Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ کے پچاس فیصد ملازمین احکام تقرر پیش کرنے میں ناکام

تلنگانہ وقف بورڈ کے پچاس فیصد ملازمین احکام تقرر پیش کرنے میں ناکام

تعلیمی اسناد کی بھی عدم فراہمی ، بورڈ کی مہلت ختم ، بعض ملازمین کے بہانے
حیدرآباد ۔ 25۔ ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں غیر مجاز اور غیر قانونی انداز میں تقررات کی روک تھام کیلئے ملازمین اور عہدیداروں سے تقرر کے احکامات اور تعلیمی اسنادات طلب کئے گئے تھے، جس کے ادخال کی آخری تاریخ آج ختم ہوگئی ۔ وقف بورڈ نے اپنے گزشتہ اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ بورڈ میں موجود تمام غیر قانونی تقررات کو ختم کردیا جائے گا ۔ اسی بنیاد پر تمام عہدیداروں اور ملازمین سے تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مہلت کے اختتام تک صرف 50 فیصد عہدیداروں اور ملازمین نے اپنے تقرر کے احکامات اور تعلیمی قابلیت کے اسناد داخل کئے جبکہ دیگر ملازمین کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر مزید وقت دینے کی اپیل کر رہے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ایسے ملازمین جن کے پاس تقرر یا پھر تعلیمی قابلیت کا کوئی ثبوت نہیں ہے ، وہ ٹال مٹول کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ ایسے ملازمین جن کے رشتہ دار وقف بورڈ میں برسر خدمت ہیں ، وہ بھی اپنے رشتہ داروں کو بچانے کیلئے سرگرم ہوچکے ہیں۔ ان حالات میں صدرنشین وقف بورڈ اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر پر مختلف گوشوں سے دباؤ بنایا جارہا ہے کہ وہ غیر قانونی تقررات کے خلاف کارروائی کے فیصلہ سے دستبرداری اختیار کرلیں۔ ملازمین کے سلسلہ میں اسمبلی کی کمیٹی میں جو رپورٹ پیش کی گئی تھی، اس پر کافی ہنگامہ ہوا ۔ حکومت نے بھی وقف بورڈ کے ملازمین اور ان کے تقررات کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کی ہے۔ بورڈ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 25 ستمبر تک تمام ملازمین اور عہدیداروں سے دستاویزات طلب کرتے ہوئے ان کی جانچ کی جائے گی۔ تقرر کے احکامات اور تعلیمی تربیت کے علاوہ ان کی موجودہ تنخواہ کی تفصیلات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔ بورڈ میں کئی ملازمین ایسے ہیں جو بنیادی قابلیت کے بغیر ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور 70 تا 80 ہزار روپئے ماہانہ تنخواہ حاصل کر رہے ہیں ۔ بورڈ کے مستقل عہدیداروں اور ملازمین میں گریجویٹ تک تعلیم یافتہ افراد کی تعداد انتہائی کم ہے ، زیادہ تر ملازمین ساتویں تا دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کئے ہیں لیکن وہ بورڈ سے بھاری تنخواہ حاصل کر رہے ہیں۔ ایسے ملازمین جو عارضی طور پر مقرر کئے گئے ، ان میں تعلیم یافتہ نوجوان ضرور ہیں لیکن ان میں کی اکثریت بورڈ کے کسی نہ کسی ملازم سے رشتہ داری کی صورت میں منظر عام پر آئی ہے ۔ اقربا پروری اور غیر قانونی تقررات کے اسکام سے پر وقف بورڈ موجودہ صورتحال سے کس طرح ابھر پائے گا، اس پر عام مسلمانوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں ۔ دیانتداری اور ایمانداری کے دعوے کرنے والے صدرنشین اور ارکان کیلئے یہ اسکام کسی چیلنج سے کم نہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ نے خود اعتراف کیا کہ 7 ملازمین ایسے پائے گئے جن کے پاس تقرر کے کوئی احکامات نہیں۔ لہذا انہیں تنخواہ کی اجرائی روک دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان ملازمین کی سرپرستی کرنے والے سینئر ملازمین اپنے رشتہ داروں کو برقرار رکھنے کیلئے چیف اگزیکیٹیو آفیسر پر مسلسل دباؤ بنا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر تقرر حاصل کرنے والے بیشتر ملازمین کو بورڈ کے بعض ارکان کی سرپرستی حاصل ہے کیونکہ سابقہ بورڈ میں ارکان کی سفارش پر ہی یہ تقررات کئے گئے تھے۔ ایک ریٹائرڈ عہدیدار جو ابھی بھی بورڈ میں برقرار ہے ، ان کے فرزند کا تقرر صرف چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے احکامات کے ذریعہ کیا گیا اور کوئی قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔ دستاویزات داخل کرنے کی مدت ختم ہونے کے بعد ملازمین میں بے چینی دیکھی جارہی ہے اور ایسے ملازمین جن کے تقررات میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ، انہیں اپنی برقراری کے سلسلے میں اندیشہ لاحق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بعض ارکان کے گھروں کے چکر کاٹتے ہوئے ان کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT