Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ پر کانگریس کا وعدہ مکمل ، دیگر جماعتوں پر انحراف کا الزام

تلنگانہ پر کانگریس کا وعدہ مکمل ، دیگر جماعتوں پر انحراف کا الزام

ٹی آر ایس کے کانگریس میں انضمام سے منحرف ہونے پر اظہار حیرت ، ڈگ وجئے سنگھ کی پریس کانفرنس

ٹی آر ایس کے کانگریس میں انضمام سے منحرف ہونے پر اظہار حیرت ، ڈگ وجئے سنگھ کی پریس کانفرنس

حیدرآباد ۔ 14 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ مسئلہ پر سیاسی قائدین اپنے مفادات کے تئیں اقدامات کررہے ہیں کانگریس نے عوام سے کئے گئے وعدے کو پورا کیا جب کہ دیگر جماعتیں منحرف ہوگئیں ۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی جنرل سکریٹری مسٹر ڈگ وجئے سنگھ نے شہر میں منعقدہ ’ میٹ دی پریس ‘ سے خطاب کے دوران یہ بات کہی ۔ انہوں نے تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی جانب سے تشکیل تلنگانہ پر انضمام کے وعدے سے انحراف کئے جانے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم سے قبل مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے متعدد مرتبہ یہ اعلان کیا تھا لیکن اب جب کہ ریاست تقسیم ہوچکی ہے تو وہ منحرف ہوچکے ہیں ۔ جنرل سکریٹری آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے کہا کہ کانگریس 2014 انتخابات کے متعلق دکھائے جانے والے اوپنین پول پر فکر مند نہیں ہے چونکہ 100 کروڑ کی آبادی والے ملک میں ہزار لوگوں کی رائے کے ذریعہ پیش کئے جانے والے سروے قابل اعتبار نہیں ہوتے ۔ مجوزہ انتخابات میں کانگریس اتحادیوں کو ہی کامیابی حاصل ہوگی ۔ مسٹر ڈگ وجئے سنگھ نے اروند کجریوال کو ایک سماجی کارکن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا طرز کارکردگی اور ان کے ریمارک ڈکٹیٹر شپ کی راہ کا انتخاب کرنے کے مطابق ہوتے ہیں ۔ انہوں نے ممتا بنرجی اور انا ہزارے کے درمیان پیدا ہونے والی دوریوں کے متعلق کہا کہ وہ انا ہزارے کو قریب سے جانتے ہیں اور سیاسی عزائم رکھنے والے لوگ انا ہزارے کا استحصال کررہے ہیں ۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس یا کسی اور جماعت سے انتخابی مفاہمت کے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ کانگریس اس مسئلہ پر غور کررہی ہے اور کانگریس قائدین اس کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ہی قطعی فیصلہ کریں گے ۔ انہوں نے پون کلیان سے بھی اتحاد کے امکانات کو مسترد نہیں کیا ۔ ڈگ وجئے سنگھ کے ہمراہ اس موقعہ پر تلنگانہ پردیش کانگریس صدر مسٹر پنالہ لکشمیا ، مسٹر اتم کمار ریڈی اور مسٹر روی کانت ریڈی صدر حیدرآباد پریس کلب موجود تھے ۔ انچارج برائے امور آندھرا پردیش کانگریس نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ملاقات کے اس پروگرام کے دوران جگن موہن ریڈی کو آج بھی کانگریس کا ڈی این اے قرار دیتے ہوئے استفسار کیا کہ جب انہوں نے انہیں اپنا ڈی این اے کیا تو کیا جگن نے آج تک اس بات کی تردید کی ؟

انہوں نے کہا کہ جگن اس بات کی بھی تردید نہیں کرسکتے کہ ان کے والد ، دادا اور چچا کے علاوہ خود وہ بھی کانگریس کے ٹکٹ پرمنتخب ہوئے ہیں ۔ مسٹر سنگھ نے بتایا کہ ریاست کی تقسیم کا فیصلہ کوئی عجلت میں نہیں کیا گیا بلکہ اس فیصلہ سے قبل متعدد مرتبہ مشاورت کی گئی اور رائے حاصل کرنے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ علحدہ ریاست کے لیے تحریک چلانے والوں کا کانگریس احترام کرتی ہے اور تلنگانہ کے لیے جان کی قربانی دینے والوں کے افراد خاندان کے متعلق کانگریس سنجیدگی سے غور کررہی ہے اور اس کا اعلان منشور میں کیا جائے گا ۔ کرن کمار ریڈی اور کے سی آر پر بالواسطہ دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سیاست کررہے ہیں ۔ مرکزی وزیر فینانس مسٹر پی چدمبرم کی جانب سے انتخابات میں حصہ نہ لینے کے اعلان کے متعلق انہوں نے کہا کہ کانگریس کے تمام قائدین پارٹی ہائی کمان کی ہدایات کے پابند ہیں اور انہیں امید ہے کہ پارٹی انہیں امیدوار بناتی ہے تو وہ انکار نہیں کریں گے ۔ انہوں نے ریاست کی تقسیم کو عوام کے حق میں قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ریاستوں کی ترقی کے لیے مرکز نے بہترین منصوبہ تیار کیا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ منقسم آندھرا پردیش یعنی سیما ۔ آندھرا علاقوں میں قومی اداروں کے قیام کے علاوہ خطہ کو خصوصی موقف دیا جانا اس علاقہ کی ترقی کی ضمانت ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ خطہ سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمان مباحث میں حصہ لیتے ہوئے مراعات حاصل کرسکتے تھے لیکن انہیں افسوس ہے کہ ایسا نہیں ہوپایا ہے ۔ کانگریس نے حکومت آندھرا پردیش سے اس بات کی بھی اپیل کی ہے کہ وہ تحریک تلنگانہ میں حصہ لینے والوں کے خلاف درج مقدمات کا جائزہ لیں تاکہ ان سے دستبرداری اختیار کی جاسکے ۔ کانگریس دونوں ریاستوں میں تمام ارکان اسمبلی و پارلیمان کی نشستوں پر مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور 28 مارچ تک تمام امور کو مکمل کرلیا جائے گا ۔ اس موقعہ پر انہوں نے سیاسی جماعتوں کی جانب سے ریاست کی تقسیم کے متعلق اختیار کردہ موقف سے لمحہ آخر میں انحراف کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ مسٹر ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ کانگریس تمام سیاسی امور کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے قائدین کو اعتماد میں لے کر انتخابات میں جائے گی ۔ انہوں نے جانا ریڈی کی ناراضگی کی اطلاعات کو مسترد کردیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT