Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ و مہاراشٹرا کے درمیان معاہدہ میں چالیس ہزار کروڑ کا اسکام

تلنگانہ و مہاراشٹرا کے درمیان معاہدہ میں چالیس ہزار کروڑ کا اسکام

ریاست کے مفادات کو نقصان، عوام سے معذرت کے بجائے جشن، ٹی جیون ریڈی کا الزام
حیدرآباد ۔ 12 مارچ (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن اسمبلی مسٹر ٹی جیون ریڈی نے کہا کہ مہاراشٹرا سے معاہدوں کے پیچھے 40 ہزار کروڑ روپئے کا اسکام ہوا ہے۔ بلندی کی سطح گھٹاتے ہوئے تلنگانہ کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے بعد عوام سے معذرت خواہی کرنے کے بجائے جشن منایا گیا ہے۔ اسمبلی کے میڈیا پوائنٹ پر خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ڈپٹی فلورلیڈر مسٹر ٹی جیون ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کے مفادات کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی تائید کرتے ہوئے ہمیشہ کانگریس پارٹی اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرے گی۔ تاہم غلط کام اور فیصلے کرنے پر تنقید کرتے ہوئے عوام کے سامنے حکومت کو جھنجھوڑنے، خفیہ کاموں کو منظرعام پر لانے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ریاست مہاراشٹرا سے کانگریس کے دورحکومت کے دوران 5 مئی 2012ء کو اس وقت کے چیف منسٹر مسٹر پرتھیوراج چوہان نے دریائے گوداوری 152 میٹر کی بلندی پر پراجکٹ تعمیر کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے تھے اور اس وقت پراجکٹ کی لاگت 36 ہزار کروڑ روپئے تھی۔ کاموں کا آغاز بھی ہوچکا تھا۔ ٹی آر ایس حکومت مہاراشٹرا سے 154 میڈیا اس سے زیادہ بلندی پر پراجکٹ تعمیر کرنے کا معاہدہ کرتی تو اس کو تاریخی فیصلہ قرار دیا جاسکتا تھا اور ٹی آر ایس کا جشن منانا بھی واجبی تھا۔ تاہم چیف منسٹر تلنگانہ نے پراجکٹ کی بلندی میں 4 میٹرکی کمی کرتے ہوئے مہاراشٹرا کے مفادات کو فائدہ اور تلنگانہ کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے اور تلنگانہ کے عوام کو گمراہ کرنے کیلئے بہت بڑا جشن منایا گیا ہے جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے 10 سالہ دورحکومت کے دوران تعمیر کردہ کئی پراجکٹس آخری مراحل میں ہیں۔ ان کی تکمیل سے کانگریس کو اعزاز حاصل ہونے کے خوف سے حکومت ان پراجکٹس کے تعمیری کاموں کو زیرالتواء رکھا ہے۔

TOPPOPULARRECENT