Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ چیف منسٹر کے 100 دن ، وزراء کے لیے چیالنج

تلنگانہ چیف منسٹر کے 100 دن ، وزراء کے لیے چیالنج

سرزنش سے تشویش ، رپورٹس کی طلبی ، وزارت پر برقراری کے لیے کارکردگی پر انحصار

سرزنش سے تشویش ، رپورٹس کی طلبی ، وزارت پر برقراری کے لیے کارکردگی پر انحصار
حیدرآباد۔/12ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت نے 100دن مکمل کرلئے لیکن سو دن کی یہ مدت وزراء کیلئے چیلنج بن چکی ہے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اپنے تمام کابینی رفقاء کی کارکردگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ سو دن کی کارکردگی کی بنیاد پر ہی ان کی وزارت میں برقراری یا قلمدان میں تبدیلی جیسے فیصلے کئے جاسکتے ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی جانب سے وزراء کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹس کی طلبی نے وزراء میں بے چینی پیدا کردی ہے اس کے علاوہ گزشتہ دنوں ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر صحت ڈاکٹر ٹی راجیا کی برسرعام سرزنش نے بھی وزراء میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ورنگل کے دورہ کے موقع پر چندر شیکھر راؤ نے جلسہ عام میں ڈپٹی چیف منسٹر راجیا کے انداز کارکردگی پر نکتہ چینی کی تھی اور انہیں فوری اصلاح کی ہدایت دی۔ اس سے قبل وزیر فینانس ای راجندر بھی چیف منسٹر کی ناراضگی کا شکار ہوچکے ہیں۔ گزشتہ 100دن کے دوران دو ریاستی وزراء چیف منسٹر کی ناراضگی کا سامنا کرچکے ہیں جس کے باعث دیگر وزراء میں بھی عدم تحفظ کا احساس دیکھا جارہا ہے۔ چیف منسٹر کے دفتر کے ذرائع کے مطابق چندر شیکھر راؤ نے موجودہ وزراء کی کارکردگی اور انہیں تفویض کردہ قلمدانوں کے کام کاج کے بارے میں مختلف ذرائع سے رپورٹ طلب کی ہے۔ متعلقہ محکمہ جات کی کارکردگی کے علاوہ وزراء نجی اور دیگر اضافی سرگرمیوں کے بارے میں بھی چیف منسٹر وقتاً فوقتاً معلومات حاصل کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وزراء کے سکریٹریٹ میں موجود دفاتر اور ان کی قیامگاہوں پر جاری سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جارہی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سرکاری کام کاج میں غیر متعلقہ افراد کی مداخلت نہ ہو۔ دو اہم وزراء کے ساتھ چیف منسٹر کے تلخ تجربہ نے دیگر وزراء کو بھی چوکس کردیا ہے اور وہ اپنے محکمہ جات سے متعلق فیصلوں میں انتہائی محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اکثر و بیشتر وزراء کسی بھی اہم مسئلہ سے متعلق فائیل کو راست طور پر چیف منسٹر سے رجوع کرنے میں بھی عافیت محسوس کررہے ہیں تاکہ چیف منسٹر کی رائے حاصل کرنے کے بعد ہی فیصلہ کیا جاسکے۔ تمام اہم محکمہ جات سے متعلق فائیلیں چیف منسٹر سے صلاح و مشورہ کیلئے رجوع کی جارہی ہیں۔ وزارت کی تشکیل کے بعد چندر شیکھر راؤ نے وزرا ء پر واضح کردیا تھا کہ وہ سرکاری کام کاج میں کسی بھی بے قاعدگی کو برداشت نہیں کریں گے اور سابق حکومتوں کی طرح سرکاری اسکیمات میں کوئی خامی یا بدعنوانی نہیں ہونی چاہیئے۔ بتایا جاتا ہے کہ سو دن کی کارکردگی کو لے کر مختلف وزراء اندیشوں کا شکار ہیں کہ آیا امکانی کابینی توسیع میں انہیں برقرار رکھا جائیگا یا نہیں۔ لوک سبھا میدک کے ضمنی چناؤ کے بعد چیف منسٹر اپنی کابینہ میں توسیع کا منصوبہ رکھتے ہیں اگرچہ قریبی ذرائع کے مطابق چیف منسٹر صرف وزراء کی تعداد میں اضافہ کریں گے لیکن بعض قائدین کا ماننا ہے کہ بعض ایسے وزراء کے قلمدان تبدیل کئے جاسکتے ہیں جن کی کارکردگی سے چیف منسٹر مطمئن نہیں۔ فی الوقت ریاستی کابینہ میں چیف منسٹر کے علاوہ 11وزراء شامل ہیں اور تلنگانہ اسمبلی کی تعداد کے اعتبار سے 18رکنی کابینہ تشکیل دی جاسکتی ہے۔ کابینہ میں توسیع کے موقع پر جن قائدین کی شمولیت کی پیش قیاسی کی جارہی ہے ان میں کھمم کے طاقتور قائد تملا ناگیشور راؤ کے علاوہ جوپلی کرشنا راؤ ( محبوب نگر ) اور سابق صدر تلنگانہ گزیٹیڈ آفیسرس اسوسی ایشن پی سرینواس گوڑ کے نام شامل ہیں ۔ سرینواس گوڑ حالیہ اسمبلی انتخابات میں حلقہ اسمبلی محبوب نگر سے منتخب ہوئے ہیں۔ فی الوقت ریاستی کابینہ میں درج فہرست اقوام اور خواتین کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ بتایا جاتاہے کہ چیف منسٹر کابینہ میں توسیع کے موقع پر ایک اور مسلم چہرہ کی شمولیت کے خواہاں ہیں تاکہ اقلیتی بہبود کا قلمدان حوالے کیا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT