ہدایت، حکومت کے ارکان کو رہنمایانہ ہدایت کی اجرائی

حیدرآباد۔/8اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کا اجلاس10اپریل کو منعقد ہوگا جس میں ریاست کی اہم اوقافی جائیدادوں کو 30سالہ لیز پر ڈیولپمنٹ کیلئے دیئے جانے کے علاوہ اہم درگاہوں کے انتظامات کے ہراج جیسے اُمور پر فیصلے کئے جائیں گے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی صدارت میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس بورڈ کی تشکیل کے بعد سے دوسرا اجلاس ہے۔ گزشتہ ماہ 11 مارچ کو پہلا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں مختلف ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل کو منظوری دی گئی تھی۔ پیر کے اجلاس کے سلسلہ میں ایجنڈہ تمام ارکان کو روانہ کردیا گیا ہے اور حکومت اس بات کی کوشش کررہی ہے کہ اجلاس میں کوئی متنازعہ مسائل زیر بحث نہ آئیں جس سے بورڈ کی کارکردگی متاثر ہو۔ بورڈ میں ارکان کی اکثریت کا تعلق حکومت سے ہے لہذا حکومت کے نامزد ارکان کو اجلاس میں موقف کے بارے میں رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایجنڈہ میں حکومت کی جانب سے 11 اہم اوقافی جائیدادوں کو 30 سالہ لیز پر دیئے جانے کی منظوری پر طویل مباحث ہوں گے کیونکہ ان میں بعض ایسی جائیدادیں بھی ہیں جن کے معاملات عدالتوں میں زیر دوران ہیں لہذا انہیں لیز پر دیا جانا ممکن نہیں۔ ڈیولپمنٹ کیلئے لیز پر دیئے جانے کے سلسلہ میں گلوبل ٹنڈرس طلب کئے جائیں گے جس کے طریقہ کار کا فیصلہ بورڈ کرے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ حج ہاوز کے مینٹننس اور اس کی کلرنگ کا مسئلہ بھی ایجنڈہ میں شامل کیا گیا ہے تاکہ رمضان المبارک سے قبل جنگی خطوط پر اس کام کی تکمیل کرلی جائے۔ صدرنشین محمد سلیم نے رمضان سے قبل یہ کام مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا اور بتایا جاتا ہے کہ بورڈکے اجلاس میں اس کام کی منظوری کے سلسلہ میں ٹنڈرس کی طلبی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ مختلف درگاہوں کے انتظامات فی الوقت وقف بورڈ کی راست نگرانی میں ہیں جس کے باعث سالانہ آمدنی بری طرح متاثر ہوئی ہے ان میں درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ ، درگاہ بڑا پہاڑ اور درگاہ حضرت غالب شہید ؒ جیسے ادارے شامل ہیں۔ وقف بورڈ انتظامات کے ہراج کو قطعیت دینے کی کارروائی کو آگے بڑھائے گا۔ ان تینوں درگاہوں کے ہراج کو روکنے کیلئے مقامی سیاسی قائدین نے اہم رول ادا کیا تھا جس سے بورڈ کی لاکھوں روپئے کی آمدنی متاثر ہوگئی۔ اجلاس میں شہر کی معروف درگاہ حضرات یوسفینؒ کے متولی کی میعاد میں توسیع کا مسئلہ بھی زیر بحث آئے گا۔ ایجنڈہ میں اس مسئلہ کو شامل کیا گیا ہے۔ وقف بورڈ کی تشکیل سے عین قبل بورڈ کے عہدیدار مجاز جو سکریٹری اقلیتی بہبود بھی ہیں 7 ماہ قبل متولی کی میعاد میں 3 سال کی توسیع کرتے ہوئے احکامات جاری کردیئے تھے۔ اس مسئلہ پر کافی تنازعہ پیدا ہوا کیونکہ سات ماہ قبل توسیع دینے کی کوئی روایت یا قانون نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مسئلہ کو زیر بحث لانے سے روکنے کیلئے مختلف سطح پر زبردست پیروی کی جارہی ہے اور بورڈ کے ارکان پر دباؤ بنایا جارہا ہے کہ وہ توسیع کو جائز قراردیتے ہوئے منظوری دیں۔ بورڈ کے عہدیداروں نے بتایا کہ اگر بورڈ چاہے تو ان احکامات کو منسوخ کرتے ہوئے انتظامات کو راست اپنی نگرانی میں لے سکتا ہے۔ بورڈ کی تشکیل کے بعد سے ہُنڈیوں کی نگرانی بھی بورڈ کی جانب سے کی جارہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں مختلف درگاہوں اور مساجد کی کمیٹیوں کو بھی منظوری دی جائے گی۔ اسی دوران صدرنشین بورڈ محمد سلیم نے بتایا کہ بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے وہ کئی اصلاحی قدم اٹھائیں گے اور کارپوریٹ دفاتر کی طرز پر ڈسپلن نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈسپلن شکنی کے مرتکب ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ صدرنشین وقف بورڈ بہت جلد ڈائرکٹر جنرل پولیس انوراگ شرما سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست کی ان تمام اوقافی جائیدادوں کی فہرست پیش کریں گے جن پر ناجائز قبضے ہیں۔ متعلقہ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کو غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی کے سلسلہ میں ہدایت دینے ڈی جی پی سے خواہش کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ ہفتہ سے وہ اہم اوقافی جائیدادوں کا شخصی طور پر معائنہ کرتے ہوئے ناجائز قبضوں اور اداروں کے انتظام اور کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔

TOPPOPULARRECENT