تلنگانہ پر دیڑھ لاکھ کروڑ روپئے کے قرض کا بوجھ

ایک سال میں 11,138 کروڑ روپئے سود کی ادائیگی، ہر شہری 61000 کا مقروض
حیدرآباد۔/21فبروری، ( سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ قرض کے دلدل میں پھنستی جارہی ہے۔ 2014 میں 70 ہزار کروڑ روپئے کا قرض ریاست کو ورثے میں ملا تھا اور 4سال میں دیڑھ لاکھ کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ نے تلنگانہ کے ہر شہری کو فی کس 61 ہزار روپئے کا مقروض بنادیا ہے۔ گذرتے دن کے ساتھ ریاست تلنگانہ پر قرض کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت نے جاریہ سال ان قرض پر 11,138 کروڑ روپئے کا سود ادا کیا ہے۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے موقع پر آبادی کے تناسب سے ہر چیز کا دونوں تلگو ریاستوں میں بٹوارہ ہوا تھا اور آزادی کے بعد سے جو قرض حاصل کیا گیا تھا وہ تلنگانہ کے ورثے میں 70ہزار کروڑ روپئے قرض آیا تھا۔ حکومت تلنگانہ آبپاشی پراجکٹس و دیگر تعمیری و فلاحی کاموں کیلئے ابھی تک 87,091 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف کارپوریشن سے مزید 65 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ہے اس طرح مجموعی طور پر ریاست تلنگانہ پر 2 لاکھ کروڑ کا قرض عائد ہوگیا یہ۔ سود کے طور پر حکومت سالانہ11,138 کروڑ روپئے ادا کررہی ہے۔ حکومت نے زرعی سرمایہ کاری کی نئی اسکیم کا آعاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس سے قرض کے بوجھ میں مزید اضافہ ہوجانے کا امکان ہے۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس حکومت نے پہلے سال 9 ہزار کروڑدوسرے سال 18ہزار کروڑ، تیسرے سال 35ہزار کروڑ چوتھے جاریہ سال 2017 ڈسمبر تک 24ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا تھا۔ ان قرضوں میں اگر ورثہ میں حاصل ہوئے 70 ہزار کروڑ روپئے جمع کرلیا جائے تو اس کی قدر 1.56 لاکھ کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ اس کے ساتھ برقی پیداوار اور تقسیم ے نشانے کو حاصل کرنے کیلئے مرکز کی جانب سے متعارف کردہ اودئے اسکیم میں شامل ہونے سے 8,923 کروڑ کا ڈسکام قرض سرکاری خزانے پر عائد ہوگیا۔ کارپوریشن کے ذریعہ قرض کی حصولی میں ریاست تلنگانہ نے کافی جوشو خروش کا مظاہرہ کیا جس سے قرض کا بوجھ ریاست پر بڑھتا چلا گیا۔ جاریہ سال مشن بھگیرتا، کالیشورم پراجکٹ اور ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیرات کیلئے مختلف بینکوں سے تقریباً 65 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا۔ ملک کی تمام ریاستوں کو ایف آر بی ایم قانون کے تحت قرض حاصل کرنا پڑتا ہے۔ ریاست کی جی ایس ڈی پی میں 3.25 فیصد تک قرض حاصل کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ فاضل بجٹ رکھنے والی ریاستوں میں تلنگانہ کا شمر ہونے پر مرکز نے تلنگانہ کو مزید 0.25 فیصد قرض حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، جس سے جاریہ مالیاتی سال 26ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کیلئے حکومت نے ضمانت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف بی آر ایم کے حدود سے بچنے کیلئے حکومت نے کارپوریشنس کے نام سے قرض حاصل کیا ہے۔ مشن بھگیرتا کی تکمیل کیلئے تلنگانہ اسٹیٹ واٹرگرڈ کارپوریشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ پہلی مرتبہ آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات کیلئے کارپوریشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ کالیشورم لفٹ اریگیشن کارپوریشن، پالمور رنگاریڈی لفٹ اریگیشن اتھاریٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ کالیشورم پراجکٹ کارپوریشن نے 24 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے۔ دیواولہ، سیتارام پراجکٹ کیلئے کارپوریشن قائم کرنے فائیل تیار کی گئی ہے۔مشن بھگیرتا کیلئے 44 ہزار کروڑ روپئے کا تخمینہ تیار کیا گیا ہے۔ بجٹ میں اس کیلئے کوئی رقمی منظوری نہیں دی گئی۔ قرضوں کے ذریعہ 90فیصد کام مکمل کیا گیا۔ ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیرات کیلئے حکومت نے بجٹ میں کوئی گنجائش فراہم نہیں کی ہڈکو سے 10ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا۔ قرض پر سود میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے۔ ابیھ تک جاریہ سال 11.138 کروڑ روپئے سود ادا کیا گیا۔ آئندہ خریف سیزن سے زرعی سرمایہ کاری اسکیم کا آغاز کرنے پر سود 12 ہزار کروڑ روپئے سالانہ ادا کرنے کی نوبت آجائے گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT