Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ و آندھرا پردیش میں ملازمین کی تقسیم کا مسئلہ مرکز کی مداخلت کا منتظر

تلنگانہ و آندھرا پردیش میں ملازمین کی تقسیم کا مسئلہ مرکز کی مداخلت کا منتظر

کمل ناتھن کمیٹی رپورٹ میں سینکڑوں غلطیاں ، سرینواس گوڑ ٹی آر ایس ایم ایل اے کا بیان
حیدرآباد ۔ 6 ۔  فروری (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی سرینواس گوڑ نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ ملازمین کی تقسیم کے سلسلہ میں فوری مداخلت کرے کیونکہ آندھراپردیش کی تقسیم کے 3 سال مکمل ہونے کو ہے لیکن ابھی تک ملازمین کی تقسیم کے سلسلہ میں قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں تلنگانہ ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے ۔ سرینواس گوڑ نے کہا کہ دونوں ریاستوں میں ملازمین کی تقسیم کا مسئلہ مرکز کی مداخلت کا منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمل ناتھن کمیٹی کی جانب سے مسئلہ کی یکسوئی میں تاخیر پر مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے نمائندگی کی جائے گی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملازمین کی تقسیم کے سلسلہ میں کمل ناتھن کمیٹی کی رپورٹ میں کئی غلطیاں کی گئی ہیں جس سے تلنگانہ ملازمین کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی ملازمتوں کی فراہمی کیلئے ملازمین کی تقسیم کا عمل مکمل کرنا ضروری ہے ۔ شیڈول 9 اور 10 میں موجود ملازمتوں کی تقسیم ابھی تک مکمل نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آپشن کے نام پر تلنگانہ میں خالی جائیدادوں پر آندھرائی ملازمین کے تقررات کئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے گورنر ای ایس ایل نرسمہن سے نمائندگی کی تھی کہ جس ریاست کے ملازمین ہیں انہیں اسی ریاست میں کام کرنا چاہئے ۔ آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو فوری تلنگانہ سے واپس کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ طویل جدوجہد کے بعد تلنگانہ ریاست حاصل ہوئی لیکن ملازمین کی تقسیم کے سلسلہ میں ابھی بھی ناانصافی کا رویہ برقرار ہے ۔ ملازمین کی تقسیم نہ ہونے کے سبب اختلافات مزید شدت اختیار کرسکتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ریاستوں کے درمیان خانگی بسوں کی آمد و رفت کے سلسلہ میں معاہدہ طئے کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے آپریٹرس قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تلنگانہ میں اپنی سرویسز چلا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش حکومت بس سرویسز کے سلسلہ میں معاہدہ کیلئے تیار نہیں۔ سرینواس گوڑ نے کہا کہ ملازمین کے مسائل اور خانگی بس سرویسز کے سلسلہ میں وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT