Monday , May 21 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ کو فی الفور تحلیل کرنے کامطالبہ

تلنگانہ وقف بورڈ کو فی الفور تحلیل کرنے کامطالبہ

بورڈ میں دھاندلیاں عروج پر، محمد علی شبیر قائد اپوزیشن کونسل کا شدید ردعمل
حیدرآباد۔/25نومبر، ( سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے تلنگانہ وقف بورڈ کی فی الفور تحلیل کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد بورڈ میں دھاندلیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ وقف اراضی کو غیر اوقافی قرار دیتے ہوئے وقف بورڈ سے جاری کردہ این او سی بدعنوانیوں کا واضح ثبوت ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ابھی تو ایک معاملہ منظر عام پر آیا ہے جبکہ اس طرح کے کئی جائیدادوں کے ریکارڈ وقف بورڈ سے غائب ہوچکے ہیں۔ ان دھاندلیوں میں وقف مافیا کے علاوہ بورڈ سے وابستہ افراد بھی ملوث ہیں لہذا بورڈ کو فی الفور تحلیل کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ایجنسی سے مکمل جانچ کا اعلان کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ وقف بورڈ میں شامل بعض ارکان کے خلاف خود سنگین الزامات ہیں جن کی تحقیقات سی سی ایس اور سی بی سی آئی ڈی کے ذریعہ کی جارہی ہے۔ سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کی رفتار کو سُست کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جعلی این او سی کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ الزامات کا سامنا کرنے والے ارکان کے خلاف بھی جانچ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب بورڈ میں خود وقف جائیدادوں کے قابضین اور اراضیات کو فروخت کرنے والے افراد موجود ہوں تو پھر ایسے بورڈ سے جائیدادوں کے تحفظ کی امید کرنا بے فیض ہوگا۔ چیف منسٹر جو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے بلند بانگ دعوے کررہے ہیں انہیں چاہیئے کہ پہلے خاطی ارکان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اپنی سنجیدگی کا ثبوت دیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تازہ ترین اسکام کو بڑے افراد کی ملی بھگت کے ذریعہ گزشتہ 5 ماہ مخفی رکھا گیا اور اب جبکہ یہ اسکام منظر عام پر آیا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالیہ عرصہ میں بورڈ کے تمام فیصلوں کی جانچ کرے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 6 مہینوں میں بورڈ نے کئی متنازعہ فیصلے کئے جن میں اہم درگاہوں کے انتظامات کی ٹنڈرس کے بجائے نامنیشن پر حوالگی اور اوقافی اراضیات کو لیز پر دینے جیسے معاملات ہیں۔ ان سرگرمیوں کے ذریعہ وقف بورڈ کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا گیا ہے۔ حکومت نے بورڈ کو مہر بند کرتے ہوئے یہ واضح کردیا کہ اسے بورڈ کی کارکردگی پر اعتماد نہیں۔ اب جبکہ جعلی این او سی کے معاملات منظر عام پر آنے لگے ہیں لہذا موجودہ بورڈ برقراری کے حق سے محروم ہوچکا ہے۔ حکومت کو اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے فی الفور تحلیل کرنے کا فیصلہ کرنا چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT