Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ و آندھرائی عوام کے خیرسگالی تعلقات کو برقراررکھاجائے

تلنگانہ و آندھرائی عوام کے خیرسگالی تعلقات کو برقراررکھاجائے

آندھراپردیش میں تعلیمی نصاب سے تلنگانہ کی تاریخ کو برقرار رکھنے کا مشورہ : میٹ کا بیان
حیدرآباد 30 اگسٹ (پریس نوٹ) میناریٹیز رائٹس پروٹیکشن کمیٹی (ایم آر پی سی) اور موؤمنٹ فار ایجوکیشن اینڈ اکنامک تلنگانہ نے اپنی ایک مشترکہ اپیل میں ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیاکہ آندھراپردیش کے تعلیمی نصاب سے تلنگانہ کی تاریخ اور تلنگانہ ورثہ سے متعلق مواد کو نصابی کتابوں سے حذف کرنے کی کوششوں کا آغاز ہوا ہے۔ جبکہ تلنگانہ کے عوام ایک عرصہ دراز تک آندھرا کے عوام کو نمایاں اہمیت دیتے ہوئے ان کے ساتھ خیرسگالی تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔ ایم آر پی سی اور میٹ (MEET) کے عہدیداران مسرس محمد انصاری، جناب سید امجد، سید علی الدین احمد اسد کے علاوہ جناب سید حمیدالدین احمد محمود نے کہاکہ فرقہ پرستی تنگ دلی علاقائی عصبیت کو تعلیمی نظام میں داخل ہونے نہیں دینا چاہئے کیوں کہ اس سے ایک اچھے شہری کے بنانے کا تعمیری رول ادا نہیں ہوسکتا۔ برخلاف اس کے مثبت سوچ و فکر کے ساتھ تلنگانہ عوام کے احسانات کو اُجاگر کرنا چاہئے تاکہ دونوں ریاستوں کے عوام کے مابین بالخصوص طلباء و نوجوانوں کے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ 1956 ء سے 2015 ء تک بلکہ تلنگانہ کے وجود میں آنے کے بعد بھی تلنگانہ میں رائل سیما اور آندھرا کے عوام کا ایک بڑا طبقہ پورے اطمینان کے ساتھ سانس لے رہا ہے۔ اس کے باوجود آندھراپردیش حکومت کا یہ طرز عمل دونوں ریاستوں کے عوام کے مابین رشتوں میں دراڑ پیدا کرنے، تعلقات کو بگاڑنے کا موجب ثابت ہوگا۔ اس سلسلہ میں دونوں ریاستوں کے مشترکہ گورنر پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کی کسی بھی سازش کو ناکام بنانے اپنے دستوری حقوق کا سہارا لیں اور کسی بھی طرح کی منافرت پھیلانے کی کوششوں کو کامیاب ہونے نہ دیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ابھی بھی تلنگانہ کی کئی اہم یونیورسٹیوں (جامعات) میں آندھرا کے قابل لحاظ تعداد طلباء و طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اور اس طرح کی آندھراپردیش حکومت کی کوششیں خود ان کی ریاست کے عوام کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ ایک فراخدل وسیع النظر وسیع القلب حکمراں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ بہت ہی قلیل عرصہ میں تلنگانہ کے احسانات کو فراموش کردیں جبکہ وہ تلنگانہ میں بھی تلگودیشم کو مقبول بنانے کے دعوؤں سے بھی ابھی دستبردار نہیں ہوئے۔ ان حالات میں خود ان کی تلگودیشم پارٹی کا تلنگانہ میں وجود خطرہ میں پڑسکتا ہے۔ ان حالات میں یہ لازم ہے کہ نصابی کتابوں میں صرف فرقہ وارانہ ہم آہنگی، قومی یکجہتی تاریخ کے صحیح ابواب کو شامل کیا جائے تاکہ حکمرانی کے فرائض انصاف پر مبنی ہو۔

TOPPOPULARRECENT