Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ کی صورتحال تباہ کن ‘ اعلی عہدیداروں کی مخصوص امور میں دلچسپی

تلنگانہ وقف بورڈ کی صورتحال تباہ کن ‘ اعلی عہدیداروں کی مخصوص امور میں دلچسپی

عہدیدار مجاز کی عدم موجودگی سے عوامی فائیلوں کی یکسوئی بند ‘ رمضان کی تیاریاں متاثر ہونے کا امکان
حیدرآباد/24مئی ( سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں کی تباہی اور وقف بورڈ کی کارکردگی کے متاثر ہونے کیلئے اکثر و بیشتر منتخبہ وقف بورڈ اور بعض عہدیدار قصوروار پائے گئے ہیں۔ تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کی موجودہ صورتحال تباہ کن ہے اور اعلیٰ عہدیداروں کی مخصوص اوقافی اُمور میں دلچسپی نے بورڈ کی کارکردگی کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ گذشتہ دو ماہ سے وقف بورڈ میں عہدیدار مجاز موجود نہیں اور سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل نے اس ذمہ داری کو اپنے طور پر خیرباد کہہ دیا۔ ایک طرف انہوں نے میعاد کی تکمیل کا بہانہ بناتے ہوئے عہدیدار مجاز کی حیثیت سے فائیلوں کی یکسوئی کا کام بند کردیا ہے تو دوسری طرف بعض مخصوص معاملات میں ان کی مداخلت اور دلچسپی بدستور جاری ہے۔ انہوں نے بظاہر حکومت کو نئے عہدیدار مجاز کے تقرر کی سفارش کی لیکن حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہ ملنے پر وہ درپردہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عہدیدار مجاز کی حیثیت سے فائیلوں کی یکسوئی بند کرنے کے بعد سے بورڈ میں سینکڑوں فائیلیں جمع ہوچکی ہیں جو یکسوئی کی منتظر ہیں ان میں کئی ایسی فائیلیں ہیں جن کی یکسوئی رمضان المبارک سے قبل ضروری ہے۔ رمضان سے قبل مساجد کمیٹیوں کی تشکیل کا کام مکمل نہ ہو تو مساجد کے انتظامات میں دشواری ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کو انتظامات کیلئے جاری کئے جانے والے فنڈز کی اجرائی میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ الغرض سکریٹری اقلیتی بہبود کی عدم دلچسپی اور مخصوص معاملات میں سرگرم رول نے مجموعی طور پر وقف بورڈ کی کارکردگی کو ٹھپ کردیا ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو صرف روزمرہ کے ضروری اُمور کی فائیلوں کی یکسوئی کا اختیار ہے اور وہ اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرسکتے۔ روزانہ عوام کی کثیر تعداد اور مساجد کمیٹیوں کے نمائندے وقف بورڈ پہنچ کر اپنی فائیلوں کے بارے میں استفسار کررہے ہیں لیکن بورڈ کے عہدیدار کوئی جواب دینے کے موقف میں نہیں۔ اطلاعات کے مطابق سکریٹری اقلیتی بہبود پر مقامی سیاسی جماعت کا عملاً کنٹرول ہے اور وہ ان کی سفارش کردہ فائیلوں کو طلب کرکے یکسوئی کررہے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایک طرف انہوں نے عہدیدار مجاز کی ذمہ داری چھوڑدینے کی بات کہی تو دوسری طرف وہ بعض فائیلوں کی یکسوئی عہدیدار مجاز اور بعض فائیلوں کی سکریٹری کی حیثیت سے یکسوئی کررہے ہیں۔ شہر میں اہم اوقافی اراضیات پر قابض مقامی سیاسی جماعت کے قائدین کے خلاف کارروائی کی بجائے انہیں بچانے کوشش کی جارہی ہے۔ اہم جائیدادوں کے سلسلہ میں جب کوئی نمائندگی کی جائے تو انہیں برفدان کی نذر کردیا جاتا ہے۔ عہدیدار مجاز کی حیثیت سے سکریٹری اقلیتی بہبود نے بعض انتہائی متنازعہ فیصلے کئے جو نہ صرف وقف بورڈ کیلئے نقصاندہ ثابت ہوئے بلکہ وقف بورڈ کے ملازمین میں موضوع بحث بن چکے ہیں۔ انہوں نے گذشتہ دو اسپیشل آفیسرس کی جانب سے متولیوں کے خلاف شروع کی گئی کارروائیوں میں سے ایک مخصوص متولی کے خلاف درج ایف آئی آر سے دستبرداری اختیار کرلی۔ دراصل یہ متولی ان سے قربت رکھنے والے ایک ریٹائرڈ عہدیدار کے بھائی ہیں لہذا پولیس کارروائی کا انتظار اور حقائق کا پتہ چلائے بغیر مقدمہ سے دستبرداری اختیار کرلی گئی۔ مذکورہ ریٹائرڈ عہدیدار سے قربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فینانس کارپوریشن میں عمر سے زیادہ خدمات انجام دینے کے سنگین الزامات کے باوجود مذکورہ ریٹائرڈ شخص کو اسکول سوسائٹی میں مامور کرنے میں اہم رول ادا کیا گیا۔ سکریٹری نے بعد میں یہ وضاحت کی کہ ایف آئی آر سے واپسی کے باوجود انہوں نے تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت دی لیکن وقف بورڈ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جب ایف آئی آر واپس لے لی جائے تو مقدمہ باقی کہاں رہے گا۔ اس طرح 150 سے زائد کارروائیوں میں صرف ایک مخصوص شخص سے ہمدردی عوام میں کئی سوال پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے شہر کی اہم درگاہ کے متولی کے تقرر میں بھی اپنے قریبی شخص کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے اُن کے رشتہ دار کو متولی مقرر کردیا۔

TOPPOPULARRECENT