Thursday , August 16 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ کے لیے حکومت کو نئے سی ای او کی تلاش

تلنگانہ وقف بورڈ کے لیے حکومت کو نئے سی ای او کی تلاش

چیرمین وقف بورڈ محمد سلیم کی محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں اور چیف منسٹر دفتر سے مشاورت
حیدرآباد۔ 22 فبروری (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کو نئے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی تلاش ہے اور اس سلسلہ میں صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلی عہدیداروں اور چیف منسٹر کے دفتر سے مشاورت کی ہے۔ موجودہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر منان فاروقی کی میعاد 22 مارچ کو ختم ہورہی ہے تاہم بورڈ کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے منان فاروقی نے اپنے متعلقہ محکمہ کو واپسی کا ارادہ ظاہر کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے تحریری طور پر محکمہ اقلیتی بہبود کو واقف کرایا کہ وہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی حیثیت سے خدمات جاری رکھنے تیار نہیں۔ منان فاروقی کو ایک سال کی مدت کے لیے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مقرر کرتے ہوئے 22 مارچ 2017 ء کو احکامات جاری کیئے گئے تھے۔ وہ لا ڈپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ سکریٹری کے عہدے پر فائز ہیں۔ ایک سالہ مدت کے دوران وقف بورڈ میں کئی تنازعات پیدا ہوئے اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی حیثیت سے منان فاروقی قابو پانے سے قاصر رہے۔ ان کی دستخط سے جاری کردہ جعلی این او سی کا معاملہ بھی پولیس تحقیقات میں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صدرنشین اور بورڈ کے کئی ارکان نئے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے تقرر کے حق میں ہیں تاکہ بورڈ میں جاری بے قاعدگیوں پر قابوپایا جاسکے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھررائو نے اقلیتی بہبود کے جائزہ اجلاس میں اوقافی امور پر غیر اطمینان بخش جواب دینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وقف بورڈ کے دفتر کو مہربند کردیا تھا۔ چیف منسٹر کی ناراضگی اور اس کارروائی کے لیے سی ای او اور دیگر عہدیداروں کو ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے جو اس وقت جائزہ اجلاس میں موجود تھے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود دانا کشور کے جائزہ اجلاس اور پھر ایوان کی کمیٹی کے اجلاس میں بھی وقف بورڈ کی کارکردگی پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔ منان فاروقی سے بورڈ کے ماتحت عہدیداروں اور ملازمین کے عدم تعاون رویہ کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی اور بورڈ کا کام کاج بری طرح متاثر ہوا ہے۔ بورڈ کے عہدیدار اور ملازمین کو اس بات پر ناراضگی ہے کہ منان فاروقی نے ملازمین کے تقررات میں بے قاعدگیاں اور ایک ہی خاندان کے کئی افراد کی موجودگی جیسے امور کا انکشاف کرتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کی تھی۔ ان کی رپورٹ کی بنیاد پر حکومت کارروائی کی تیاری کررہی ہے۔ بورڈ میں نااہل عہدیدار اہم عہدوں پر فائز ہیں اور 80 تا 90 ہزار روپئے ماہانہ تنخواہ حاصل کررہے ہیں۔ ڈرائیورس کی تنخواہ 60 ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔ بورڈ میں گاڑیوں سے زیادہ ڈرائیورس موجود ہیں۔ ان تمام بے قاعدگیوں کو منان فاروقی نے رپورٹ کی شکل میں حکومت کو پیش کیا تھا بتایا جاتا ہے کہ بعض درگاہوں کے انتظامات کو آکشن کے بغیر نامنیشن کی بنیاد پر حوالے کرنے کے معاملہ میں حکومت نے تحقیقات کا فیصلہ کیا۔ لیکن چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے اس وقت کے سکریٹری اقلیتی بہبود کو درکار مواد فراہم کرنے میں تاخیر کی۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی متنازعہ فیصلوں کے سلسلہ میں سی ای او اور ایک مخصوص رکن کے رول پر وقف بورڈ میں مباحث جاری ہیں۔ صدرنشین محمد سلیم بورڈ کی کارکردگی میں شفافیت کے خواہاں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کسی آئی پی ایس رتبے کے عہدیدار کو بورڈ میں تعینات کیا جائے تاکہ کنٹرول رہے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے عہدے کے لیے ڈپٹی سکریٹری رینک کے عہدیدار کی ضرورت ہے۔ لیکن سکریٹریٹ میں یہ رینک کے مسلم عہدیدار موجود نہیں۔ دیگر عہدیداروں میں کوئی بھی وقف بورڈ میں کام کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اسی دوران بورڈ کا اجلاس ہفتے کو طلب کیا گیا ہے جس میں امکان ہے کہ کئی اہم فیصلے ہوںگے۔ ایجنڈے میں 80 سے زائد امور شامل کیے گئے ہیں۔ اگر حکومت خدمات سے سبکدوشی سے متعلق منان فاروقی کی درخواست قبول کرتی ہے تب بھی نئے عہدیدار کی تلاش کے لیے وقت لگ سکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT