Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ پر رقومات کی اجرائی میں مرکز کا معاندانہ رویہ

تلنگانہ پر رقومات کی اجرائی میں مرکز کا معاندانہ رویہ

کنٹراکٹ ‘ آنگن واڑی و آوٹ سورسنگ ملازمین کو بروقت تنخواہیں : ای راجندر کا بیان
حیدرآباد 29 اگست ( سیاست نیوز) وزیر فیناس ای راجندر نے مرکزی حکومت پر تلنگانہ کو رقومات کی اجرائی میں معاندانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا اور وقت آنے پر مرکز کے خلاف سخت اقدام کا انتباہ دیا ۔ آج اعلیٰ عہدیداران محکمہ فینانس کے ساتھ منعقدہ جائزہ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر فینانس نے کہا کہ ریاست کو درپیش بعض مالی مسائل کی یکسوئی کیلئے حکومت تلنگانہ مرکز سے اپنی جدوجہد رکھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت ریگولر سرکاری ملازمین کے خطوط پر آوٹ سورسنگ ، کنٹراکٹ ، آنگن واڑی ، دوپہر کے کھانے کی اسکیم سے وابستہ ورکرس اور ہوم گارڈز کو ہر ماہ تنخواہ مقررہ وقت پر دینے کے اقدامات کررہی ہے ۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت کی تشکیل کے بعد چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے متعدد مرتبہ حکام کو ہدایت دی تھی کہ کم تنخواہ یاب ملازمین کو تنخواہیں جاری کی جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ آوٹ سورسنگ ملازمین کی تنخواہوں کیلئے بجٹ میں 435 کروڑ روپئے مختص کر کے چار ماہ کے دوران 217 کروڑ روپئے ۔ آنگن واڑی ورکرس کیلئے 356 کروڑ میں مختص کر کے 178 کروڑ روپئے ہوم گارڈز کیلئے جملہ 200 کروڑ روپئے مختص کر کے 101 ، 107 کروڑ روپئے جاری کردئیے گئے ۔ وزیر فینانس نے کہا کہ مشن کاکتیہ کیلئے 2000 کروڑ روپئے بجٹ میں مختص کرکے 1307 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ آروگیہ شری اسکیم کیلئے 323 کروڑ روپیوں کے منجملہ 161 کروڑ روپئے ، اسکالر شپس اور فیس ری ایمبرسمنٹ کیلئے 2952 کروڑ روپئے مختص کر کے 789 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش میں سال 2013 کے فیس ری ایمبرسمنٹ بقایا جات سے متعلق 2014-15 میں جملہ 3000 ہزار کروڑ روپئے جاری کئے گئے اور سال 2014-15 کیلئیے 789 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے تلنگانہ کیلئے بجٹ رقومات میں کٹوتی کے باوجود حکومت تلنگانہ فلاح و بہبودی اسکیمات پر عمل کررہی ہے ۔ پنشن کیلئے 3866 کروڑ روپئے مختص کرکے 2306 کروڑ روپئے سبسیڈی کیلئے 695 کروڑ روپیوں کے منجملہ 168 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ مسٹر راجندر نے کہا کہ کم شرح سود پر قرض دینے کی صورت میں ہی ورلڈ بینک سے حکومت تلنگانہ قرض حاصل کرے گی ۔

TOPPOPULARRECENT