Wednesday , December 12 2018

تلنگانہ وقف بورڈ کا کل اہم اجلاس

دفاتر اور ریکارڈ مہربند کرنے کے بعد کارکردگی بتدریج بحال
حیدرآباد۔ 23 نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کا اجلاس ہفتہ 25 نومبر کو صدرنشین محمد سلیم کی صدارت میں منعقد ہوگا۔ حکومت کی جانب سے وقف بورڈ کے دفاتر اور ریکارڈ سیکشن کو مہربند کرنے کے بعد پہلی مرتبہ اجلاس منعقد ہورہا ہے۔ اجلاس میں اگرچہ ایجنڈہ آئٹمس تیار نہیں کیے گئے تاہم امکان ہے کہ گٹلہ بیگم پیٹ کی اوقافی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں گزٹ نوٹیفکیشن کی اجرائی اور درگاہ یوسفینؒ سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیا جائے گا۔ صدرنشین محمد سلیم نے بتایا کہ مختلف شعبہ جات کی کارکردگی بتدریج بحال ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کے تمام ریکارڈ کو ڈیجٹلائز کرتے ہوئے انہیں محفوظ کیا جائے گا۔ محمد سلیم کے مطابق بورڈ کے اجلاس میں اوقافی اراضیات کی حفاظت اور اراضی سروے میں وقف بورڈ کے رول کی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کے ارکان کو حکومت کے فیصلے اور اس کے فوائد سے واقف کیا جائے گا۔ اسی دوران صدرنشین وقف بورڈ نے سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل سے خواہش کی کہ وقف بورڈ کو چیف منسٹر کے وعدے کے مطابق زائد اسٹاف الاٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اور جائزہ اجلاس میں چیف منسٹر نے وقف بورڈ کیلئے قابل اسٹاف فراہم کرنے کا تیقن دیا تھا۔ بورڈ کو فی الوقت قابل اسٹاف کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کی جانب سے ریکارڈ محفوظ کرنے کے سلسلہ میں جو قدم اٹھایا گیا اس کے مطابق ریونیو عہدیداروں کو وقف بورڈ کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ حج ہائوز سے متصل زیر تعمیر کامپلکس کو اقلیتی بہبود کے دفاتر کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ وقف بورڈ اس کامپلکس کو 30 سالہ لیز پر دینے کا منصوبہ رکھتا تھا تاہم چیف منسٹر کی ہدایت کے بعد اس منصوبے سے دستبرداری اختیار کرلی گئی۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی ہفتہ کو ارکان اسمبلی کے ساتھ اس کامپلکس کا معائنہ کریں گے اور زیر تعمیر کاموں کی عاجلانہ تکمیل کا منصوبہ تیار کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT