Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کا فیصلہ، 10جنوری کو رائے دہی

تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کا فیصلہ، 10جنوری کو رائے دہی

ضلع کلکٹر حیدرآباد الیکشن آفیسر مقرر، انتخابی شیڈول جاری، جناب محمد محمود علی کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔/7ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ریاستی حکومت نے تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کی تشکیل عمل میں لانے کا فیصلہ کیا اور انتخابات منعقد کرنے کیلئے انتخابی شیڈول کا اعلان کیا۔ اس اعلامیہ کی روشنی میں دس رکنی وقف بورڈ کے منجملہ 6 ارکان کا باقاعدہ ووٹنگ کے ذریعہ انتخاب کیا جائے گا۔ جبکہ چار ارکان کو حکومت کی جانب سے نامزد کیا جائے گا۔ انتخابی شیڈول کے مطابق مسودہ فہرست رائے دہندگان کی اشاعت 9 ڈسمبر کو عمل میں لائی جائے گی اور انتخابی رائے دہی آئندہ ماہ 10جنوری کو منعقد کی جائے گی۔ جبکہ حکومت نے ریاستی وقف بورڈ انتخابات کیلئے مسٹر راہول بوجا ضلع کلکٹر حیدرآباد کو الیکشن آفیسر مقرر کیا ہے۔

آج شام سکریٹریٹ میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی نے انتخابی شیڈول جاری کیا۔ اس موقع پر مسرس سید عمر جلیل سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود، ڈاکٹر ایس اے شکور سکریٹری ڈائرکٹر تلنگانہ اردو اکیڈیمی و اسپیشل آفیسر تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی، محمد اسد اللہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ، احمد محی الدین آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی اور میر منور علی ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ بھی موجود تھے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے وقف بورڈ انتخابات سے متعلق مکمل تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کے لئے ادعا جات پیش کرنے کی تاریخ 17 ڈسمبر ہوگی اور قطعی فہرست رائے دہندگان کی اشاعت 20ڈسمبر کو کی جائے گی۔ انتخابات میں حصہ لینے کیلئے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 27ڈسمبر ہوگی۔ 29 ڈسمبر کو پرچہ جات نامزدگیوں کی جانچ اور اہل امیدواروں کی فہرست کی اشاعت عمل میں آئے گی۔31ڈسمبر پرچہ جات نامزدگی سے دستبرداری کیلئے آخری تاریخ ہوگی اور 3 جنوری کو امیدواروں کے ناموں کی فہرست جاری کی جائے گی اور 10 جنوری کو انتخابات منعقد ہوں گے ۔ رائے دہی کے اوقات صبح 11 بجے تا 4 بجے شام ہوں گے۔ ووٹوں کی گنتی و نتیجہ کا اعلان 10 جنوری کی شب میں کردیا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ وقف بورڈ قانون کی روشنی میں ایک لاکھ روپئے سالانہ آمدنی رکھنے والے وقف آمدنی کا ادعا پیش کرنے والے متولی وغیرہ کو ووٹ کا حق حاصل رہے گا۔

اس طرح 303 ادارے وقف بورڈ انتخابات میں حصہ لینے یا ووٹ دینے کے اہل ہوں گے۔ وقف بورڈ انتخابات کیلئے ارکان کا انتخاب چار مختلف زمروںسے کرکے جملہ 6 ارکان کو منتخب کیا جائے گا۔ زمرہ نمبر (1) سے صرف ایک  مسلم رکن پارلیمان، زمرہ نمبر II مسلم ارکان مقننہ ( رکن اسمبلی یا رکن کونسل سے دو ارکان) زمرہ نمبر III سے بار کونسل کے مسلم ارکان کی جانب سے کسی ایک رکن کا انتخاب کرنے کے علاوہ زمرہ نمبر IV سے متولی اور منیجنگ کمیٹی وقف اداروں کے زمرہ کے دو ارکان کا انتخاب کیا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ دیگر چار ارکان کی حکومت کی جانب سے سماجی کارکن، شیعہ طبقہ کی کوئی نامور شخصیت اور سنی طبقہ کی کوئی نامور شخصیت کے علاوہ سرکاری عہدیدار ( ڈپٹی سکریٹری رتبہ کے حامل ) کی نامزدگی عمل میں لائی جائے گی۔ جناب محمد محمود علی نے کہا کہ حکومت تلنگانہ وقف بورڈ کو جوڈیشیل اختیارات فراہم کرنے کی ممکنہ کوشش کررہی ہے تاکہ اوقافی جائیدادوں کا مکمل تحفظ کیا جاسکے بلکہ اوقافی جائیدادوں پر غیر مجاز قبضوں کو بھی برخواست کروایا جاسکے۔ انہوں نے  بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں جملہ 33 ہزار اوقافی جائیدادیں پائی جاتی ہیں جن کے تحت 77 ہزار ایکر اراضیات بھی موجود ہیں۔

TOPPOPULARRECENT