Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کا مسئلہ تعطل کا شکار

تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کا مسئلہ تعطل کا شکار

صدارت کے مسئلہ پر حکومت اورحلیف میں عدم اتفاق کا شاخسانہ
حیدرآباد۔13 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کا مسئلہ تعطل کا شکار ہوچکا ہے اور چار نامزد ارکان کے سلسلہ میں حکومت نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت اور اس کی حلیف جماعت کے درمیان بورڈ کی صدارت کے مسئلہ پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا جس کے نتیجہ میں حکومت کی جانب سے نامزد کئے جانے والے ارکان کے ناموں کو قطعیت نہیں دی جاسکی۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت اور اس کی حلیف جماعت اس بات کی کوشاں ہے کہ بورڈ پر ان کا غلبہ رہے تاکہ فیصلوں کے وقت اختلاف رائے کی صورت میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ بورڈ کی تشکیل کے آغاز پر حکومت اور حلیف جماعت کے درمیان جو معاہدہ طے پایا اس کے مطابق بورڈ کی صدارت پر برسر اقتدار پارٹی کے رکن کو نامزد کیا جائے گا۔ اس کے لیے حکومت نے رکن قانون ساز کونسل جناب محمد سلیم کے نام کو قطعیت دی اور انہیں ارکان مقننہ کے زمرے میں رکن منتخب کرلیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ لمحہ آخر میں حلیف جماعت نے بورڈ کی صدارت پر اپنی دعویداری پیش کردی ہے جس کے نتیجہ میں بورڈ کی تشکیل کا معاملہ طوالت اختیار کرچکا ہے۔ حکومت کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو وقف بورڈ کو مقامی جماعت کے زیر کنٹرول کرنے کے حق میں نہیں ہیں لہٰذا وہ کم سے کم 50 فیصد ارکان حکومت کے حامیوں کو رکھنا چاہتے ہیں ۔ انتخابات کے چار زمرہ جات کے تحت جن چھ امیدواروں کا بلامقابلہ انتخاب عمل میں آیا ان میں حکومت کے دو ارکان شامل ہیں۔ رکن پارلیمنٹ، ارکان مقننہ، متولی اور بار کونسل زمرے میں مقامی جماعت کے چار امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے جبکہ حکومت کے تائیدی امیدوار ارکان مقننہ اور متولی و منیجنگ کمیٹی زمرے میں منتخب ہوئے ہیں۔ مقامی جماعت چاہتی تھی کہ سابق کی طرح متولی اور منیجنگ کمیٹی زمرے میں بھی ان کے تائیدی امیدوار منتخب ہوئے لیکن حکومت نے بورڈ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے اس زمرے میں بھی اپنا ایک امیدوار منتخب کرایا ہے۔ 10 رکنی وقف بورڈ میں مزید چار ارکان کی نامزدگی باقی ہے جن میں دو مذہبی اسکالرس، ایک خاتون اور ایک سرکاری عہدیدار شامل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی جماعت نے نامزد ارکان کے زمرے میں بھی اپنے ناموں کو پیش کیا تاکہ بورڈ پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جائے۔ تاہم حکومت اس زمرے میں اپنے تائیدی امیدواروں کو بورڈ میں شامل کرنا چاہتی ہے۔ اس مسئلہ پر حکومت اور حلیف جماعت میں اختلاف رائے پیدا ہوچکا ہے جس کے نتیجہ میں بورڈ کی تشکیل تعطل کا شکار ہوگئی۔ حکومت نے نامزد ارکان کی حیثیت سے اپنے ناموں کو قطعیت دے دی تھی لیکن حلیف جماعت کی جانب سے صدارت پر دعویداری کے بعد اس مسئلہ کو ٹال دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر اس مسئلہ کی یکسوئی نہیں ہوتی ہے تو حکومت عہدیدار مجاز اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے ذریعہ مزید کچھ دن کے لیے وقف بورڈ کو چلائے گی۔ واضح رہے کہ ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد حکومت نے بورڈ کی تشکیل کا فیصلہ کیا تھا تاہم بورڈ پر کنٹرول کے مسئلہ نے اختلاف رائے کو جنم لیا ہے۔ ان حالات میں قطعی طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ بورڈ کا آئندہ صدرنشین کون ہوگا۔ مقامی جماعت نے اپنی شرائط پر حکومت کو منوانے کی مہم کو تیز کردیا ہے۔ دوسری طرف نامزد ارکان کے تقرر کے بغیر بورڈ کو تعطل میں رکھنے کے سلسلے میں حکومت نے قانونی رائے حاصل کرلی ہے۔

TOPPOPULARRECENT